ڈوڈہ //ستر کی دہائی میں تعمیر ہوئی 36 کلومیٹر ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر کروڑوں روپے صرف ہونے کے باوجود سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔مفتی محمد سعید، غلام نبی آزاد و عمر عبداللہ کی دور حکومتوں میں اس شاہراہ کی کشادگی، تعمیر و تارکول بچھانے کے لئے کروڑوں روپے واگذار کئے گئے لیکن ابھی تک سڑک کی حالت زار ہے۔جس پر مقامی لوگ تعمیرات عامہ کی عدم توجہی پر نالاں ہیں۔ایک لاکھ کے قریب آبادی کو بیرونی دنیا سے جوڑنے والی اس شاہراہ پر غلام نبی آزاد کے دور حکومت میں 43 کروڑ واگذار کئے گئے۔ نعمت اللہ وانی نامی ایک سماجی کارکن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بھلیسہ کی شہ رگ کہلانے والی ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر نکاسی نظام نہ ہونے کے باعث بارش کا پانی سڑک رخ اختیار کرتا ہے۔انہوں نے کہا وقت پر تارکول نہ بچھانے کے سبب سڑک پر گہرے اور بڑے کھڈے بن گئے ہیں جس میں پانی جمع رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ستر کی دہائی میں تعمیر ملکپورہ کے مقام پر دو پل خستہ حال ہو چکے ہیں اور بارشوں کے دوران ان پر سفر کرنا کسی مصیبت سے کم نہیں ہے۔وانی نے کہا کہ 2016-17 میں ملکپورہ گندوہ چھ کلومیٹر سڑک پر1کروڑ 85 لاکھ روپے کی لاگت سے تار کول بچھانے کے لئے ٹنڈر نکالے گئے ہیں لیکن محکمہ تعمیرات عامہ کی عدم توجہی و ٹھیکیدار کی سست روی سے ابھی تک کام مکمل نہیں ہوا ہے۔ ایک اور شہری محمد شفیع بٹ نے کہا کہ مریضوں و باالخصوص حاملہ خواتین کو ہسپتال پہنچانے کے دوران خراب سڑک کے باعث کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد بار محکمہ کے ساتھ رجوع کیا گیا لیکن کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ مہندر سنگھ نامی ایک شخص نے کہا کہ ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ محکمہ و تعمیراتی ایجنسیوں کے لئے سونے کی کان ثابت ہو رہی ہے لیکن عوام کے لئے وبال بن گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نکاسی نظام، حفاظتی دیواروں کی عدم موجودگی و خستہ حال پلوں کی وجہ سے شاہراہ پر سفر کرنا تکلیف دہ ہے۔ڈی ڈی سی ممبر کاہرہ معراج الدین ملک نے کہا کہ ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر محکمہ نے کروڑوں روپے کاغذوں میں خرچ کئے لیکن زمینی سطح کی حالت جوں کی توں ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت نے کچھ برس قبل اس کو قومی شاہراہ کا درجہ دے کر ہماچل پردیش کے ساتھ جوڑنے کا اعلان کیا لیکن اس سے پہلے کی حکومتوں نے اربوں روپے واگذار کئے ہیں جن کا زمینی سطح پر بہت کم استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکپورہ، گندوہ و گواڑی تک شاہراہ کی حالت ناگفتہ ہے اور ٹھاٹھری سے ملکپورہ کے درمیان تارکول میں ناقص مواد کا استعمال کرنے سے جگہ جگہ گہرے کھڈے بن گئے ہیں جو کہ سڑک حادثات کا بھی سبب بنتے ہیں۔انہوں نے ضلع و صوبائی انتظامیہ سے محکمہ تعمیرات عامہ کو جوابدہ بنانے و ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ کی ناگفتہ حالت میں سدھار لانے کا مطالبہ کیا۔