محمد تسکین
بانہال // بانہال کی ایک عدالت نے ریٹائرڈ تعلیمی افسر کے خلاف سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مبینہ ہتک آمیز ویڈیو کو فوری طور پر ہٹانے اور آئندہ ان کے متعلق غیر مصدقہ مواد کی اشاعت و تشہیر پر روک لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔یہ حکم منصف بانہال سونالی شرما نے منظور احمد وانی ساکن درشی پورہ بانہال، جو سابق زونل ایجوکیشن آفیسر ہیں، کی جانب سے دائر سول مقدمے کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ مقدمے میں مدعی نے ہتک عزت، ذہنی اذیت اور ساکھ کو نقصان پہنچنے کا الزام عائد کرتے ہوئے 5 لاکھ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق 17 مئی کو فیس بک پیج “JK News Parwaaz” پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی تھی جس میں ریٹائرڈ افسر کو عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور مالی بے ضابطگیوں سے جوڑتے ہوئے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ مدعی نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد، جھوٹا اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ویڈیو کی اشاعت سے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔مقدمے میں غلام محی الدین ایتو، عارف وحید نائیک، فیس بک پیج “JK News Parwaaz” کے منتظم اور Facebook India Online Services Private Limited کو فریق بنایا گیا ہے۔عدالت نے ریکارڈ پر موجود مواد کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ فیس بک پیج کے منتظم اور فیس بک انڈیا کو متنازعہ ویڈیو کے لنک تک عوامی رسائی فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ مدعی کے خلاف کسی بھی قسم کا غیر مصدقہ یا غیر تصدیق شدہ مواد مزید شائع یا پھیلانے سے بھی گریز کیا جائے، جب تک کہ عدالت کی جانب سے کوئی نیا حکم جاری نہ ہو۔اپنے عبوری حکم میں عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ویڈیو کا مواد بادی النظر میں مدعی کی ساکھ اور عزتِ نفس کو متاثر کرتا ہے، لہٰذا اس مواد کی مزید تشہیر کو روکنا ضروری ہے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 25 جولائی 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔