ہارون ابن رشید
آج ہر شعبہ زندگی میں جو بحران نظر آرہا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اعلیٰ اخلاقی اقدار سے منہ موڑ لیا ہے اور انسانی خصائص سے اس کے ماننے والے دور ہوگئے ہیں، سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے مذہب کے پاکیزہ اصولوں اور روشن ہدایات سے رو گردانی کررہے ہیں، جس کی سبب زندگی کے تمام شعبے انحطاط کے شکار ہیں ،کوئی جگہ ایسی نہیں جو بُرائی سے صاف و پاک ہو،گویا آج ہم ایسے مکان میں رہ رہے ہیں جس کی کوئی چھت ہی نہیںہے ۔ اگر چھت سلامت ہوتی تو اعتماد سے کہہ سکتے ، کہ کہاں پانی ٹپک رہا ہے اور کہاں نہیں ،لیکن جب مکان ہی چھت سے محروم ہو تو یہ دیکھنا فضول ہے کہ کس کا دامن تر ہے اور کس کا نہیں ؟
دراصل کوئی بھی معاشرہ افکار و نظریات کا جوڈھا نچہ کھڑا کرتا ہے، زمانے کی تبدیلوں اور تجربوں سے اس میں تبدیلی رونما ہوتی ہے لیکن اس کا جو عقیدہ ہے ،وہی چھت کا کام انجام دیتاہے اور ہر سرد و گرم سے معاشرے کو محفوظ رکھتا ہے، جب کہ موجودہ عہد کے معاشرہ کی اصلی خرابی یہ ہے کہ وہ عقیدہ سے محروم ہوگیا ہے حالانکہ عقیدہ ہی انسان اور جانوروں میں فرق پیدا کرتا ہے، آج ہم اپنے سماج میں بدعنوانی ،دولت کے غلط استعمال اور ظلم و درندگی کو دیکھ کو حیران رہ جاتے ہیں کہ انسان کس قدر غیرذمہ دار ہو سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان انسانیت کے مرتبہ سے گرگیا ہے۔ اپنی بات کو واضح کرنے کے لئے ہم شادی بیاہ کے موقع پر ہونے والی تقریبات کی مثال دیں گے جن میں صاحب حیثیت طبقہ کی طرف سے مال و دولت کے بے جا اصراف کا جو مظاہرہ ہو رہا ہے، وہ کسی طرح جائز نہیں کیوں کہ اسلام کی نظر میں شادی حقیقت میں مردوزن کے اس مقدس رشتہ کا نام ہے، جس کو عبادت قرار دیا گیا ہے جو ایمان کی حفاظت کا ذریعہ ہے اور اس میں اہم نکاح ہے جس کو پیغمبر اسلامؐ نے اپنی طرف منسوب کرکے کہ ’’وہ میری سنت ہے ‘‘ اس کی اہمیت کو مزید دوبالا کر دیا ہے لیکن اسی کے ساتھ آپؐ نے اس نکاح کو اتنا سہل اور ہلکا پھلکا بنا کر دنیا کے سامنے رکھا تھا کہ ہر کسی امیر و غریب کے لئے اس کی انجام دہی آسان ہوگئی تھی۔ ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ جو نکاح یعنی شادی بیاہ سادگی کے ساتھ انجام پاتا ہے، اس میں برکت ہوتی ہے اور اس کی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ عملی طور پر اپنی لخت جگر اور چہیتی بیٹی حضرت فاطمہؓ کا نکاح اسی سادگی کے ساتھ کیا کہ جس میں فضول رسمیات کی جھلک نظر نہیں آتی ۔ہندوستانی مسلمانوں کی دوسری بُرائی دور جاہلیت کی طرح رنگ و نسل ،حسب و نسب ،دولت و وجاہت اور اعلیٰ ادنی کا فرق ہے ،حالانکہ اسلام نے اس فرق کو ختم کرکے حسن عمل اور اخلاق و کردار کو عزت و احترام کا معیار قرار دیا تھا۔ مسلمان بُری طرح قبائل، قومیت، ذات، برادری اور دیگر تعصبات کا شکار ہیں ۔احترام آدمیت کے اسلامی سبق کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے پیروں میں طرح طرح کی بیڑیاں ڈال کر خود کو سمیٹ لیا ہے ،اسلام نے انہیں فضول خرچی اور لہو و لعب سے روکا تو وہ اسی برائی میں زیادہ گرفتار ہوگئے ہیں۔ نماز میں ضرور تمام مسلمان ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن مسجد سے نکلنے کے بعد وہ ذات برادریوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں ،یہی وہ معاشرتی برائیاں ہیں جو گھن کی طرح آج مسلم قوم کو کھائے جارہی ہیں۔ ان کی نشاندہی اور اصلاح کے بارے میں درد مند عالم دین تلقین کر رہے ہیں لیکن کون سنتا ہے ’’ فغان درویش ‘‘ کے مصداق ہم کانوں میں انگلیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔