حمیدخان غریق ،گریز
کچھ دن پہلے ٹیگور ہال میں عادل اشرف صاحب اور احمدمنظور صاحب کی کتابوں کی رسم رونمائی کے دوران ریاست کے کہنہ مشق شاعر ادیب افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس جن کے متعلق میں نے سنا تھا اور ان کی تخلیقات کا تھوڑا بہت مطالعہ بھی کیا تھا ۔یعنی مشتاق مہدی صاحب جو کہ اسی کی دہائی سے ادبی دنیا میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوا چکے ہیں سے ملاقات کا شرف بس آنکھوں کے اشاروں سے شروع وہ کر جلد ہی اختتام پذیر ہوا، ہم اپنی الگ الگ نشستوں میں اپنے ہم نواؤں کے ساتھ مصروف اپنی دنیا میں کھو گئے ۔ یہ پر تپاک محفل ختم ہونے کے بعد سارے احباب بارش کی شدت کی وجہ سے دوسری نشست جمانے میں کامیاب نہ ہو سکے، صرف مجھے وہی بات یاد رہی جومشتاق مہدی نے آنکھوں کے اشارے سے کہی تھی، بہرحال لمحے گزر گئے، دن گزر گئے، ایک روز میں یونیورسٹی سے اپنی مشغولیات اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد جب میں باہر نکلنے ہی والا تھاکہ بارش شروع ہوئی اور بادلوں کی گھنگناہٹ کے ساتھ ہی خیال آیا کہ مہدی صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل کروں۔ مگران کا ایڈرس معلوم نہ تھا۔ آخر دل نے آواز دی کہ فون لگاؤں ۔میں نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور اپنا ملہ باغ کا ایڈرس بتا دیا۔ پھر ملاقات کے بعد ایسا محسوس ہوا،جیسے برسوں کا ساتھی کسی اپنے پیارے دوست سے بات کر رہا ہے ۔مہمان خانے طعام وآرام کے ساتھ ساتھ جس طرح کی عشق بتاں کی پرتپاک محفل جمی ۔توبہ توبہ بقول جون ایلیا؎
یہ مجھے چین کیوں نہیں دیتا
ایک ہی شخص ہے جہاں میں کیا
اس محفل کا دورانیہ طویل ہوتا گیا، ہم بھی نہ جانے کن وادیوں کی گھاٹیوں میں گھو متے رہے۔ غزلیں، نظمیں اور افسانہ کے علاؤہ ان کی جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ آپ کالکھا ہوا وہ ڈراما خواب تھا جو 1984 میںریڈیو کشمیر پر براڈکاسٹ ہوا تھا۔ سن کر میں بہت محضوظ ہوا ،جب میں نے اس کو سنا تو ایسا لگا جیسے کچھ ہو بہو کردار میرے سامنے جیتی جاگتی اداکاری دکھا رہے ہیں، جس میں کمال فن کی معراج نظر آئی، جس کا رس آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ مجھ سے بھی چند فقرے سننے کے بعد ڈھیر ساری نصیحتیں بھی کی۔رخصت کرتے وقت انہوں نے اپنی شہکار کتاب ’’آنگن میں وہ‘‘ بھی پیش کی ۔جس کے لئے میں ان کا شکر گزار ہوں، جس کو میں نے کپکپاتے ہاتھوں سے لیتے ہوئے پڑھنے کی نیت باندھی، اچھوتا پن چھوٹے فقرے، تکرار، فصاحت و بلاغت علامتی انداز اور تخیل کی پرواز مجھ جیسے ایک عام اور کند ذہن طالب علم کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ الفاظ روزمرہ اور سادہ ہونے کے باوجود پر کاری اور علامتی ہونے کے باعث کچھ بھاری بھی محسوس ہوئے ،یہ افسانے پڑھ کر یہ خیال میرے ذہن میں پختہ ہو گیا کہ واقعاً کشمیراردو زبان و ادب میں وہی مقام رکھتا ہے جو کسی دور میں دبستان لکھنو کا طرہ امتیاز ہوا کرتا تھا۔ یہاں پر بھی کچھ ایسے باضمیر جرأت مند قلم کار موجود ہیں جو خون جگر سے سنگلاخ زمین کی سنچائی کرنے میں مصروف ہیں۔’’ آنگن میں وہ‘‘ کے حوالے سےکچھ باتیں عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کتاب میں شامل پہلی کہانی رنگ سے لے کر ۔۔۔میرے دوست تک وہ ساری چیزیں ملتی ہیں جو کسی بھی تخلیق کار کے فن کو اعتبار بخشتی ،جس کا اشارہ ہمیں پروفیسر حامدی کاشمیری کے لکھے ابتداء (ایک نظر )میں بخوبی ملتا ۔آپ نے سادہ اور عام فہم عمدہ کہانیاں بھی لکھیں ہیںاور علامتی اور تجریدی کہانیاں بھی ۔۔۔میں اگر افسانہ شکر بابا پر بات کروں یا رائے دوں تو کہانی پڑھنے کے دوران یہ تجسس پیدا ہوتا ہے کہ شکر بابا کون ہے، دسیوں نام ذہن میں قائم ہوتے ہیں کہ شکر بابا کون ہے، اس کا خلوص اور انسانی ہمدردی دیکھ کر کسی سیاسی رہنما کا عکس اُبھرتا ہے، کبھی وہ مذہبی پیشوا نظر آتا ہے، کبھی ولی کامل اور کبھی شکر کا بیوپاری اور کبھی نفرتوں کے شہر میں محبتیں بانٹنے والا پیارا جوگی۔یہی سب کچھ تخلیق کی عظمت اور افسانہ نگار کی کامیابی کا زندہ ثبوت ہے۔
�����������������