رضیہ مقبول
یہ کوئی نعرہ نہیں یہ امت کے نوجوان کے لئےایک امانت ہے۔ یہ محض جذباتی جملہ نہیں بلکہ قرآن، سیرت اور تاریخ اسلاف سے جنم لینے والا ایک زندہ مطالبہ ہے۔ اسلام نے نوجوان کو طاقت دی مگر ظلم کے لئے نہیں، غیرت عطا کی مگر جاہلیت کے لئے نہیں، قوت بخشی مگر کمزوروں کو روندنے کے لئے نہیں بلکہ عورت، بہن، بیٹی اور ماں کے تحفظ کے لئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان ذمہ داری کا نام بنتا ہے اور غیرت عبادت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔
قرآن ہمیں ایک ایسی بہن کا تعارف کراتا ہے، جس نے تاریخ انسانیت میں خاموش غیرت کی مثال قائم کی۔ حضرت ِموسیٰ علیہ السلام کی بہن نہ کوئی نعرہ، نہ کوئی شور، نہ کوئی دعویٰ، بس بیدار شعور اور زندہ دل۔’’وَقَالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ‘‘(موسیٰ کی ماں نے) اس کی بہن سے کہا،’’اس کے پیچھے پیچھے چلی جاؤ۔‘‘یہ کوئی عام پیچھا کرنا نہ تھا،یہ ایک بہن کا اپنے بھائی کی جان، اس کے مستقبل اور اس کی نبوت کی حفاظت کے لیے اٹھایا گیا قدم تھا۔ وہ دور سے دیکھتی رہی، خاموش رہی مگر غافل نہ ہوئی۔ یہی تو وہ نکتہ ہے جہاں تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب بہن میں غیرت بیدار ہو تو اُمت بچتی ہے اور جب بھائی میں شعور زندہ ہو تو بہن محفوظ ہوتی ہے۔اسلامی معاشرے میں بھائی اور بہن ایک دوسرے کا سایہ ہیں۔ بھائی اگر کردار کا حامل ہو تو بہن عزت کے حصار میں ہوتی ہے اور بہن اگر حیا و وقار کی پیکر ہو تو بھائی کی غیرت زندہ رہتی ہے۔
اسی حقیقت کو صدیوں پہلے ایک جملے میں سمیٹ دیا گیا تھا کہ الاخُ سِتْرٌ لأُخْتِهِ، فإذا سَقَطَ السِّتْرُ انكَشَفَ العارُ۔بھائی بہن کے لیے پردہ ہے اور جب پردہ گِر جائے تو رسوائی کھل جاتی ہے۔ یہ پردہ کپڑے کا نہیں کردار کا ہوتا ہے اور جب کردار ڈَھ جائے تو شور پردہ نہیں بن سکتا۔ سیدنا جابر بن عبد اللہؓ کا واقعہ نوجوانوں کے لیے آئینہ ہے۔ آپؓ جوان تھے، زندگی سامنے تھی، نکاح کا وقت آیا مگر آپؓ نے کنواری لڑکی کے بجائے بیوہ عورت سے نکاح کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو عرض کیا،’’ یا رسول اللہؐ!میرے والد شہید ہو گئے، میرے ذمہ میری بہنوں کی ذمہ داری تھی، مجھے ایسی عورت چاہیے تھی جو ان کی تربیت، نگرانی اور خدمت کر سکے۔ یہ تھا بھائی کا کردار، خواہش کو پیچھے رکھنا، ذمہ داری کو آگے بڑھانا اور بہنوں کے مستقبل کو اپنی ذات پر ترجیح دینا۔ یہی وہ فیصلہ ہوتا ہے جو نوجوانی کو عظمت عطا کرتا ہے۔ قرآن سیدہ مریم ؑ’’یا أختَ ہارون‘‘ کہہ کر پکارتا ہے۔ یہ محض تعارف نہیں یہ اعلان ہے کہ عورت کی شناخت صرف اس کی ذات سے نہیں بلکہ اس کے خاندان، اس کے ماحول اور اس کے بھائی کے کردار سے جڑی ہوتی ہے۔ جب بھائی صالح ہو تو بہن کی عزت کو دلیل کی ضرورت نہیں رہتی، وہ خود بولتی ہے۔ وہی عورت کو احساس دیا گیا کہ جاہل قوم آپ کو بنیاد بنا کر کیسے آپ کو اور آپ کے بھائی اور والدین کو نشانہ بناتے ہیں۔سیدنا ابراہیم ؑکا وہ عظیم واقعہ بھی اسی حقیقت کو مضبوط کرتا ہے، جب ظالم بادشاہ کے سامنے اپنی زوجہ سارہؑ کے بارے میں فرمایا،’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ یہ جھوٹ نہ تھا، یہ ایمانی رشتہ تھا، یہ غیرت تھی، یہ حکمت تھی، یہ عورت کے تحفظ کے لئے نبی کی تدبیر تھی۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام میں عورت کی عزت بچانے کے لئے عقل، حکمت اور جرأت تینوں ایک ساتھ کھڑی ہوتی ہیں اور رسول اللہؐ کا اسوہ تو غیرت کو رحمت میں بدل دیتا ہے۔ جب آپؐ اپنی دودھ شریک بہن سیدہ شیماؓ سے ملے تو اپنی چادر بچھا دی، عزت دی، محبت دی اور فرمایا،’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ یہاں بہن محض رشتہ نہیں رہتی بلکہ رحمت کا سبب بن جاتی ہے۔
اسلاف کے اقوال بھی اسی راستے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سیدنا عمرؓ کا یہ جملہ آج بھی دل پر ضرب لگاتا ہے کہ’’جس قوم کے مرد غیرت چھوڑ دیں، اس قوم کی عورتیں بازار بن جاتی ہیں۔‘‘ جبکہ عربی شاعر کا سوال تو گویا ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔إذا لم يَغَرْ أخوها عليها، فبأيِّ وجهٍ تَلقى الحياة۔اگر بھائی کو ہی بہن کی غیرت نہ ہو، تو وہ زندگی کا سامنا کس منہ سے کرے۔نوجوانو! یہ تحریر تم سے خطاب ہے۔ یہ وقت سوشل میڈیا کے نعروں کا نہیں، یہ وقت کردار کے فیصلوں کا ہے۔ بہن کی تصویر پر ہنسنے والا نوجوان نہیں، بہن کے آنسو پونچھنے والا نوجوان بنو۔ غیرت کو گالی سمجھنے والا نہیں، غیرت کو عبادت سمجھنے والا بنو۔ عورت کو کمزور نہیں، امانت سمجھنے والا بنو۔ امت کی بہن تمہاری عزت ہے اور اس کی حفاظت تمہاری آزمائش۔ اگر تم نے اسے سنبھال لیا تو تم امت کا فخر ہو اور اگر چھوڑ دیا تو تاریخ تمہیں معاف نہیں کرے گی۔ یہ محض ایک تحریر نہیں یہ ایک صدا ہے جو نوجوان کے دل پر ضرب لگاتی ہے اور اسے اس کے اصل مقام کی یاد دلاتی ہے۔