ہندوستان اقوام متحدہ میں پاکستان کو جواب دینے میں ناکام: بھیم سنگھ

 جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست پروفیسر بھیم سنگھ نے حکومت ہند پر اقوام متحدہ میں پاکستانی نمائندہ ملیحہ لودھی کے جموں وکشمیر کے تعلق سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دینے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے دونوں ہندستان اور پاکستان سے کہا کہ وہ 13اگست 1948میں سلامتی کونسل کی تیار کردہ قرارداد کا مطالعہ کریں جس میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ دونوں ہندستان اور پاکستان جموں وکشمیر میں امن بحال کرنے کے لئے تعاون کریں گے جس سے وہاں حالات معمول پر آسکیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے قرارداد کے مطابق جموں وکشمیر کے تمام قبضہ کئے ہوئے علاقوں سے پاکستانی فوج کو واپس نہ بلاکر قراردادکی خلاف ورزی کی ہے۔قراردادمیں اقوام متحدہ نے 1948 میں پاکستانی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ اس کے ذریعہ خالی کردہ علاقوں کی دیکھ بھال جموں وکشمیر حکومت کرے گی۔ اس کے برعکس پاکستان نے اس قرارداد پر دستخط کرنے کے بعد 1948میں گلگت۔بلتستان پر حملہ کرکے جموں وکشمیر کے 33ہزار مربع میل علاقہ پرقبضہ کرلیا ۔ یہ اقوام متحدہ کی 13اگست 1948کی  قرارداد کی خلاف ورزی تھی۔ پنتھرس سربراہ نے حکومت ہند سے سوال کیا کہ کیوں وہ جموں وکشمیر کے تعلق سے تاریخ کے صفحات کو کھولنے میں ناکام رہی۔انہوں نے اس کے لئے ہندستانی قیادت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔انہوں نے سابق کانگریسی قیاد ت اور موجودہ قیادت پر بھی جموں وکشمیر کے تعلق سے اصل امور کو اٹھانے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہاکہ 26اکتوبر، 1947کو مہاراجہ ہری سنگھ نے اسی طرح ہندستان کے ساتھ الحاق نامہ پر دستخط کئے تھے جس طرح دیگر 577دیگر ریاستو ں نے تو پھر کیوں جموں وکشمیر آج دیگر ریاستوں کی طرح ہندستان کا آئینی حصہ نہیں ہے ؟ انہوں نے کہاکہ ہندستان میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں پاکستان کے جموں وکشمیر پر غیرقانونی قبضہ کے تاریخی ڈیولپمنٹ کے تعلق سے امور کو اٹھایا جاسکے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہاکہ پاکستان سے اس طرح کے اکثر پیغام آتے ہیں کہ وہ اپنے پڑوسی ہندستان کے ساتھ امن وسکون سے رہنا چاہتا ہے۔ جموں وکشمیر کے لوگوں نے 2005اور 2007میں دو مرتبہ ایسے مذاکرات کا اہتمام کیا جن میں دونوں طرف پاک مقبوضہ کشمیر اور جموں وکشمیر کے نمائندوں نے شرکت کی  جن کے یکساں خیالات تھے کہ وہ امن و سکون کے ساتھ خوشگوار ماحول میں رہنا چاہتے ہیں۔کنٹرول لائن پر نہ تو بندوق ہو اور نہ ہی جنگ۔