عبدالرشید خان، سرینگر
’’ میانہ ِوچِھکی کوتَر‘‘وادی کے ایک نامور شاعر،ادیب اور براڈکاسٹر جناب بشیر عارف کے کشمیری افسانوں کا مجموعہ ہے۔ 97صفحات پر مشتمل اس کتاب میں گیارہ افسانے ہیں،جس کی رسمِ رونُمائی حال ہی میں سرینگر کے ٹیگور حال میں بلائی گی ایک باوقار مجلس میںہوئی۔اس کتاب کا پیش لفظ نامور شاعر اور ادیب جناب بشیر بڈگامی نے لکھا ہے، جس میں انہوں نے افسانے کی ہیت،تکنیک،کردار نگاری اور اسلوب بیان پر چند قیمتی آراء بیان کی ہیں اور ان ہی باتوں کے تناظر میں زیرِ تبصرہ کتاب پر اپنی رائے پیش کی ہے۔بشیر عارف کو ایک کامیاب،نظر باز اور ماحول کا نبض شناس قرار دیتے ہوئے اس افسانوی مجموعے کو کشمیری زبان وادب میں ایک بڑا اضافہ بھی قرار دیا ہے۔ کتاب میں شامل پہلا افسانہ ’’تُلہ کُل‘‘ ہے،اس افسانے میں یہاں کے گزشتہ حالات واقعات کو کم سے کم لفظوں میں بیان کیا گیا ہے ،یہاں کا’چرسہ تکیہ‘ہو یا دو دلوں کا ایک دوسرے پر فریفتہ ہونا،ان پر نظر رکھنے والے کی ذہنی کیفیت ہو یا اس کا اپنی ڈھلتی ہوئی عمر پر افسوس کرنا،ان تمام واقعات کو مختصر لفظوں میں بیان کیا گیا ہے۔’’تولہ کل‘‘ہمسایوں کے بیچ ایک حد مقرر کرتا ہے ،یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں کے اردگرد قید خانے کی طرح بلند فصیلیں نہ تھیں، لوگوں کے صحن اور دِل دونوں کھلے ہوئے تھے اور ان دِلوں میں آپسی پیار محبت اور میل ملاپ ہوا کرتا تھا۔’’تلہ کل‘‘اسی کی ایک علامت بن کر ا’بھرتا ہے۔’’تُلہ کُل ‘‘کاٹنے والوں کے خلاف جب سرکاری اہلکار کاروائی کرتے ہیں تو یہ کارروائی اس پیار محبت کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی دکھائی دیتی ہے ،یہ ایک خوبصورت افسانہ ہے۔
کتاب میں شامل ایک اور افسانہ ’’کنز‘‘ہے۔ عمہ لالہ جب پرانے مکان سے نئے مکان میں شفٹ ہوتا ہے تو اُسے پرانا مکان،پرانے ہمسایے،یار دوست چھوٹنے کا بڑا دُکھ ہوتا ہے۔’’کنز‘‘جسکوعمہ لالہ کے بچے معمولی پتھر سمجھ کر پرانے مکان میں ہی چھوڑ آتے ہیں، تو عمہ لالہ انہیں جتن کر تاہےکہ ’’کنز‘‘ کو بھی نئےمکان میں لایا جائے اور اس کے اصرار پر جب ’کنز ‘کولایا جاتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے اور اس سے کام کی چیز قرار دیتا ہے۔’’کنز‘‘اس ثقافت اور میراث کی علامت ہے ،جس پر یہاں کے لوگوں کو ناز ہے اور بدقسمتی سے جس کی قدر کرنے والے دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں۔اس افسانے میں نئی پود اور پرانے لوگوں کے درمیان خیالات کی کشمکش دکھائی دیتی ہے۔’کنز‘اس خوف اور دہشت کے خلاف علامت بن جاتا ہے جس سے یہاں کی آبادی کئی دہایوں سے گزر رہی ہے۔یہاں رونما ہونے والے واقعات اور حادثات کا بھی اس افسانے میں ذکر ملتا ہے۔ کتاب میں شامل’’یَتھ مکانس منز‘‘،’’اتر‘‘اور’’ بھرشٹ‘‘ایسی کہانیاں ہیں، جن میں یہاں رہ رہے پنڈت اور مسلمانوں کے بیچ میل ملاپ،بھائی چارہ،اخوت اور ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شریک ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ ’’بھر شٹ‘‘کا بدری ناتھ ہو یا’’اتر‘‘کاموہن بزاز اور قادر گور’’یتھ مکانس منز‘‘کا غلام نبی ہو یا فوٹو فریم کا ماسٹر دینا ناتھ۔یہ سب کردار اس بھائی چارے اور میل ملاپ کی علامتیں ہیں ،جسکے لئے وادی کشمیر دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس کے علاوہ ان کہانیوں میں گزشتہ دہائیوں میں یہاں کے نامساعد حالات،آبادی کے ایک بڑے حصے کا وادی چھوڑ کر چلے جانا اور اس پر اُن کے مجرح جذبات اور احساسات بیان کیے گئے ہیں۔ افسانہ ’’اتر‘‘میں فاروق احمد کا اپنے آپ کو نا کردہ گناہ کی سزا کے طور پر لٹکانا’’یَتھ مکانس منز‘‘ ماسٹر دینا ناتھ کا فوٹو فریم سے نکل کر غلام نبی کی بیٹی کی شادی میں ہو رہے انتظامات کا جائزہ لینا اور’’ بھرشٹ‘‘میں سدر کا پنڈت بدری ناتھ کو’بٹہ بایو‘کہہ کر پکارنا، اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں کے پنڈتوں اور مسلمانوں کے بیچ کیسے تعلقات ہیں۔ افسانہ’’شوث‘‘پڑھ کر مرحوم اختر محی الدین کی کہانی’’ہونہ رحمان‘‘یاد آتی ہے۔’’ میانہ وچھکی کوتر‘‘ایک خوبصورت افسانہ ہے، جس میں ایک عورت کو اپنے گھر وعیال کے ساتھ لگائو،صدیوں سے چلی آرہی ریت، پرندوں کو دانہ ڈالنا اور اس کو عبادت سمجھنا ،بیان کیا گیا ہے۔اس کہانی میں کبوتر انسان کے اُدھورے ارمانوں اور ناآسودہ جذبات اُبھرنے کی ترجمانی کرتے ہیں ،جس کو افسانہ نگار نے نہایت لطیف انداز میں بیان کیا ہے۔ ’’’سکھ دود چھم‘‘ایک خوبصورت افسانہ ہے، جس میں یہاں کے آبی ذخائر ،خاص طور سے ڈل جھیل اور دوسرے ندی نالوں کی حالت زار بیان کی گئی ہے۔ پانی کے نکاس کے لئے جو قدرتی ندی نالے موجود تھے جب ان کو بند کیا گیا تو نتیجے کے طور پر ڈل جھیل کی سطح آب بڑ ھ گئی اور ہرطرف ہاہاکار مچ گیا، یہاں تک کہ جنگلی جانور بھی اپنے پناہ گاہ چھوڑ نے پرمجبور ہو گئےاور انسان ایک بار پھر کشپ ریشی کو یاد کرنے لگے۔ کتاب میں شامل ایک اور کہانی’’گوپہ‘‘ ہے، جو ایک کتے کے اردگرد گھومتی ہے۔ یہاں گوپہ ان لوگوں کی علامت بن کر اُبھرتا ہے جو اپنی خصلت کی وجہ سے پایا ہوا مقام اور رُتبہ کھو دیتے ہیں اور سبوں کی نظروں سے گر جاتے ہیں۔’’گوپہ‘‘کے گلے میں بیلٹ اس کی شناخت تھی اور جب وہ یہ شناخت کھو دیتا ہے تو اس کو زہر دے کر مار دیا جاتا ہے ۔یہ بہت ہی خوبصورت اور دلچسپ کہانی ہے، جہاں تک اس مجموعے میں شامل کہانیوں کا تعلق ہے، ان میں کہانی کار کے مشاہدے کی وسعت اور تخیل کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ افسانے نہ مبہم ہیں اور نہ لمبی چوڑی کہانی،کم ازکم لفظوں میں بڑی بات کہی گئی ہے۔ ہر کہانی اپنے اندر ایک جہاں ہے جو قاری کو اپنی گہرائی میں ڈبو کر حالات واقعات سے باخبر کرتی ہے۔ اکثر کہانیوں میں یہاں کے گزشتہ حالات کی بازگشت سنائی دیتی ہے،ان کی زبان عوامی،عام فہم شستہ،رواں دلکش اور پر لطف ہے، کئی مقامات پر کشمیری محاورے اور تراکیب کا برجستہ استعمال بھی ہے، کہیں کہیں ہلکے طنز و ظرافت سے بھی کام لیا گیا ہے۔بشیر عارف ایک کامیاب کہانی کار ہی نہیں بلکہ وہ لفظوں کے بازیگر بھی ہیں۔ان کا انداز بیان ہمدردانہ اور مفکرانہ ہے۔ان کے کردار مافوق الفطرت ہونے کے بجائے جیتے جاگتے انسان ہیں ۔ان کے دل ہماری طرح دھڑکتے ہیں،ان کے جذبات،احساسات اور واردات قلبی ہمارے اپنے ہیں، ان کا لہجہ عام فہم اور پُر اثر ہے۔ جہاں تک اس کتاب کی پرنٹنگ اور g et upکاتعلق ہے، نہایت ہی خوبصورت ہے۔کتاب کا سرورق،جس پر کہانی کار کی تصویر موجود ہے،دیدہ زیب اور دلکش ہے۔کتاب کی قیمت پانچ سو روپیہ ہے جو مناسب اور واجب ہے۔کتاب کو اس پتہ پر حاصل کیا جاسکتا ہے: الحسن،24سنٹرل ایوینو لین،الاہی باغ بژھ، پورہ سرینگر
[email protected]
���������������