یادوں کے جھروکے سے منظر منظر نقش نظر میں دل میں چہرہ چہرہ ہے

ہاتھوں  کے لشکراب بھی آتے ہیں مگر ابابیلیں نہیں آتیں۔ میرا سارا بچپن شہر خاص سری نگرمیں گزرا ہے۔ روزانہ نوہٹہ سرینگر سے گزرنا معمول ہی تھا۔ مجھے یاد ہے موسم بہار کی شروعات سے ہی ابابیلوں کا ملہ کھاہ سے نوہٹہ چوک اور پھر نوہٹہ سے ملہ کھاہ تک پرواز رہتا تھا۔ گویا یہ ابابیلیں اس رقبے کا گشت لگاتی رہتی تھیں۔ ان کی پرواز اتنی نیچے ہوتی تھی کہ مجھے ان کو پکڑنا بڑا آسان نظر آتا تھا مگر جب کئی بار میں نے کوشش کی تو کسی ایک کو بھی نہ پکڑ سکا اور اس بات پر مسکرادیا کہ یہ خوبصورت پرندے انسان سے کیسا کھیل کھیل لیتے ہیں اور گویا چلینج دیتے ہیں کہ ہم تمہارے ہی قد کے برابر اُڑ رہے ہیں، ذرا ہمیں پکڑ کے تو دکھاؤ توسہی۔ بزرگ کہتے تھے کہ ابابیل بڑا نازک جانور ہے، اگر کوئی اسے پکڑ لیتا ہے تو یہ مرجاتا ہے۔ اب تو ابابیلیں کہیں نظر ہی نہیں آرہی ہیں۔ میرے بچپن میں ان کی بڑی تعداد کا مشاہدہ ہوتا تھا۔ بڑا نورانی ماحول کا زمانہ تھا وہ۔ بدمعاشیاں اور تباہ کاریاں ان دنوں بھی ضرور تھیں، جبرواستبداد بھی بہت تھا، مگر شرم وحیا بھی کافی تھا۔ غنڈہ گردی بھی بہت تھی مگر بزرگوں کی تعظیم واکرام بھی تھا۔ اب ہاتھیوں کے لشکر تو رہ گئے مگر ابابیلوں کا آنا نہیں رہا۔ گویا بقول اقبال   ع
 رہ گئی رسم ِاذان روحِ بلالی نہ رہی
گاڈہ کوچہ بہوری کدل میں دو چار غنڈے آکر ایک کنارے بیٹھ کر تاش کے تین پتوں اور رسی کا کھیل شروع کردیتے تھے۔ ایسا جوا کھیلنے والوں کو کشمیری میں ’’ترو پتی‘‘ کہا جاتا تھا اور یہ لفظ بعد میں جعل سازی کی اصطلاح بن گیا۔ آج بھی جعل ساز کو کشمیری زبان میں ’’ترو پتی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ عام طور سیدھے سادھے دیہاتیوں کو مختلف جھانسوں سے اپنے جال میں پھانستے تھے اور پھر ان کے سارے پیسے ہی نہیں بلکہ ان کی چادر بھی اسی جوے بازی میں اُڑا کر لے جاتے تھے۔ گاؤں سے جو بھی دیہاتی کسی کام کے سلسلے میں شہر آجاتا تھا تو اس کے شانے پر چادر ضرور ہوتی تھی۔ یہ گویا اس کے لئے لازم وملزوم تھا اور دیہاتی کے نزدیک ایسا اس کی حیثیت کی علامت تھی۔ یہ غنڈے تاش کے تین پتے نیچے بچھائے ایک کپڑے پر ایک خاص انداز میں پھینکتے تھے اور پھر ان تین پتوں میں جو ’’بیگم ‘‘کی نشاندہی کرتا وہ اس رقم سے تگنی رقم جیت جاتا جو وہ داؤ پہ لگاتا۔ اب بھلا ان منجھے ہوئے بدنام غنڈوں سے کون بازی جیت پاتا! لوگ تو اُن سے ڈرتے تھے۔ چونکہ دیہاتی کا جب اس کوچے سے گزر ہوتا تو نہ تو وہ ان غنڈوں کی اصلیت سے واقف ہوتا تھا اور نہ ان کی چالوں کو پہلے سے جان رہا ہوتا تھا۔ وہ بھی جوئے بازی کا تماشا دیکھنے میں لگ جاتا۔ یہ غنڈے کھیل کھیل لیتے اور پھر ان کے اپنے ہی کچھ آدمی جوئے کے داؤ پر پیسے لگانے بیٹھ جاتے اور داؤ پہ داؤ جیت لےجاتے تھے۔ یہ دیکھ کر دیہاتی کا جی للچا جاتا اور وہ ان غنڈوں کے جال میں پھسل جاتا تھا۔ یہ غنڈے پہلے ایک دو داؤ اس کو جیتنے دیتے تھے، جس سے دیہاتی اپنی چالاکی پر بڑا خوش ہوتا تھا اور بڑی رقم لگانے بیٹھ جاتا، یہاں تک کہ ساری رقم ہار جاتا تھا اور آخر میں اپنی چادر بھی گنوا بیٹھتا ۔ اکثر وبیشتریہ غنڈے پھر اس دیہاتی کی پٹائی کرتے تھے اور اس کے بعد نہ جانے کہاں رفو چکر ہوجاتے تھے۔ ان غنڈوں کی آمدنی کا یہی ایک ذریعہ تھا مگر اس برائی کے باجود ان میں نیکی کا بھی ایک پہلو مخفی ہوتا تھا۔ وہ یہ کہ جب ہم بچے ان کا تماشا دیکھنے بیٹھ جاتے تو وہ ہمیں بھگا دیتے تھے، ہمیں وہاں ٹکنے نہیں دیتے تھے۔ رسی کا بھی وہ کھیل کھیل لیتے تھے یعنی وہ بھی جوا ہی تھا۔ کمر بند کی چوڑائی کے برابر کچھ ایک میٹر کی رسی ہوتی تھی جس کو وہ لوگ دوہرا کرکے لپیٹ لیتے تھے۔ پھر اس کے بیچ میں دو قسم کے سوراخ بن جاتے تھے۔ داؤ لگانے والے کو ایک سوراخ میں پنسل پھنسانی ہوتی تھی، پھر وہ لوگ رسی کھول دیتے۔ اگر پنسل رسی کے بیچ میں پھنسا رہتا تو داؤ لگانے والا جیت جاتا، نہیں تو ہارجاتا۔ اس جھانسے میں بھی دیہاتی لوگ پھنس جاتے تھے۔ غنڈہ گردیوں نے شریف لوگوں کا قافیہ حیات تنگ کردیا تھا۔ اپنے وقت کے وزیر اعلیٰ غلام محمد صادق کو یہ کریڈٹ تو دیا جاسکتا ہے کہ اس نے غنڈوں کو پناہ نہیں دی اور غنڈہ گردی دم توڑ گئی۔
ایک رائیٹر اصل میں ایک کمن ٹیٹر ہوتا ہے۔ اس کے مشاہدات اور محسوسات  اس کے تجربات بن جاتے ہیں۔ پھر جب وہ کہانیاں لکھنے بیٹھتا ہے تو لاشعور میں موجود یہی تجربات متحرک ہوجاتے ہیں اور وہ نئی علامتوں اور استعاروں میں اپنی زندگی کے سفر کے حالات اور محسوسات کو سنانے لگتا ہے یا بیان کرنے بیٹھ جاتا ہے۔ رائیٹر کئی قسموں کے ہوتے ہیں۔ کچھ پیدائشی ہوتے ہیں،کچھ کو حالات لکھاری بناتے ہیں۔،کچھ شوقیہ طور لکھنا شروع کرتے ہیں،کچھ ایک کسی عشق بازی میں گرفتار ہوکر ’’دیوداسی رائیٹر‘‘ بن جاتے ہیں، کچھ شغل کے طور قلم چلالیتے ہیں، کچھ کو بے کاری رائیٹر بناتی ہے،کچھ کو شہرت اور جاہ کا جنوں اس راہ پر لگا لیتا ہے، کچھ پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں تو وہ غم سے چھٹکارا پانے کی خاطر درد بھری کہانیاں لکھنا شروع کرتے ہیں،کئی ایک اپنے ماں باپ کا رکھا ہوا نام کچھ زیادہ پسند نہیں ہوتااور چونکہ بڑا ہوکر اپنا نام بدل نہیں سکتے، اس لئے من پسند تخلص اختیار کرنے کی خاطر رائیٹروں کی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کوئی قانون نہیں کہ کم فہم اور کم ظرف اور بےوقوف کو رائیٹر بننے سے روکا جائے، اس لئے جس کا جی چاہے وہ لکھنا شروع کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ایسا بے ربط اور حماقتوں سے بھرپور مواد بھی سامنے آتا ہے کہ حقیقی رائیٹر بھی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے  ؎
ادب کے نام پر چربی بیچنے والو!
ابھی وہ لوگ زندہ ہیں جو گھی پہچان لیتے ہیں 
مگر اس کے باوجود ہمارے ہاں گھی کے نام پر چربی بکتی رہی ہے اور اسی بنیاد پر لوگ ایوارڈ اور دیگر مراعات سمیٹتے رہے ہیں۔ وجہ یہ کہ ہمارے یہاں ایسے بہت کم لوگ ہیں جو گھی اور چربی میں فرق کرنا جانتے ہیں۔ بہرحال، اللہ تعالی ٰسب پر رحم فرمائے اور ہمیں چربی اور گھی کے درمیان فرق کرنے کا فہم عطا کرے   ؎
گذرتا وقت دکھائی نہیں دیتا لیکن
ہمارے چہروں پہ اثرات چھوڑ جاتا ہے
خیر، ہماری کمر بھی اب پیر فرتوت کی طرح خمیدہ ہوچکی ہے اور انسان جب عمر کی اس حد پر پہنچ جاتا ہے تو حفیظؔ جالندھری کے ان اشعار پر یقین ہوجاتا ہے  ؎
یہ عجب مرحلہ عمر ہے یا رب کہ مجھے 
ہر بری بات، بری بات نظر آتی ہے
آج کے حالات دیکھتا ہوں تو لرز جاتا ہوں اور ماضی کی یادوں کی چادر تان لیتا ہوں اور انہی پرانے وقتوں میں اپنا آج کا وقت بتا لیتا ہوں۔ بے غیرت اور جورو کے غلاموں نے اپنے والدین کی زندگی کس طرح عذاب بنادی ہے، یہ حال اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ میرا بہت وقت سے یہ خیال ہے کہ اپنی جائیداد بھیج کر عمر رسیدہ لوگوں کی راحت و تفریح کے لئے ایک گھر اور اس کے ساتھ ان کے علاج ومعالجہ کے لئے ایک ہسپتال بنانے کے لئے کام کروں، مگر کچھ مشکلات آڑے آرہی ہیں۔ ایک تو عمر اس حد تک ڈھل چکی ہے کہ ہمت اور قوت نہیں اور پھر میری جائداد بھی اتنی نہیں کہ وہ منصوبہ عملی شکل لے سکے جس کا میرے ذہن میں تصور ہے، اس لئے اگر کچھ ایسے مخلص لوگ مجھے مل جاتے ہیں جو اپنی پوری زندگی اور اپنے مال کو محض اللہ کی رضا کے لئے خدمت خلق پر لگانے کا صحیح جذبہ رکھتے ہوں تو ایک تیر بہدف کوشش کی جاسکتی ہے۔ باقی اس کوشش کو انجام تک پہنچانا اللہ کا کام ہے، بندے کو اس کی کوشش اور خیال یا ارادے پر ہی اَجر مل جاتا ہے۔ جب بے بس اور بے کس عمر رسیدہ لوگوں کا حال دیکھتا ہوں تو خون کے آنسو روتا ہوں۔ عمر کی اس حد پر پہنچ کر انسان ٹوٹا ہوا ہوتا ہے، بکھرا ہوا ہوتا ہے، دل کمزور ہوا ہوتا ہے، زندگی کی آخری گھڑیاں ہوتی ہیں، موت قریب ہوتی ہے۔ اس حال میں انسان کو کچھ تفریح کی، کچھ تسلیوں کی، کچھ راحت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب اس کے بجائے بے غیرت اولاد ماں باپ کو پریشان ہی کرنے بیٹھیں تو یہ لوگ نہایت کسمپرسی کی حالت میں اپنے آخری دن گزارتے ہیں۔ یہ جو میں کہہ رہا ہوں یہ کہانیاں نہیں ہیں بلکہ میرا مشاہدہ ہے۔ 
یادیں ضروری نہیں کہ صرف میری ہی ذات اور میرے ہی مشاہدات سے متعلق ہوں، میری یادوں میں وہ یادیں بھی درج ہوسکتی ہیں جو دوسروں کے مشاہدات سے جڑی ہوں۔’’ ملفوظات اقبال‘‘ میںڈاکٹر سعیداللہ میں لکھا ہے کہ علامہ اقبال کے سامنے دستِ غیب کا ذکر ہورہا تھا۔ علامہ اقبال نے فرمایا کہ مولوی وحیدالین سلیم پانی پتیؔ نے بارہا بیان کیا کہ جب ان کے والد کا انتقال ہوا تو ان کے پیر حضرت غوث علی قلندر نے مولانا و حید الدین سلیم کو بلایا اور کہا کہ تمہارا باپ ہمارا دوست تھا، ہم تمہیں ایک وظیفہ بتادیتے ہیں۔ جب روپے کے حصول کی اور کوئی صورت نہ ہو تو اس وظیفہ کو پڑھنا، پانچ روپے تمہیں مل جایا کریں گے۔ پیر صاحب سے رخصت ہوکر گھر آئے۔ والدہ کو سارا قصہ سنایا۔ انہوں نے کہا گھر میں کچھ نہیں، نہ آٹا نہ دال۔ وظیفہ پڑھا گیا تو تکیہ کے نیچے سے پانچ روپے مل گئے۔ مولانا کا بیان ہے کہ انہوں نے اسی طرح وظیفہ پڑھ پڑھ کر تعلیم کو حاصل کیا۔ جب خود روپے کمانے لگے تو وظیفہ پڑھنا بند کردیا۔ سرسید سے جب مولانا کی ملاقات ہوئی تو مولانا نے سرسید سے کہا کہ آپ نیچری ہیں مگر ہمارے وظیفے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا بیان ہے کہ مجھ سے مولوی وحید الدین سلیم نے خود بیان کیا کہ میرے والد کے انتقال کے بعد میری والدہ حضرت غوث علی شاہ قلندر کی خدمت کیا کرتی تھیں اور حضرت کا کھانا پکایا کرتی تھیں۔ ایک دن مجھے شاہ صاحب نے بلاکر کہا: میاں لڑکے! تم سید زادے ہو، اور تم اور تمہاری والدہ ہماری بہت خدمت کرتے ہو، آو ہم تمہیں ایک چیز بتادیں، جب تم پر کبھی ایسا وقت آئے کہ تمہارے پاس کھانے تک کو کچھ نہ ہو تو یہ کلمات پڑھ لیا کرو، تمہیں تکئے کے نیچے دس روپے مل جایا کریں گے، اور دیکھنا یہ راز کسی کو نہ بتانا ورنہ ان کلمات کا اثر معدوم ہوجائے گا، اور جب تم کو حلال کی کمائی حاصل ہونے لگے تو ان کلمات کو محض حرص ِزر کی غرض سے نہ پڑھنا۔ کچھ مدت کے بعد افلاس حد کو پہنچ گیا تو میں نے ایک رات وہ کلمات پڑھے اور صبح تکئے کے تلے دس روپے مل گئے۔ ایک دفعہ اور بھی ایسی ضرورت لاحق ہوئی تو یہ تجربہ کامیاب رہا۔ اس کے بعد چونکہ ہماری معاش کا بندوبست ہوگیا ،اس لئے پھر کبھی یہ کلمات پڑھنے کا اتفاق نہ ہوا۔ مولوی وحید الدین سلیم نے یہ واقعہ سرسید کو بھی سنایا جو ان معاملات میں بڑے سخت نیچری تھے، لیکن سن کر خاموش ہوگئے، کچھ بولے نہیں۔ علامہ اقبال نے یہ بھی بتایا کہ کہ سرسید کی طرح ان کے والد کے گلے میں بھی رسولی تھی۔ وہ اپنے پیر کے پاس گئے اور کہا کہ حضرت مجھے رسولی کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے، اس کا کچھ علاج کیجئے۔ پیر صاحب نے کہاذرا دیکھیں۔ سرسید کے والد نے سر آگے بڑھایا۔ پیر صاحب نے ان کی داڑھی کے نیچے ہاتھ پھیرا اور فرمایا: بھئی ہمیں تو رسولی کہیں نظر نہیں آئی اور سچ مچ رسولی غائب تھی۔
بڈشاہ چوک سرینگر میں کاسمیٹکس کی ایک مشہور دکان تھی جس کا نام تھا ’’پیرس بیوٹیز‘‘‘۔ اس کا مالک گل محمد صاحب بھی شہر کاایک معروف نام تھا۔ میری بھی اس کے ساتھ خاصی شناسائی تھی۔ گل محمد صاحب عالم جوانی میں ہی ایک ڈاکٹر کی غفلت کا شکار ہوکر انتقال کرگئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں جگہ نصیب فرمائے۔ آمین ۔ ان کے قریبی دوستوں میں سے ایک نے مجھے گل محمد صاحب کا ایک واقعہ سنایا ہے کہ گل محمد صاحب ایک بزرگ کے پاس جایا کرتے تھے جو نابینا تھا اور اس کی بیوی بھی نابینا تھی۔ گل صاحب اکثر وہاں جاتے اور ان کا خیال رکھتے تھے اور ان کی خدمت کیا کرتے تھے۔ ایک دن اس نابینا بزرگ نے گل صاحب سے کہا تھا:اگر تم چاہو تو اپنے کاروبار سے الگ ہوجا اور خدا کے کام میں لگ جا، میں تمہیں ایک وظیفہ بتاؤں گا جس سے تمہیں غیب سے روزانہ بیس روپے ملا کریں گے۔ گل صاحب نے کہا تھا: حضرت بیس روپے میں میرا گزارہ نہیں ہوگا۔ جس پر اس نابینا بزرگ نے کہا تھا، اس سے زیادہ دینے کی مجھ میں طاقت نہیں ہے۔
کرامتوں سے انکار نہیں مگر پھر کرامتوں کی آڑ لے کر کچھ لوگوں نے بعض بزرگوں کے ساتھ ایسی من گھڑت دیومالائی ٹائپ کی بے شمار کہانیاں منسوب کی ہیں کہ ہنسی آتی ہے، اور پھر ان کے وسیلے سے نقلی پیروں نے تو تباہیاں ہی مچادیں اور دین اسلام کو شدید زک پہنچائی۔ بزرگوں سے کچھ ایسی کرامتیں منسوب کی گئی ہیں اور بعض عام قصے بھی ایسے بنائے گئے ہیں جو مضحکہ خیز ہیں اور ان مضحکہ خیز قصوں پر جاہلوں کے یقین کرنے اور ایسی باتوں پر ان کے جھومنے پر رونا آتا ہے اور ان کی بے عقلی پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ فیس بک کی وساطت سے ایک ایسی ہی کہانی کو بڑی شہرت دی گئی تھی کہ جاپان میں ایک فوجی افسر(جو ملحد تھا) نے اپنے ایک مسلمان ماتحت اہل کار سے کہا: وہاں گیراج میں جو گاڑی ہے اسے یہاں میرے پاس لے آؤ۔ اس مسلمان ماتحت اہلکار نے کہا: سر مجھے ڈرائیونگ نہیں آتی تو کیسے گاڑی کو چلا کے لاوں؟ جاپانی فوجی افسر نے غصے میں کہا، میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ فٹافٹ گاڑی کو گیراج سے نکال کر یہاں لے آؤ، تم تو ہر وقت خدا خدا کی ہی رٹ لگائے رہتا ہے، جاؤ اگر تیرے خدا ہی کے ہاتھ میں سب کچھ ہے تو اسی سے مدد مانگ کے گاڑی یہاں لے آؤ۔ وہ مسلمان ماتحت اہل کار بے چارہ مرتا کیا نہ کرتا، آخر چلا ہی گیا۔ گاڑی میں بیٹھا اور اللہ سے دعا مانگی، یا اللہ مجھے تو گاڑی چلانی نہیں آتی، اب اس ملحد جاپانی فوجی افسر نے مجھے طنز آمیز طریقے سے چلینج دیا ہے کہ اپنے خدا سے مدد مانگ اور گاڑی اس تک لے آؤں، تو اے خدا آپ میری مدد فرما۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور اسے فوجی افسر تک لے آیا۔ فوجی افسر یہ سب دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا اور اس مسلمان ماتحت اہل کار کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ مجھے فٹافٹ کسی مسلمان عالم کے پاس لے جا، میں ابھی، اسی وقت اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ پھر اس مسلمان ماتحت اہلکار سے کہا کہ میں صرف تمہارا امتحان لینا چاہتا تھا، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس گاڑی میں انجن ہے ہی نہیں۔ اگر یہ واقعہ سچ بھی ہو پھر بھی ایسی کہانیوں سے اسلام کی اشاعت کو نقصان ہی پہنچتا ہے۔ یہ جو کچھ لوگ کبھی Astronaut آرم سٹرانگ کو چاند پر اذان سنواتے ہیں اور کبھی بھارتی Astronaut کو کلمہ پڑھواتے ہیں، کبھی انڈے پر اللہ کو ظااہر کراتے ہیں اور کبھی بادلوں سے کلمہ لکھواتے ہیں، کبھی مٹی کے ڈھیلوں سے روسی ٹینکوں کو اُڑوادیتے ہیں اور کبھی غلیلوں سے جہازوں کو گرواتے ہیں، مگر جب برما میں بودھ کٹر پنتھی مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں تو پھر یہی لوگ امریکہ کے زیر کنٹرول اقوام متحدہ سے آس لگائے بیٹھ جاتے ہیں کہ وہ آکر کچھ کرے۔ جب تک مسلمان اپنے آپ کو ان بے سروپا کہانیوں سے چھڑا نہیں لیتے اور اسلام کے سب سے بڑے معجزے قرآن کریم کو اپنا رہبر مان کر اپنی زندگیوں کو مکمل طور اللہ کے احکامات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے تابع نہیں کرتے تب تک وہ دوسرے اقوام کو متاثر نہیں کرسکتے، اور گاڑیاں انجنوں کے بغیر زیادہ دیر نہیں چل سکتیں!۔
 نوٹ :میرے مضامین کے اس سلسلے پر کوئی اپنی رائے دینا چاہے یا کوئی مشورہ دینا چاہے تو نیچے کے ای میل ایڈریس پہ دے۔ انشاءاللہ کوشش کروں گا کہ اگر آئندہ بھی مضمون لکھنے کی توفیق ہوئی تو قارئین کے مشورے کو زیر نظر رکھوں گا۔