ہم ہی تھے جامہ پوش انسانوں کے بیچ

مجھے اس بات پر حیرت نہیں کہ خانقاہ معلی کے آستانے کا گنبد اور اوپری حصہ اچانک آگ کی لپیٹ میں آیا ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ خالص لکڑی سے تیار کیا گیاکشمیری فن تعمیر کا یہ اعلیٰ ترین نمونہ آگ کے بھیانک شعلوں میں محفوظ کیسے رہا ۔لوگ کہتے ہیں کہ آگ ظاہر ہوتے ہی آس پاس کے لوگ گھروں سے باہر آٰئے اور فائر برگیڈ کی بروقت آمد سے آگ کو پھیلنے سے روکا گیا لیکن اس پر یقین کرنا بہت مشکل ہے ۔پوری عمارت لکڑی سے بنی ہے اور صدیوں پرانی یہ لکڑی جس پر کئی طرح کی پٹرولیم اشیاء متواترطور پر  وارنش اور پیپر ماشی کے نقش و نگار کے ساتھ چڑھائی جاتی رہی ہیں بس آگ دکھانے کی ہی محتاج ہیں پھر کیسے یہ ہوا کہ آگ نمودار ہوئی اور جب تک لوگوں کو پتہ چلا کہ آگ ظاہر ہوئی اور جب تک وہ گھرو ں سے نکل آئے ، آگ بجھانے کا انتظام کرنے لگے ، فائر برگیڈ کو آگاہ کیااور فائر برگیڈ کی گاڑیاں آستانے کے قریب پہونچ کر آگ بجھانے کیلئے پائپیں بچھانے میں مصروف ہوئیں آگ کے شعلے اوپری حصے میں ہی ٹھہرے رہے ۔ 
آگ بجھانے کی کوششوں کا عمل انتہائی تیزی کے باوجود منٹوں میں نہیں ہوسکتا جبکہ ایسے ڈھانچے کیلئے آگ کا ظاہر ہونا ہی کافی ہوتا ہے ۔ پورے ڈھانچے کو لپیٹ میں لینے کیلئے لمحے کافی ہوتے ہیں ۔ سیمنٹ کنکریٹ کا ڈھانچہ بھی آگ کے شعلوں کو فائر برگیڈ کے آنے تک روکے نہیں رکھ سکتا ہے پھر آگ کے بھیانک شعلوں کو اوپری حصے سے نیچے آنے میں کس طاقت نے روکا ۔
 لوگ اپنی اپنی سوچ کے حساب سے اس کی تاویلیں کرتے ہیں زیادہ تر لوگ اسے معجزہ قرار دیتے ہیں لیکن کیا اس زمانے میں بھی معجزے ہوسکتے ہیں اگر ہوتے تو نہ آسمانی بجلی گنبد تک پہونچ سکتی اور نہ ہی شارٹ سرکٹ ہوسکتا ۔ مولوی صاحبان اسے تنبیہ قرار دیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کو تنبیہ کرنی ہوتی تو اپنے اُس پیارے بندے کی یادگار کا گنبد جلا کرہی کیوں کرتا جس نے کشمیر کو اسلام کے نور سے منور کردیا ۔بے شمار سوال ہیں جن کے جواب اس حال میں ملنا مشکل ہے جب حقیقت کو جاننے اور سمجھنے کا شعور ہی کہیں موجود نہیں ہرطرف واویلا کرنے والے ،افسانے گڑھنے والے اور اس سانحے میں بھی اپنا فایدہ تلاش کرنے والے ہی سرگرداں نظر آتے ہیں ۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو بھی ایک موقعہ ہاتھ آیا تو وہ خانقاہ معلیٰ پہونچ گئیں ۔افسوس اور دکھ کے روایتی جملے ادا کرنے کے بعد انہوں نے آستانوں کی حفاظت اور خانقاہ معلیٰ کے نقصان شدہ حصے کی فوری مرمت کے احکامات جاری کئے ۔مزاحمتی قیادت نے بھی بیانات جاری کردئیے اور عوام کو دلاسا دیا۔سیاست داں ، معلم اور مبلغ نہ اس سے آگے کچھ دیکھتے ہیں نہ پیچھے ۔
لیکن اس واقعے کا ایک اور اہم ترین پہلو بھی ہے جس کی طرف توجہ دینے کیلئے گہرائیوں میں جانے کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ کشمیر کے جذبات ، نظریات ، سوچ اورتہذیب جن ستونوں پر کھڑی تھی وہ ایک ایک کرکے ختم ہورہے ہیں ۔ خانقاہ معلیٰ کا آستانہ ایک آخری ستون باقی بچا ہے اور وہ بھی اب ان آفتوں کی زد پر ہے جن کی تند و تیز آندھیاں کشمیر کی صورت ہی تبدیل کرچکے ہیں ۔اس سے پہلے حضرت شیخ نورالدین نورانی  ؒکا ہی آستانہ نہیں جلا ،خانیار میںحضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے نام سے منسوب یادگار ؒ’’ ریشی مول ‘‘ (زیارت بابا ریشی )خانقاہ معلیٰ ترال جیسی یادگاروں کے علاوہ بھی کئی مقامی آستانے خاکستر ہوئے ۔ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونا قدرتی امر ہے کہ یہ یادگاریں ہی کیوں خاکستر ہوتی ہیں جو اُس ریشی سلسلے کی کڑیاں ہیں جس نے کشمیر کو ایک الگ شناخت بخشی ہے ۔ حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی کشمیر میںصرف اسلام لیکر ہی نہیں آئے بلکہ ثقافتی ،سیاسی ، اقتصادی ،تہذیبی ، شعوری اور جذباتی انقلاب لیکر آئے اوراس انقلاب نے کشمیر کو ایران صغیر بناکر پوری دنیا میں ایک منفرد شناخت اور شہرت بخشی ۔
میر سعید علی ہمدانی نہ کوئی فوج لیکر کشمیر آئے اور نہ ہی ان کے ہاتھوں میں تلوار یا خنجر تھا ۔ان کے ساتھ دستکار تھے ۔ استاد تھے ۔ عالم تھے ۔کاریگر تھے ، اخلاق تھے اور سوچ تھی اور جب انہوں نے فتح کدل میں ڈیرا ڈالا تو سادھو سنیاسی اور مندروں کے بچاری جوق در جو ق ان کے پاس پہونچے ۔انہیں دیکھ کر ہی ان کے سینوں میں صدیوںسے سجے ہوئے بت ٹوٹ گئے اور اسلام کا نور اتر گیا ۔بہت کم وقت میں مندروں کی گھنٹیوں کی جگہ فضاء میں اذانیں گونجنے لگیں ۔ایک تہذیب مٹ گئی اور اس کے ملبے پر نئی تہذیب اور نئے تمدن نے جنم لیا جس نے آگے چل کر کشمیرکو برصغیر کا سب سے بڑا صنعتی ، فکری اور تعلیمی مرکز بنادیا۔زین العابدین بڈشاہ کا دور اس تہذیب کے عروج کا دور تھا جس کی بنیاد میر سید علی ہمدانی نے ڈالی تھی ۔ امن ، چین ، سکون ، خوشحالی ، فارغ البالی اور ترقی کے عروج کا یہ وہ دور تھا جو زمانے کی آنکھیں خیرہ کرتا تھا ۔اور اس تہذیب اور سوچ نے جن عظیم شخصیات کو جنم دیا ان میں لل عارفہ اور شیخ نور الدین نورانی  ؒ کا مقام سب سے بلند ہے ۔ ایک طرف ریشی سلسلہ انسانوں کو اپنے عقیدوں کے ساتھ ایک کڑی میں پرو رہا تھا اوردوسری طرف کاغذ کی صنعت کا پہلا مرکز کشمیر تھا ۔ سیاہی کا موجد کشمیری تھا ۔ کانی شال ،پشمینہ ، ریشم ، قالین ، لال و جواہر کی صنعتوں کا مرکزبھی یہی تھا ۔دستکاریوں کے نئے نئے تجربے ہورہے تھے اورجب جلال الدین محمد اکبر کو کاغذ کی کرنسی تیار کرنے کا خیال آیا تو اس کی نظر صرف کشمیر پر گئی جہاں صراف کدل میں اس کرنسی کیلئے کاغذ تیار کرنے کا کارخانہ قائم ہوا ۔آج کون ہے جو  اس بات کا یقین کرسکتا ہے کہ کشمیر میں بت پرستی کا خاتمہ کرنے والے کے آستانے پر بت پرست بھی سرجھکایا کرتے تھے ۔
میر سید علی ہمدانی کی یہی تہذیب اب کشمیر میں مٹ رہی ہے ۔ایک طرف جہاں وہ یادگاریں خاکستر ہورہی ہیں جو اس تہذیب کی علامت کے طور پر موجود تھیں تو دوسری طرف وہ ساری اخلاقی قدریں اور تمدنی رکھ رکھاو بھی مٹ رہا ہے جس کی شان انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت پیش کرنے کے لئے کافی تھی۔دستکاریوں کا عروج زوال پذیر ہے ۔تکنیکی ترقی اسے زیادہ پرکشش بنانے کا باعث ہوسکتی تھی لیکن سوچ کی پستی نے اسے تباہی سے دوچار کردیا۔ علمی ماحول دم توڑ چکاہے ۔ اب نہ وہاب کھار پیدا ہوتا ہے نہ محمود گامی نہ رحمان ڈار یہ سب اسی نظرئیے کا مبلغ تھے جو میر سید علی ہمدانی یہاں لیکر آئے ۔
میر سید علی ہمدانی کے لائے ہوئے نقلاب کے آثار رفتہ رفتہ ختم ہورہے ہیں ۔ ان کی سوچ اور ان کی لائی ہوئی تہذیب دم توڑ رہی ہے ۔ اب اپنی زبان بھی باقی نہیں رہی ہے ۔ سب کچھ بدل چکا ہے اب فتح کدل میں لکڑی کا ایک ڈھانچہ ہے جہاں میر سید علی ہمدانی کی روح موجود نہیں ہوسکتی ۔ آج ہمارے جو بچے سکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہے ہیں انہیں نہ میر سید علی ہمدانی کے متعلق کچھ معلوم ہے نہ وہ اس یادگار کی اہمیت سے واقف ہیں ۔جو لوگ آج خانقاہ کے گنبد کے جل جانے پر گریہ زاری کرتے ہیں وہ اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو سکولوں میں نصاب کی کتابوں میں میر سید علی ہمدانی کی آمد کے بارے میں پڑھا کرتے تھے اور جنہیں دادی اماں ہاتھ پکڑ کر خانقاہ معلیٰ کے آستانے پر لے جاتی تھی اوراللہ کے اس عظیم المرتبت بندے سے متعارف کراتی تھی۔جن کے ماں باپ وہاب کھار ، احد زرگر ، شیخ العالم اور لل عارفہ کے اشعار سنایا کرتے تھے ۔ آج کے بچے مشنری سکولوں میں پڑھتے ہیں اور ماں باپ انٹرنیٹ کے ذریعے اس عالمی تہذیب کا حصہ بن چکے ہیں جس کے سوتے یورپ سے پھوٹتے ہیںاور جس نے مذہبوں پربھی اپنے اثرات مرتب کردئیے ہیں ۔
 بشکریہ ہفت روزہ ’’ نوائے جہلم‘‘