حافظ عبد الرحمن اشرفی
گول، جموں و کشمیر کی سرسبز وادیوں سے تعلق رکھنے والے حاجی امتیاز احمد شان ایک ایسی باوقار اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں جن کی زندگی جدوجہد، قربانی، دیانت داری اور خدمتِ انسانیت کی روشن مثال ہے۔ ان کی داستانِ حیات محض ایک فرد کی کامیابی کی کہانی نہیں بلکہ حوصلے، عزم اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کی ایک زندہ تفسیر ہے، جو ہر سننے اور پڑھنے والے کے دل میں امید کی ایک نئی شمع روشن کر دیتی ہے۔ان کی شخصیت میں وہ کشش ہے جو نہ صرف ایک کامیاب کاروباری انسان کی پہچان بنتی ہے بلکہ ایک نرم دل، دردمند اور بااخلاق انسان کے طور پر بھی انہیں ممتاز کرتی ہے۔ وہ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دنیاوی کامیابی کے ساتھ ساتھ دل کی وسعت اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ بھی عطا فرمایا ہے۔بچپن میں ہی والد محترم، جو ایک مخلص اور فرض شناس استاد تھے، کا سایہ سر سے اٹھ جانا ایک ایسا کڑا امتحان تھا جس نے کم عمری میں ہی انہیں زندگی کی تلخیوں سے روشناس کر دیا۔ یتیمی، مالی مشکلات اور حالات کی سختیوں نے انہیں کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط بنایا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے ان کے اندر ایک نیا حوصلہ، ایک نئی سوچ اور ایک نئی سمت نے جنم لیا۔انہوں نے ہر مشکل کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا، اور کبھی حالات کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے۔ ان کی یہی ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ان کی کامیابی کی بنیاد بنی۔ وہ ہر قدم پر یہ یقین رکھتے رہے کہ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی کوششوں کو ضرور رنگ لاتا ہے۔
✨حاجی امتیاز احمد شان کی کامیابی کا راز ان کی انتھک محنت، دیانت داری اور دور اندیشی میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے لیے راستہ بنایا بلکہ دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کیے۔ ان کا قائم کردہ ادارہ’’امتیاز شان کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ‘‘ آج ایک معتبر اور بااعتماد نام بن چکا ہے، جو معیار، شفافیت اور پیشہ ورانہ مہارت کی اعلیٰ مثال ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے دہلی میں اس ادارے کو ملنے والا اعزاز ان کی مسلسل محنت، بہترین منصوبہ بندی اور ایماندارانہ خدمات کا کھلا اعتراف ہے۔ یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور محنت سچی ہو تو کامیابی انسان کے قدم چومتی ہے۔
اگرچہ ان کی کاروباری کامیابیاں قابلِ رشک ہیں، مگر ان کی اصل پہچان ان کی خدمتِ خلق ہے۔ وہ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جو اپنی کامیابی کو دوسروں کے لیے آسانی اور سہولت کا ذریعہ بناتے ہیں۔یتیموں کی کفالت، بیواؤں کی مدد، غریبوں کی دستگیری، مریضوں کی تیمارداری اور ضرورت مندوں کی خاموش معاونت ان کی زندگی کا مستقل حصہ ہے۔ وہ بغیر کسی نمود و نمائش کے لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور یہی خلوص ان کے کردار کو مزید بلند کرتا ہے۔ان کے دروازے ہمیشہ محتاجوں کے لیے کھلے رہتے ہیں اور ان کے دل میں دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کی ایک خاص صلاحیت موجود ہے۔ یہی وہ خوبی ہے جو انہیں ایک کامیاب انسان کے ساتھ ساتھ ایک عظیم انسان بھی بناتی ہے۔
حاجی امتیاز احمد شان کی شخصیت کا ایک نہایت خوبصورت پہلو علماء کرام سے ان کی بے پناہ محبت اور عقیدت ہے۔ وہ علماء کی عزت کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں اور دینی اداروں، مدارس اور مساجد کے ساتھ نہایت مضبوط تعلق رکھتے ہیں۔وہ دینی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، مدارس کی معاونت کرتے ہیں، مساجد کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور علماء کی سرپرستی کو اپنے لیے باعثِ برکت سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ جذبہ ان کے دین سے گہرے تعلق اور ایمان کی پختگی کا آئینہ دار ہے۔اتنی بلند کامیابیوں کے باوجود ان کی عاجزی اور سادگی قابلِ تقلید ہے۔ وہ غرور اور تکبر سے کوسوں دور رہتے ہیں اور ہر انسان کے ساتھ عزت، محبت اور خلوص سے پیش آتے ہیں۔ان کی گفتگو میں نرمی، انداز میں شائستگی اور رویے میں اخلاص جھلکتا ہے۔ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، امیر ہوں یا غریب ،ہر ایک کے ساتھ یکساں محبت اور احترام کا برتاؤ کرتے ہیں۔ یہی اوصاف انہیں لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام عطا کرتے ہیں۔
آج کے دور میں جب نوجوان مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہیں، حاجی امتیاز احمد شان کی زندگی ایک روشن مثال بن کر سامنے آتی ہے۔ ان کی جدوجہد یہ سبق دیتی ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر انسان میں ہمت، لگن اور سچائی ہو تو کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔وہ نوجوانوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ خواب دیکھنا ضروری ہے، مگر ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل محنت، صبر اور دیانت داری لازمی ہے۔ہم دل کی گہرائیوں سے حاجی امتیاز احمد شان صاحب کو ان کی شاندار کامیابیوں پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہیں کہ وہ انہیں مزید عزت، ترقی اور کامیابیاں عطا فرمائے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں ہمیشہ انسانیت اور دین کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔
(خادم، دارالعلوم سید المرسلین، چوگام قاضی گنڈ، کشمیر)
[email protected]
�������������������