فکرو ادراک
قیصر محمود عراقی
بے شک جب تک موبائل فون نہیں تھا،ہماری زندگی میں سکون تھا،لوگوں کے پاس وقت ہوتا تھااور رشتوںمیں خلوص ومروت کی چاشنی بھی تھی۔ اپنے عزیزوں، دوستوںاور پیاروںکی ہر خوشی غمی میں لازماًشمولیت کے لئے وقت بھی نکل آتا تھا۔ پھر موبائل فون آیاتو اس سے صرف کال کرنے اورسُننے کی سہولت میسر تھی، پھر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ موبائل فون میں جدت آتی گئی اور اب اس وقت ایک اکیلے موبائل نے اپنے اندر درجنوں ایجادات کو سمو لیا ہے اور عفریت بن کر بہت سی ایجادات کو کھا لیا ہے۔اس اکیلے موبائل نے انسان کو بے شمارسہولتیں دے دی ہیںاور اس کا بہت سا وقت بچا بھی لیا ہے لیکن اس کے باوجود اب انسان کے پاس وقت کی قلت ہوگئی ہے۔ فون انسانی زندگی کا لازمی جز بن چکا ہے اور اس کی لت نے انسانی زندگیوں کو مشکل میں مبتلا کررکھا ہے،لوگ اس کے ساتھ ایسے چپک گئے ہیں کہ اس سے جان چھڑانا بھی چاہیں تو جان چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ نتیجتاًموبائل فون کی لت کی وجہ سے ہم بے شمار مسائل ومصائب کا شکار ہوچکے ہیں۔ بے خوابی ، پریشانی، بے چینی، دبائو، تنائو، اُداسی، چڑچڑاپن، جذباتیت اور بے سکونی نے ہمیں گھیر رکھا ہے۔ تجزیاتی و تحقیقی رپورٹس کے مطابق دنیا کی 66%آبادی موبائل فون کا شکار ہےاورایک فرد دن میں تقریباً3گھنٹے موبائل فون استعمال کرتا ہےجبکہ 87%موبائل فون استعمال کنند گان سونے اور جاگنے سے پہلے اور بعد میں اپنے موبائل فون چیک کرتے ہیں۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں روزانہ تقریباً 1گھنٹہ اپنے موبائل فون کو تنہائی میں استعمال کرتے ہیںجبکہ 33%لوگ موبائل فون کو دوستوںکے ساتھ رابطے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اوسطاً ایک فون استعمال کرنے والا دن میں 150بار فون لاک اور ان لاک کرتا ہے، 50%سے زیادہ فون استعمال کرنے والے کبھی بھی اپنا فون بند نہیں کرتے، 70%فون استعمال کرنے والے اپنے فون اپنے پاس رکھ کر سونے کے عادی ہیں۔ الغرض موبائل فون نے ہمیں اپنے خاندان سے کاٹ کر رکھ دیا ہے، ہم جسمانی طور پر موجود ہونے کے باوجود اپنے بہن ، بھائیوں، ماں باپ، بیوی بچوںاور دیگر قریبی عزیزوںسے کٹ کر روبوٹس والی زندگی گذارنے پر مجبور کردیئے گئے ہیں۔لہٰذا ہمارے لئےموبائل فون کی اس لت سے بچنا بہت ضروری ہے، ہم اپنے فون کےاستعمال کے دورانیہ کو کم کرکے اس سے جان چھڑا سکتے ہیں، فون کے استعمال کے اوقات کار مقرر کرنے کے بعد اس پر سختی سے عمل کرنے کی کوشش کرسکتےہیںکیونکہ موبائل فون کی لت کی ایک وجہ اس کا ضرورت کے بجائے عادتاً استعمال ہے۔ ذراغور کریں کہ ہم موبائل فونز کے ساتھ کیوں چپک گئے ہیں؟ کیا عملی زندگی کی عدم برداشت ، سماجی روابط میں کمی اور دوری ، دوسروں کی جانب سے توجہ اور پسند وغیرہ کی کمی کی وجہ سے ہم موبائل فون کی لت کے عادی ہوچکے ہیں،جبکہ موبائل فون کی لت کی وجہ سے ہمارا حافظہ ، ہماری توجہ، ہماری مہارتیںاور ہمارے فیصلے متاثر ہورہے ہیں۔ لہٰذا کوشش کریں کہ موبائل فون کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب کریں تاکہ طرح طرح کے فونز کی لت سے جان چھڑائی جاسکے۔
رابطہ ۔:6291697668