شہر خاص سرینگر کی مرکزی جامع مسجد، نوہٹہ کے ہر چپے پر نہ صرف میری زندگی کی تاریخ رقم ہے بلکہ اس کے اندر اور باہر کے احاطے میں بکھرے یا پھیلے ذرے ذرے سے میرے جذبات جڑے ہیں۔ سرینگر کی جامع مسجد جموں کشمیر کی سب سے بڑی عبادت گاہ کے علاوہ ایک تواریخی اور سیاسی حیثیت تو رکھتی ہے ہی مگر کون جانتا ہے یہ جامع مسجد میری زندگی اور میرے خدا کے درمیان تعلق کی ایک دستاویز بھی ہے۔ میں اپنی یادوں کو ڈھونڈنے کبھی کبھی اس مسجد میں چلاجاتا ہوں۔ یہاں مجھے وہ لوگ تو مل ہی جاتے ہیں جو کب کے اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں اور جو اپنی حیات میں میری انگلی تھام کے مجھے اس مسجد کے اندر اور باہر کے احاطوں میں گھماتے تھے۔ ان سے مل کر میں یادوں میں کھوجاتا ہوں اور پھر جذبات میں بہہ کر جھوم بھی جاتا ہوں مگر اس کے علاوہ کبھی کبھی یہاں مجھے وہ دوست بھی مل جاتے ہیں جو پچپن سال پہلے میرے ہم جماعتی تھے اور میرے ساتھ اسلامیہ ہائی سکول راجویری کدل میں پڑھا کرتے تھے۔ میں انہیں پہچان نہیں پاتا مگر وہ مجھے پہچان لیتے ہیں اور ماضی اور بچپن کے واقعات یاد دلاکر مجھے محظوظ کرلیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے سب کچھ بدل چکا ہے مگر کیا میں ویسا ہی ہوں جیسا پہلے تھا؟ اسی لئے تو بچپن کے ساتھی مجھے پہچان پاتے ہیں مگر میں انہیں شناخت نہیں کرپاتا۔
بروز جمعہ 14 جون کو مجھے پرانی یادوں نے پھر اپنے حصار میں لیا۔ مجھے اپنے دادا کی یاد پھر ستانے لگی اور میں نے اس سے ملنے کے لئے ظہر کے بعد جامع مسجد جانے کا ارادہ کرلیا۔ میرے دادا کو گزرے ہوئے 46 سال ہوگئے ہیں مگر میں آج بھی اُسے جامع مسجد کے احاطے میں بہ نگاہ ِ خیال چلتا پھرتا پاتا ہوں۔ جب میں جامع مسجد کے صحن میں زمرد جیسی گھاس پر لیٹ جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے میرا دادا نفل نماز میں محو ہے۔ پھر جو صحن کے بیچ میں تالاب کے فوارے سے اُچھلتے پانی پر کبوتروں کو اٹھکیلیاں کرتے دیکھتا ہوں تو مجھے تالاب کے کنارے اپنا دادا وضو بناتے بھی نظر آتا ہے۔ میں مسکرادیتا ہوں اور ذہن کے دھندلکوں میں جھانک کر دیکھتا ہوں کہ وہ میری انگلی پکڑکے مجھے مسجد کے اندر گھما رہا ہے اور وہ مجھے اپنے بچپن اور نوجوانی کی یادوں میں سیر کراتا ہے۔ وہ کہتا ہے:’’یہ دیکھو یہ لکڑی کا بنا چبوترہ ہے نا، اس پہ اسی جگہ میرواعظ رسول صاحبؒ وعظ فرمایا کرتے تھے، پھر ان کے بعد عمہ صاحب ؒ کی یہ خطبہ گاہ بنی، پھر یوسف صاحب ؒ بھی اسی منبر پر بیان فرماتے تھے۔ یہ دیکھو یہ جو چھت سے آویزاں بڑے بڑے جھمکے جیسے زجاجی فانوس ہیں نا، ان میں دیکھو، شیشے کے یہ مخروط مستوی ہیں، ان سے جب روشنی گزرتی ہے تو سات رنگوں میں منعکس ہوتی ہے۔‘‘ پھر وہ مجھے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدس کا کوئی واقعہ یا کسی اور پیغمبر کریم ؐکی مطہر ومعطر زندگی کا کوئی قصہ سناتا ہے اور میرا دل حظ و لطف محسوس کرنے لگتا ہے۔ آج بھی جامع مسجد میں بیٹھے بیٹھے مجھے اپنے دادا کی آوازیں کانوں کے پردوں سے ٹکراتی ہوئی سنائی دیتی ہیں۔
بروز جمعہ 14 جون کو میں چار بجے جامع مسجد پہنچا تو مجھے دھچکا سا لگا، میرا سر چکرا سا گیا۔ اس کے مرکزی دروازے پر بڑا تالا لگا تھا اور باہر کانٹے دار تار بچھائی گئی تھی۔ میں دوسرے دروازے پر گیا تو وہاں بھی یہی صورت حال تھی، تیسرے دروازے پر پہنچا وہاں بھی تالا اور کانٹے دار تار بچھی تھی، پھر چوتھے دروازے پر گیا تو وہ بھی بند تھا۔ یہ بندشیں مہربان سرکار نے نہیں لگائی تھیں بلکہ جامع کے اوقاف کے فیصلے کے تحت کیا گیا تھا۔ ایک راہگیر سے پوچھا: حضرت !جامع مسجد پر تالا کب کھلے گا؟ وہ بولا،:جناب !جمعہ کے روز یہاں بعد نماز بندش ہوتی ہے، اب تالا کل کھلے گا۔ مجھے اس بات کا پورا یقین ہے کہ اوقاف نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر لیا ہوگا اور جامع مسجد کے تقدس اور تحفظ کی خاطر لیا ہوگا اور ذمہ داروں کو اعتماد میں لینے کے بعد ہی ایسا قدم اٹھایا گیا ہوگا۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض یا افسوس نہیں مگر ایک تشنگی محسوس کئے بنا نہ رہ سکا۔ اوقاف کے ذمہ داروں کی دینداری مسلم ہے مگر بہرحال میری زندگی کی دستاویز بند تھی اور میرے ہاتھ میں اس کے ابواب کھولنے کی استعداد نہ تھی۔ ایک دن جامع مسجد کے باہر نوہٹہ چوک کی طرف واقع گیٹ کے ساتھ ’’کھین چین ‘‘( خور دونوش )نام کے ایک کیفے مع لائبریری کا بورڈ دیکھا تھا، تو سوچا چلو وہی پر بیٹھ کے تھوڑا سا سستا لوں مگر اس کے دروازے پر بھی تالا پڑا تھا۔ قریبی چھاپڑی فروش سے پوچھا: جناب! کیا اس کیفے کی آج چھٹی ہے؟ وہ بولا: حضرت یہ کیفے کھلا ہی کب تھا؟ جب سے بنا ہے تب سے بند ہے!! میں اب تھوڑا سا تھک گیا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کہاں جاوں۔ گاڑی ساتھ نہیں تھی، بس میں سوار ہوکر یہاں تک آیا تھا۔ پھر خیال آیا کہ چلو خواجہ نقشبند صاحبؒ کے صحن میں بیٹھ کے تھوڑا سا سستا لوں۔ چنانچہ وہیں کی راہ لی۔ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ صحن میں گھاس پھوس اتنا بڑھ گئی ہے کہ بیٹھنے کے لئے راحت والی کوئی جگہ دستیاب نہیں۔ گھر ابھی واپس جانا نہیں چاہتا تھا۔ خواجہ بازار کے چوک میں پہنچا تو ملہ کھاہ کی طرف سے سومو گاڑی آگئی۔ میں اس میں چڑھ گیا اور لال چوک پہنچا۔ وقت معلوم کیا تو پونے چھ بچ چکے تھے۔ میں نے پرتاپ پارک میں عصر کی نماز پڑھ لی۔ پھر پاس کی ایک چائے والی دوکان پہ گیا، چائے پی لی، گرم گرم پکوڑے بھی کھائے۔ چائے بہت اچھی تھی، بڑا لطف آیا۔ پھر سوچا گھر والے پریشان ہوئے ہوں گے کہ یہ آدمی گیا تو کہاں گیا؟ فون ساتھ نہیں تھا، گھر پہ ہی چھوڑا تھا۔ پھر سومو گاڑی میں سوار ہوا۔ اس نے خواجہ بازار کے چوک میں اُتاردیا۔ مساجد سے مغرب کی اذان ہورہی تھی۔ میں نے گوجوارہ کی ایک مسجد میں نماز پڑھ لی۔ وہاں سے ایک آٹو پکڑ لیا اور گھر پہنچ گیا۔ گھر میں دیکھا کوئی میرے بارے میں کچھ خاص فکرمند نہ تھا چنانچہ ذہن میں احمد فراز صاحب کا یہ شعر ابھر آیا ؎
ہمیں گمان تھا سب چاہتے ہیں ہمیں فرازؔ
عزیز ہم سب کو تھے مگر ضرورتوں کی طرح
جوانی تھی تو میں کبھی کبھی یونہی بے مقصد، آوارہ سڑکوں پر گھومتا رہتا تھا، انجانے چہروں کو گھورتا ہوا، آنکھوں میں جھانکتا ہوا اور کبھی کبھی کسی کسی دل میں اترتا ہوا، گزرجاتا تھا۔ پھر لوٹتا تھا تو ہزاروں کہانیاں میرے ساتھ ہوتی تھیں جن پر رونے کے لئے ہزار آنسو چاہئیں تھے۔ اب تو آنکھیں خشک ہوچکی ہیں کیونکہ مجھے زندگی کے نشیب وفراز نے اتنا رُلادیا ہے کہ میں نے اب زندگی پر ہی رونا شروع کردیا ہے۔ چنانچہ اب میں اپنے محسوسات کو لفظوں سے مجسم بنادیتا ہوں اور قارئین باتمکین کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ جب لفظ اور لفظ مل جاتا ہے تو یہ سلسلہ شیشے کا روپ دھار لیتا ہے اور حساس لوگ اس میں اپنی اور دوسروں کی تصویریں دیکھ لیتے ہیں۔
کچھ فلمی گانوں سے بھی ادب کی چاشنی اور درد وکرب کی کیفیات جھلکتی ہیں اور ان کے بول نہ صرف حقیقتوں کے عکاس ہوتے ہیں بلکہ ان کے الفاظ نشتر کی طرح دل کو لگ جاتے ہیں۔ مثلا ؎
آتے جاتے خوبصورت آوارہ سڑکوں پر
کبھی کبھی اتفاق سے
کتنے انجانے لوگ مل جاتے ہیں
ان میں سے کچھ لوگ بھول جاتے ہیں
کچھ یاد رہ جاتے ہیں
ہنستے گاتے لوگوں کی
باتوں ہی باتوں میں
کبھی کبھی اک مذاق سے
کتنےجوان قصے بن جاتے ہیں
ان قصوں میں چند بھول جاتے ہیں
چند یاد رہ جاتے ہیں
یہاں اس بات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ادبی لحاظ سے یہ کشمیر کا ایک دور تھا جس میں ادبا کی ایک بڑی کھیپ اُبھر آئی۔ مثلا مہجور، آزاد، راہی، کامل، نازکی، ساقی، خیال، راز، حامدی، فراق، نادم، صوفی غلام محمد، اختر، بھارتی، ہری کرشن کول، لون، ظریف، شوق، حاجنی، مشعل، نشاط انصاری، مرغوب، حکیم منظور، گلشن مجید، ٹینگ، نردوش، سنتوش، عازم، عارف، رہبر، سادھو، شانت اور دیگر بہت سے حضرات کی ایک لمبی قطار سامنے آئی۔ ہر قوم میں ایسا کچھ ہوتا ہے کہ ایک دور ہوتا ہے جب بڑے بڑے دانش ور اُبھرآتے ہیں اور پھر صدیوں تک خاموشی چھا جاتی ہے۔ اگر آپ اسلامی دور بھی دیکھیں گے تو یہ کوئی ساتویں دہائی کا آخری حصہ اور آٹھویں دہائی کی کچھ اولین دہائیاں تھیں جب اسلامی تاریخ کے بڑے بڑے دانشور اور علما جیسے امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ، شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، ابن تیمیہ رحمت اللہ علیہ اور بہت بڑے بڑے دیدہ ور لوگ پیدا ہوئے۔ اسی طرح روس میں بھی یہ ایک دور تھا جب گورکی، ٹالسٹائی، چیخوف وغیرہ نے جنم لیا، اردو کی بھی ایسی ہی تاریخ ہے، فارسی میں دیکھئے تو سعدیؔ کے زمانے میں ہی بڑی بڑی ادبی لوگ اُبھر آئے اور پھر خاموشی چھا گئی۔کشمیر میں بھی اب خاموشی چھاگئی ہے۔ محض چند ایک کے بغیر جن لوگوں کو آج ادیب، قلم کار اور دانش ور ہونے کا دعویٰ ہے ان میں زیادہ تر جوکچھ سامنے لارہے ہیں وہ محض ’’ادبی ارہ سرہ‘‘ ہے۔ تنقید کے نام پر جو مشاہدہ ہورہا ہے، وہ بھی زیادہ باوزن نہیں لگتا۔ لوگ کنویں کے مینڈک بنے ہیں۔ جو پرانے رائٹر آج حیات ہیں ،ان کے بھی تخلیقی چشمے اب خشک ہوچکے ہیں۔ ان میں بھی اب اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اب اگر کچھ لکھتے بھی ہیں تو وہ بے ربط اور فضول گوئی لگتی ہے۔ نئے لوگوں میں ایسے کم ہی ہیں جن کا کلام توجہ کے قابل لگے۔ تاہم نئے لوگوں میں ضرور کچھ ایسے ہیں جو اگر محنت کریں گے تو اچھے نقاد بن سکتے ہیں۔ ہر انگارہ شعلہ بن سکتا ہے، ہوا دینے کی ضرورت ہے۔
اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون
زخم پھولوں کی طرح مہکیں گے پر دیکھے گا کون
دیکھنا سب رقص بسمل میں مگن ہو جائیں گے
جس طرف سے تیر آئے گا ادھر دیکھے گا کون
زخم جتنے بھی تھے سب منسوب قاتل سے ہوئے
تیرے ہاتھوں کے نشاں اے چارہ گر دیکھے گا کون
وہ ہوس ہو یا وفا ہو بات محرومی کی ہے
لوگ تو پھل پھول دیکھیں گے شجر دیکھے گا کون
ہم چراغ شب ہی جب ٹھہرے تو پھر کیا سوچنا
رات تھی کس کا مقدر اور سحر دیکھے گا کون
ہر کوئی اپنی ہوا میں مست پھرتا ہے فراز
شہر نا پرساں میں تیری چشم تر دیکھے گا کون
احمد فراز
چلئے آگے بڑھتے ہیں۔ 1994ء کو میرے ایک کشمیری ڈرامے ’’مرنس راوی پرتیتھ‘‘ یعنی موت کے اعتبار کو زک پہنچی گی‘‘ کو مزاحیہ ڈراموں کے زمرے میں آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے فرسٹ پرائز ملا تھا اور مجھے دہلی بلایا گیا تھا۔ وہاں انعامی رقم کے علاوہ سفری اخراجات کے پیسے بھی دئے گئے تھے۔ ایک وسیع وعریض ہال میں بہت بڑی تقریب کا انعقاد ہوا تھا اور ہال لوگوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا مگر افسوس اور حیرانگی اس بات کی ہے کہ وہاں ایک جواں سال خاتون اپنے آپ کو ایک فوٹو جرنلسٹ کے طور پیش کررہی تھی اور شرکاء کے فوٹو لے رہی تھی۔ پھر کئی قلم کاروں سے اس نے سو سو روپے لئے اور کہا کہ میں تمہارے فوٹو تمہارے پتے پر بھیجوں گی۔ اس نے اپنا وزٹنگ کارڈ بھی دیا۔ میں نے بھی اسے سو روپے دیا مگر پھر کبھی میرا فوٹو مجھے نہیں ملا۔ میں نے اس وزٹنگ کارڈ کے پتے پر خطوط بھی لکھے اور انفارمیشن براڈکاسٹنگ محکمے کو بھی خط لکھا مگر کہیں سے کوئی جواب نہیں ملا۔ پھر یہی خیال آیا کہ غالبا ًوہ بھی دھوکہ دہی کا معاملہ تھا۔ کچھ برس پہلے اس کارڈ کو تلاش کیا تو کہیں نہیں ملا کیونکہ میرے بہت سارے کاغذات پرانے مکان کے منہدم ہونے اور نئے مکان کی تعمیر کے دوران گم ہوگئے ہیں۔ بہرحال اپنے اس ڈرامے ’’مرنس رأوی پرتیتھ‘‘ یعنی موت سے اعتبار اٹھ جائے گا، کی کہانی کا مختصر خلاصہ یہاں پیش کررہا ہوں۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک کم فہم بیوی اپنے شوہر کو گہری نیند میں پا کر یہ یقین کرلیتی ہے کہ اس کا شوہر مرچکا ہے، چنانچہ وہ فوری طور اس کی اطلاع اپنی احمق بہو اورکم دماغ بیٹوں کو دیتی ہے اور وہ بھی یہ خبر بڑی تیزی کے ساتھ آگے پھیلاتے ہیں، اس طرح ان کے گھر میں تعزیت پرسی کرنے والوں کی بڑی بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے بھاری مجمع کے شور سے وہ شخص جاگ جاتا ہے اور اپنے ہی گھر میں یہ شور سن کر کچھ حیران سا ہوجاتا ہے۔ قبل اس کے کہ وہ باہر جاکے یہ دیکھ پاتا کہ ماجرا کیا ہے اس کی بیوی اپنے 'مرے شوہر کا آخری دیدار کرنے کمرے میں داخل ہوتی ہے مگر وہاں اپنے شوہر کو زندہ دیکھ کر اس کا سر چکرانے لگتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو بلاتی ہے اور ان سے کہتی ہے کہ مرنے کی تمام تیاریاں کرنے کے بعد اب تمہارا باپ کہہ رہا ہے کہ میں مرا نہیں ہوں۔ یہ دیکھ کے بیٹے، بیٹی، بہو سب پریشان ہوجاتے ہیں کہ اب کیا کریں؟ چنانچہ وہ اپنے باپ کو سمجھانے اور منانے میں لگ جاتے ہیں کہ قبلہ ہمیں آپ کے زندہ رہنے میں کوئی عذر نہ تھا مگر ہم نے سب کو تمہاری موت کی خبر دی ہے اور ایک بڑا مجمع تمہارا جنازہ پڑھنے کے انتظار میں ہے، اب ہم انہیں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ تم زندہ ہو، اس سے ہم رسوا ہوں گے، لوگ کہیں گے کہ یہ موت کا بھی مذاق اُڑاتے ہیں اور اس طرح موت سے اعتبار اُٹھ جائے گا، پھر اگر کل ہمارے ہاں کوئی واقعی مر بھی جائے گا تو لوگ ہمارا یقین نہیں کریں گے، اس لئے ہماری اور ہمارے خاندان کی عزت اور بہتری اسی میں ہے کہ تم ہماری بات مانو اور مرجاؤ۔ جب بیٹے باپ کو اس بات کے لئے عاجز کرتے ہیں کہ وہ مرنے پر آمادہ ہوجائے تو باپ مان لیتا ہے مگر اپنی آخری خواہش کے طور اپنے بیٹوں سے کہتا ہے کہ تم مجھے صرف پانچ منٹ کے لئے اکیلا چھوڑ دو تاکہ ان پانچ منٹ میں میں اپنے رب کو یاد کرلوں، جس پر اس کا ایک بیٹا کہتا ہے:قبلہ! جسے انسان نے ساٹھ سال تک فراموش کیا ہو وہ پانچ منٹ میں کیا یاد کیا جاسکتا ہے؟ مگر باپ کی منت سماجت کے بعد اس کے کنبے کے لوگ اسے آخری عبادت کے لئے پانچ منٹ کی مہلت دینے پر تیار ہوجاتے ہیں، اور اسے کمرے میں اکیلا چھوڑتے ہیں۔ پانچ منٹ کے بعد جب وہ اس کو لینے اور غسل دینے کے لئے کمرے میں آجاتے ہیں تو بوڑھا وہاں نہیں ہوتا۔ وہ کھڑکی سے کود کر بھاگ گیا ہوتا ہے۔ چنانچہ 'میت کی تلاش شروع ہوجاتی ہے۔ اس ڈرامے کو ریڈیو کشمیر سرینگر سے براڈ کاسٹ بھی کیا گیا تھا۔
ایک دن اس دو ٹکے کے آدمی نے ایک نیتا سے تین ٹکے کا سوال کیا اور پوچھا کہ کیوں تم کرسی کے ایسے پیچھے پڑگئے ہو حالانکہ مجھ سے زیادہ تم خود اس بات سےواقف ہو کہ تمہاری سرکار میں کوئی رول نبھانے کی ایک ٹکے کی بھی اہلیت نہیں؟ وہ بولا :مجھے قوم کی اتنی فکر لاحق ہے کہ گھلا جارہا ہوں کہ اس قوم کی سربلندی کے لئے کیا کیا مشقتیں اٹھا سکتا ہوں! میں نے کہا :مگر حیرت ہے کہ قوم کے غم میں تم گھل گھل کے تو پہلوان ہوگئے ہو اور یوں بنے ہو کہ گویا ؎
تم تو فراق یار میں گھل گھل کے ہاتھی ہوگئے
اتنے گھلے اتنے گھلے رستم کے ساتھی ہوگئے
ایک عالم نے ایک دفعہ کہا تھا کہ غلطی کبھی بانجھ نہیں ہوتی ،یہ بچے جنتی ہے۔ تم بھی کچھ دن اقتدار میں رہے مزے کئے، پروٹوکول کا لطف اُٹھایا اور اسی عیش میں یوں ڈوبے کہ نہ خدا یاد رہا اور نہ اس کی مخلوق کا خیال آیا چنانچہ غلطی پر غلطی کرنے لگےاور پھر ان غلطیوں نے اتنے بچے جنے کہ آج پوری قوم ان کے بوجھ کے تلے کراہ رہی ہے۔
بات سے بات بنتی ہے اور پھر یوں ہی دراز ہوتی ہے۔ مجھے ماگام کشمیر سے ای میل کے ذریعے کسی ریٹائرڈ استاد صاحب نے ایک طویل خط بھیجا ہے اور لکھا ہے کہ میں آپ کی یادوں کے حوالے سے مضامین دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ پھر کچھ سوالات کئے ہیں اور کچھ اشکالات ظاہر کئے ہیں اور اپنے خط کا جواب دینے کے لئے کہا ہے۔ اس صاحب کے لئے عرض کروں کہ حضرت !میں ایک آوارہ اور ناکارہ عمل آدمی ہوں، میرے پاس اتنی فرصت کہاں کہ کسی کے خط کا جواب دے پاؤں۔ آپ کے سوالات اور اشکالات کے جواب میں عرض کرتا ہوں ؎
جن کی آنکھوں میں تاب ِ نظارہ نہ ہو
ان کو جلوہ دکھانے سے کیا فائدہ