پیوش گوئل
ہند،یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) وزیر اعظم نریندر مودی کی معاشی سفارت کاری کاایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ اس معاہدہ سےلاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، ہندوستان کے نوجوانوں اور کسانوں کے لیے وسیع امکانات روشن ہوں گے اور تقریباً دو ارب لوگوں کی زندگی میں خوشحالی آئے گی، جو ساتھ مل کر عالمی معیشت کے ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
دنیا کی دوسری اور چوتھی سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان یہ معاہدہ اب تک کے سب سے بڑے تجارتی معاہدوں میں شامل ہے۔ درحقیقت یہ محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ جامع شراکت داری ہے، جس سے مصنوعی ذہانت، دفاع اور سیمی کنڈکٹرز جیسے اہم شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ ملے گا۔ اس آزاد تجارتی معاہدہ سے ہندوستان کے ہر خطے اور تمام شہریوں، خاص طور پر کمزور اور غریب طبقات کو فائدہ پہنچے گا۔
یہ معاہدہ ضوابط پر مبنی تجارت اور معاشی پالیسیوں میں استحکام کو یقینی بناتا ہے، جس سے ہندوستان ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش مرکز بنے گا۔ اس کے نتیجے میں چھوٹے کاروباری اداروں، اسٹارٹ اپس اور مزدوروں کے لیے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔
دنیا بھر میں وزیر اعظم نریندرمودی کے اس اعلان کی ستائش کی گئی ہے جس میں انہوں نے اسے“تمام معاہدوں کی ماں” قرار دیا ہے۔ یہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دور میں استحکام کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ معاہدہ ہندوستان اور یورپی یونین کو ایسے قابلِ اعتماد شراکت داروں کے طور پر پیش کرتا ہے جو کھلی منڈیوں، پیش گوئی کے قابل نظام اور جامع ترقی کے تئیں پابند عہدہیں۔
ہندوستان نے تجارتی مالیت کے لحاظ سے یورپی یونین میں اپنی برآمدات کے 99 فیصد سے زائد حصے کے لیےغیر معمولی منڈیوں تک رسائی حاصل کی ہے، جس سے میک اِن انڈیا مہم کو مضبوط تقویت ملے گی۔ یہ ایف ٹی اے محنت طلب شعبوں جیسے ٹیکسٹائل، ملبوسات، چمڑا، جوتے، سمندری مصنوعات، قیمتی پتھر و زیورات، دستکاری، انجینئرنگ مصنوعات اور آٹوموبائلز کو فیصلہ کن فروغ دے گا۔
اس معاہدہ کے نتیجے میں تقریباً 33 ارب ڈالر مالیت کی ہندوستانی برآمدات پر 10 فیصد تک کے محصولات ختم ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ معاہدہ مزدوروں، کاریگروں، خواتین، نوجوانوں اور ایم ایس ایم ای کو بااختیار بناتا ہے، ہندوستانی کاروباروں کو عالمی ویلیو چین سے گہرے طور پر جوڑتا ہے اور عالمی تجارت میں کلیدی سپلائر کے بطورہندوستان کے کردار کو مضبوط کرتا ہے۔
یہ معاہدہ تاجروں اور پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت کو بھی آسان بناتا ہے اور تعلیم، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، مالیاتی خدمات اور کمپیوٹر جیسے خدمات کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔ ان عہد بندیوں سے اعلیٰ قدر کی ملازمتوں کے دروازے کھلتے ہیں اور صلاحیت سازی، اختراع اور پائیدار معاشی ترقی کے عالمی مرکز کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن مزید مستحکم ہوتی ہے۔
تجارتی معاہدے مودی حکومت کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد غریبوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے—جس کے تحت سب سے پہلے جرأت مندانہ اصلاحات اور محتاط مالی نظم کے ذریعے معیشت کو مضبوط کرنا اور پھر ترقی یافتہ اور تکمیلی معیشتوں کے ساتھ باہمی فائدے پر مبنی معاہدے طے کرنا ہے۔ اس حکمتِ عملی سے ہندوستان اپنی تقابلی برتری کو بروئے کار لا کر محنت کشی کےشعبوں کے لیے اہم منڈیوں تک رسائی حاصل کرتا ہے، جبکہ زراعت اور ڈیری جیسے حساس شعبوں کا تحفظ بھی یقینی بناتا ہے۔
ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے سے ہندوستانی صنعتیں صحت مند مسابقت سے روشناس ہوتی ہیں اور صارفین کو عالمی معیار کی مصنوعات فراہم کرنے پر قادر ہوتی ہیں۔ یو پی اے کے برعکس، جس نے لاپرواہی سے ہندوستان کی منڈیاں کھول دی تھیں، مودی حکومت نے ایسے معاہدے کیے ہیں جن میں محصولات میں بتدریج کمی کو ملحوظ رکھا گیا ہے، تاکہ صنعتوں کو مسابقت اور معیار بہتر بنانے کے لیے مناسب وقت اور پالیسی کا تعاون مل سکے۔
مسابقتی قیمتوں پر اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی فراہمی وزیر اعظم کے وِکست بھارت 2047 وژن کا مرکزی ستون ہے۔ گزشتہ ہفتے اس عزم کو دہراتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا:
’’آئیے، اس سال پوری طاقت کے ساتھ معیار کو ترجیح دیں۔ ہمارا واحد منتر معیار، معیار اور صرف معیار ہو۔ آج کا معیار کل سے بہتر ہو۔ ہم یہ عہد کریں کہ جو کچھ بھی ہم تیار کریں، اس کے معیار کو بہتر بنائیں۔‘‘
ہند،یورپی یونین ایف ٹی اے وزیر اعظم نریندر مودی کے ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے وژن سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ یہ ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک متحرک، قابلِ اعتماد اور دوراندیش شراکت دار کے طور پر پیش کرتا ہے اور دونوں خطوں کے لیے جامع، مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار ترقی کی بنیاد رکھتا ہے۔ مودی حکومت نے تجارتی معاہدے صرف ان ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کیے ہیں جو ہندوستان کے بڑے روزگار پیدا کرنے والے شعبوں جیسے ٹیکسٹائل، جوتے، جواہرات و زیورات اور دستکاری سے مسابقت کا حامل نہیں ہیں۔ یہ یو پی اے دور کے معاہدے سےبالکل برعکس ہے، جس میں مسابقت کرنے والی معیشتوں کے ساتھ عجلت میں معاہدے کیے گئے اور اکثر ہندوستان نے فائدے سے زیادہ رعایتیں دیں۔
مزید یہ کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یو پی اے حکومت نے تجارتی معاہدوں سے قبل متعلقہ فریقوں سے سنجیدگی کے ساتھ مشاورت کی ہو۔ اس کے برعکس، مودی حکومت نے ماہرینِ معاشیات، صنعتوں کی تنظیموں، ماہرین اور مختلف سرکاری محکموں اور وزارتوں سے پیہم مشاورت کے بعد ہی ایف ٹی اے پر دستخط کیے ہیں۔ اسی لیے مودی حکومت کے دستخط شدہ ہر ایف ٹی اے کو صنعتوں کی جانب سے وسیع پذیرائی ملی ہے۔ ان معاہدوں سے دونوں فریقوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور ہندوستان کے محنت کش شعبوں کے لیے عالمی امکانات کو وسعت ملی ہے۔ ان معاہدوں نے ہندوستان کے 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے سفر کی رفتار تیز کردی ہے۔
یو پی اے کے دور حکومت میں، جب معاشی ترقی سست، افراطِ زر بلند اور کاروباری ماحول مایوس کن تھا، ترقی یافتہ ممالک، بشمول یورپی یونین نے ہندوستان میں دلچسپی کھو دی تھی۔ نتیجتاً،ہندوستان نے ایسے باہمی فائدے کے تجارتی معاہدوں کے قیمتی مواقع گنوا دیے جو ترقی اور روزگار میں تیزی لا سکتے تھے۔
ہند،یورپی یونین ایف ٹی اے، مودی حکومت کے دیگر تجارتی معاہدوں کے ساتھ مجموعی طور پر جمود اور فیصلہ کن قیادت کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے۔ جہاں سابقہ حکومتیں ہچکچاہٹ کا شکار رہیں اور مفادات سے سمجھوتے کیں، وہیں مودی حکومت نے انقلابی معاہدہ انجام دیا ہے جو منڈیوں کو وسعت دینے والا ہے، روزگار پیدا کرنے والا ہے اور ہندوستان کے بنیادی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے والا ہے۔ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ مضبوط قیادت اور اسٹریٹجک شفافیت کس طرح نئے مواقع کھول سکتی ہے اور قوم کو خوشحالی کے راستے پر گامزن کر سکتی ہے۔
(مضمون نگارملک کے تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر ہیں)بشکریہ پی آئی بی