مشتاقؔ فریدی، ڈوڈہ
اللہ تعالیٰ نے اس دنیائے ودوں میں خیر و شر کو لازم و ملزوم رکھا ہے، جہاں آنکھوں کی ٹھنڈک پہنچانے والے سبزہ زار اور لہلاتے ہوئے گلہائے رنگار رنگ ،چشم بصیرت کو دعوتِ نظارہ دیتے ہیں، وہیں خاردار جھاڑیاں اور کیکٹس جیسے تکلیف دہ پودے بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح معاشرہ میں متنوع قسم مزاج اور فطرت رکھنے والے افراد بھی ہوتے ہیں۔رسا ؔ جاودانی نے اس فکر و خیال کو یوں شعری جامہ پہنایا ہے،؎
زلف مشکین سے رخ کی زینت ہے
کفر اسلام کا سہارا ہے
زلف و عارضکے سب کرشمے ہیں
ورنہ شام کیا سحر کیا ہے
انسانی سماج بھی اس طرفی تضاد کی آئینہ داری کرتا ہے، یہاں ایسے افراد بھی کثرت سے ہیں جن کا و جود شر سے مملو ہوتا ہے اور ایسے اشخاص بھی سماج کی زینت ہوتے ہیں جن کی ذات گرامی اور کردار تا بندہ اور درخشندہ ہوتا ہے۔؎
ہم سخن فہم ہیں
غالبؔ کے طرفدار ہیں
اس شعر آبدار کے تناظر میں دو آفیسران R.L Sharma اور Sardar Bhatia کا ذکر کرتا ہوں۔ R.L Sharma محکمہ اگریکلچر میں جوائنٹ ڈائیریکٹر ہوا کرتے تھے۔ ایک دن ڈوڈہ تشریف لائے، اس وقت یہاں سردار ہر بنس سنگھ اگریکلچر اسسٹنٹ تھے۔ سردار صاحب نے شرما صاحبب سے پوچھا Sir Lunch میں کیا کھانا پسند فرمائیں گے ۔ شرما صاحب نے کہا :میں نے جموں سے ہی دال سبزی ہلدی نمک تیل وغیرہ ساتھ لایا ہے، پکانے کےلئے چپراسی بھی ساتھ ہے۔ آپ یہ بتائیں کہ کھانا کس کمرے میں تیار کیا جائے۔ سردار ہر بنس سنگھ نے کہا جناب ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں، ہم بھی ویشنو کھانا ہی بنوائیں گے۔
شرما صاحب نے کہا ،جناب سردار صاحب! آپ کا بہت بہت شکریہ۔ دیکھئے !میں آپ کی جیب کاٹوں گا تو آپ اپنے اسٹاف کی جیبیں کاٹیں گے اور ہمارے کھانے پینے کا خرچہ پورا کریں گے۔ دیکھئے، میری تنخواہ بھی آپ سے دوگنی ہے۔ مجھے ٹور پر آنے کا T.A D.A بھی ملے گا۔
کٹھوعہ سے تعلق رکھنے والے سردار بھاٹیہ صاحب ڈوڈہ میں چیف ایجوکیشن آفیسر آئے۔ اس کا سراپا فقیرانہ لگتا تھا ۔ پہلی ہی ملاقات میں انہوں نے اپنی اخلاقی عظمت سے متاثر کیا۔ ملاقات کے دوسرے دن انہوں کہا، مشتاق صاحب آپ کے گھر ضرورت سے زائد ٹی پائی ہوگی۔ راقم نے جناب ایک نہیں دو ضرورت سے زاید ہیں تھوری دیر میں دوں گا۔ ساتھ ہی راقم نے کہا، جناب آپ کے آفس میں بھی ضرورت سے زائد ٹی پائیاں ہیں۔ راقم جملہ پورا کرنے ہی والا تھا کہ سردار صاحب نے کہا : مشتاق صاحب !آج دفتر سے ایک ٹی پائی اٹھوائوں گا، تو کل دفتر کا سارا فرنیچر ہی گھر بھیج دوں گا۔
ایک بار 12th کے امتحان ہو رہے تھے۔ ایک گاوں میں Exam Centre دیکھنے گئے ،شام کو واپسی پر ملاقات ہوئی۔ راقم نے پوچھا جناب! ٹور کیسا رہا؟
جواباً کہا بہت اچھا رہا۔ راقم نے پوچھا کوئی کاپنگ کیس کیا، انہوں نے جواباً کہا مشتاق صاحب گائوں میں ٹیچر پڑھاتے نہیں ہیں ،بچے نقل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ راقم نے دوسرا سوال کیا Lunch وغیرہ کہا ں کیا؟ CEO صا حب نے فرمایا ’’ چار پھلکے اور سبزی ساتھ لے گیا تھا ،نہر کے کنارے بیٹھ کر lunch کیا ۔جبکہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ اکثر آفیسران کھانے پینے کے شوق سے ہی Tour پر Tour کرتے رہتے ہیں اور اپنے ماتحت اسٹاف کو دو نمبر ۲ کی کمائی کرنے پر مجبورکرتے ہیں۔
سردار صاحب جب اپنی کرسی پر تشریف رکھتے تھے، تو یوں لگتا تھا کہ وہ محض عوام کی خدمت کےلئے ہی کرسی پر بیٹھے ہیں ،دروازے پر جلاد نما چپراسیوں کو نہیں رکھتے، آنے والوں کے لئے روک ٹوک کا روایتی طور طریقہ بند نہیں رکھتے تھے۔ کہتے تھے ’’ دیکھئے اللہ نے ہمیں پبلک کی سیوا کےلئے یہ کرسی نصیب کی ہے ،ملازم بڑا ہو یا چھوٹا عوام کے ٹیکس سے ہی تنخواہ وغیرہ لیتا ہے۔ ہم پبلک کے کام نہ آئیں پھر کس کام کے رہے؟ افسر شاہی اور ماتحت اسٹاف کا یہ دلخراش قصہ اہل بصیرت کےلئے چشم کشا ہے۔
ایک بار عید کی آمد آمد تھی، فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کا کلاس قورۃ اہلکار راقم سے ملاقات کےلئے آیا، بجھا بجھا سا چہرہ پریشان حال راقم نے پوچھا، عزیزمن کیا بات آج آپ خلافِ معمول بیحد پریشان لگتے ہیں۔
اس مجبور نے یوں اپنی کہانی اپنی زبانی بیان کی ۔
’’ مشتاق صاحب کیا کہوں بچے عید کےلئے نئے کپڑوں کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں، بازار کا قرضہ پہلے بہت چڑھا ہے، بازار جانا بھی میرے لئے مشکل ہو رہا ہے، دکاندار قرض کا تقاضا کرتے ہیں۔
راقم نے کہا بھئی گورنمنٹ نے تو اس مہینے کی تنخواہ ایڈوانس ہی دینے کا آرڈر کیا ہے تاکہ چھوٹے ملازم بھی عید کی ضروریات پوری کر سکیں۔ اس فورتھ کلاس ملازم نے آبدیدہ ہو کر کہا ’’ جناب تنخواہ کیا خاک ملے گی، ہر مہینے کوئی نہ کوئی آفیسر بالا Tour پر آتا ہے ،اس کے جانےکے بعد دفتر والے سب اسٹاف کی pay سے پانچ پانچ سو کاٹ لیتے ہیں اور صاحب بہادر کا خرچہ پورا کر لیتے ہیں، بچوں کےلئے کپڑے اور عید کی دیگر ضروریات کہاں سے پوری ہو سکتے ہیں۔ دنیا ناتھ نادم نے کیا خوب فرمایا ہے ؎
ولہ زیر دیمو از طوفانس
مجبور تہ بیکس انسانس
یہ تو تھا دو آنجہانی آفیسران کی اخلاقی عظمت اور خدا ترسی کا ذکرِ خیر۔اب بقید حیات محکمہ پولیس کے آفیسران کے حسن اخلاق کی تا بندگی کے ذکرِ خیر سے بھی حظ اٹھائیں۔
جناب زاہد منہاس صا حب ڈوڈہ میں SSP رہے ۔ ایک بار راقم نے پوچھا، جموں میں آپ نے مکان بنایا ہے۔ فرمایا اپنے اسٹاف سے قرض لیکر بنوا رہا ہوں، ڈھانچہ تو کھڑا کیا ہے قرض اتار کر ہی تکمیل کا مرحلہ آئیگا۔ مجبوروں اور تنگدستوں کی امداد اس جذبے سے کرتے رہے تھے،کہ ایک ہاتھ سے دو ،دوسرے کو خبر نہ لگے۔آپ کی اہلیہ محترمہ شہناز بیگم ہر جمعرات کو ایک بڑے تھال میں پلاو وغیرہ ڈال کر ہمارے محلے میں فاقہ زدوں کے ہاں پہنچوادیا کرتی تھی۔ان کے بعد ممتاز احمد صاحب SSP رہے ،ان کے ہاں تو ہر وقت دستر خوان بچھا رہتا تھا۔ جب بھی آفس کا کوئی کلرک فایل لے کر آتا تھا، جب تک نہ پہلے چائے پی لیتا تھا تب تک فایل کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ ضرورت مندر افراد کےلئے آپ کی رہائش گاہ آستاں کی حیثیت رکھتی تھی۔ دفتر کا آدھا کام بیٹھے بیٹھے ہی نپٹا دیتے تھے۔ چار بجتے ہی دفتر کی کرسی اس احساس سے چھوڑ دیتے تھے کہ ہم اسٹاف کو یر غمال بنا کر اللہ کو کیا جواب دیں گے، جس اسٹاف کو ہمیں دفتر یا ڈیرے پر یرغمال بنا کررکھیں گے، ان کے دلوں سے ہمارے لئے بد دعائیں ہی نکلیں گی۔ دعائے خیر کی تو بات ہی نہیں۔
جناب زاہد منہاس صاحب اور ممتاز احمد صاحب کی خوشگوار یادوں سے اب بھی اُن کا کوارٹر مہک رہا ہے۔ زاہد منہاس صاحب نے دو سال پہلے عمرہ کیا ،اب حج کو تشریف لئے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ جو خوش نصیب حج کی بے شمار سعادتوں سے بہرہ ور ہوا ہو اور دربار رسالتِ مآبؐ کے آپ پر پُر نور سائے میں شب و روز گذار کرآئے گا۔ اسکے اتقاءمیں کسقدر نکھارآئے گا۔
جناب محترم ممتاز صاحب SSP اور جناب زاہد منہاس SSP کا تصور دل و دماغ میں ابھرتے ہی یہ نطق و زباں کا بوسہ لیتا ہے ؎
ہر حرف تمنا میرے قدموں کی صدا ہے
جناب ممتاز صاحب کے بعد جناب عبدالقیوم صاحب SSP کی کرسی پر جلواہ افروز ہیں۔ آپ فرائض اور سنن پر کار ِسرکار کو ترجیح دیتے ہیں، جہاں نظام میں ڈھیلا پن محسوس کرتے تو قبل و قال کے بغیر طنابیں کس لیتے ہیں۔ خوئے دلنوازی کے علی الرغم دو ٹوک کلام و تکلم سے کام لیتے ہیں۔ جناب عبدالقیوم صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے منشیات کی بیخ کی کاعزم مصمم کر رکھا ہے۔ اس سلسلہ میں کاوشیں اور یوتھ سے ملاقاتیں کرنا مفید ہوگا ۔ میونسپلٹی ممبران کا رول اس تعلق میںا ہم ہو گا۔ منشیات فروش دکانداروں کوقانون کی گرفت میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مذکورہ آفیسران کے علاوہ جن پیشرو SSPs نے یہاں انسان دوستی بقائے امن و امام اور عوامی خدمت کے تابندہ نقوش چھوڑے ہیں۔اگر آفیسر صاحبان ، لیڈر حضرات ، حکیم الامت علامہ اقبال ؓ اس شعر پر نور تفسیر مجسم بن کر حقوق العباد ادا کرتے رہیں تو زمانہ ان کے نقوش پا کا بوسے لیگا۔؎
جس سے جگر الامہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاوں کے دل میں سے دہل جائیں وہ طوفاں
ان میں SP جناب شبیر ملک ، بشیر کھٹانہ، محمد شریف چوہاں اور SP بھدر واہ جناب محمد آفتاب صاحب حسن اخلاق ،اعلےٰ صفات سے متصف ہیں ۔ ربّ کریم آپ سب کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے۔ ( آمین)
(رابطہ۔9596959045)