سید مصطفیٰ احمد
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال ہمارے لیے اجتماعی ماتم کی مانند ہے۔ ہر قوم کے کچھ اقدار ہوتے ہیں جو اسے عظمت کی بلند چوٹیوں تک پہنچاتے ہیں اور دوسرے سے منفرد بناتے ہیں۔ آج تک کوئی قوم شعوری یا غیر شعوری طور پر ان اقدار کو پامال نہیں کرتی کہ اسے بے اقدار قوم کہا جائے۔ تاہم، غفلت کی حالت میں یہ اقدار کھو دیتی ہے۔ اور جب یہ اقدار چھن جائیں تو واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ ہماری معاشرت میں اقدار گم ہوتی جا رہی ہیں یا یوں کہیں کہ وہ پس پردہ چلی گئی ہیں۔
یہ یک روزہ واقعہ نہیں بلکہ کئی سالوں کی بیماری ہے۔ بہت پہلے وادی کشمیر کا ہر گوشہ عظیم اقدار کا مرکز تھا جنہیں دنیا بھر میں سراہا جاتا تھا اور اپنایا جاتا تھا۔ مہربانی، صبر، محبت، معافی، دیانت داری وغیرہ ہماری خصوصیات تھیں، مگر اب یہ کم ہی نظر آتی ہیں۔ بالغ ہو یا بچہ، سب ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔ جب معاملہ یہ ہو تو اس کے اسباب بھی ضرور ہوں گے۔ آنے والی سطور میں ہم اس معاشرت میں اقدار کے زوال کے اسباب پر روشنی ڈالیں گے۔
پہلا سبب مادیت پرستی ہے۔ زیادہ سے زیادہ جمع کرنے کی امید میں ہم اقدار سے دور ہو گئے ہیں۔ منافع کی ہوس نے ہمیں مشین بنا دیا ہے اور اقدار کی فکر نہیں رہی۔ اقدار کا تعلق روحانیت یا مذہبی حوالے سے ہے، یا یوں کہیے کہ یہ شعوری شخصیت کی تشکیل کرتی ہیں۔ مگر آج کی دنیا میں آزاد منڈی معیشت ہے۔ جتنا زیادہ محنت کرو گے اتنا زیادہ کماؤ گے اور پیسے سے خوشی اور آرام آتے ہیں۔ مگر اقدار پیٹ نہیں بھرتی، اس لیے یہ غیر اہم ہو جاتی ہیں۔ اس صورت میں اقدار کی حیثیت کم ہو جاتی ہے اور جو سب سے اعلیٰ مخلوق ہے، وہ زندہ لاش بن جاتا ہے۔
دوسرا سبب سائنس اور ٹیکنالوجی ہے۔ انسان کی زندگی کا مقصد آرام ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی تقریباً بے اقدار ہیں، مگر پھر بھی راحت دیتی ہیں۔ تاہم، اقدار عموماً درد لاتی ہیں، اگرچہ ان کے دور رس اثرات ہوتے ہیں۔ جب زندگی مشکل ہو جائے اور جینے کا کوئی مقصد نہ ہو تو انسان سائنس و ٹیکنالوجی کو اپناتا ہے اور اقدار کو آرام و آسائش کے لیے قربان کر دیتا ہے۔ جب ایک بے اقدار شخص بہت سارا پیسہ کما سکتا ہے، تو اقدار پر چلنے والا کیوں زوال پذیر ہوتا ہے؟
تیسرا سبب سیکولر نقطہ نظر ہے۔ اب ہم اتنے زیادہ سیکولر ہو گئے ہیں کہ کسی بھی مذہب یا ضابطہ اخلاق، چاہے پرانا ہو یا نیا، کو بے قیمت سمجھتے ہیں۔ سیکولرازم کے پردے میں ہم سب حدود کو پار کر چکے ہیں اور آزاد ماحول میں رہ رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر جگہ لوگ آزادی سے جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اس سے منفی آزادی کا تصور بھی جنم لے چکا ہے۔ بے ڈرائیور گاڑی کہیں نہیں پہنچے گی، ہمارا حال بھی ایسا ہے۔ ہم سیکولر دنیا میں خوشی سے جی رہے ہیں، جو ہماری تخیلات نے بنائی ہے، اور ہم وہاں آرام محسوس کرتے ہیں۔
چوتھا سبب خدا سے دوری ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا کو برقرار رکھنے کے لیے خدا کی ضرورت نہیں، یہ خود ہی چل رہی ہے۔ کوئی نگرانی نہیں۔ ہر کوئی آزاد پیدا ہوا ہے، کسی بھی وجہ سے۔ زندگی بس ان لمحات کو انجوائے کرنے کے لیے ہے اور مر جائے پھر کبھی نہ اٹھے۔ اس صورت میں اقدار کی اہمیت نہیں رہتی۔ آخرت پر ایمان رکھنے سے انسان محتاط ہو جاتا ہے۔ ہر قدم سوچ کر اٹھاتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ معاملات بھی ہوشیاری سے کرتا ہے۔ تاہم، جب یہ بات دل و دماغ سے ختم ہو جائے تو انسان بے سمت ہو جاتا ہے اور قیمتی اقدار کو پامال کر دیتا ہے اور نتیجہ انتشار اور کنفیوژن ہے۔
پانچواں اور آخری سبب مذاہب میں بگاڑ ہے۔ ہر مذہب کسی نہ کسی انداز میں ضابطہ اخلاق سکھاتا ہے۔ مگر نام نہاد مذہبی رہنما انہیں ذاتی مفادات کے لیے بدل دیتے ہیں۔ رسوم و رواج بے فائدہ ہیں جب تک دل و جان پاک نہ ہوں۔ آنکھیں، کان، زبان، جلد، ناک وغیرہ، جسم کے تمام اعضاء ہر وقت اصولوں کے پابند ہونے چاہئیں۔ رسوم ایک خاص مقصد کے لیے ہیں۔ تاہم، دوسروں کا خیال رکھنا اور اچھا سوچنا اصلی زندگی اور اقدار کی زندگی ہے۔ مذاہب اقدار سکھاتے ہیں تاکہ معاشرہ رہنے کے قابل بنے۔
لہٰذا وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اقدار والی زندگی گزاریں۔ موجودہ انتشار و کنفیوژن میں انسانیت یا اقدار کا بڑا کردار ہے۔ مایوسی اور افسردگی ختم ہو جائے گی جب ہم انسان بن کر زندہ رہنے کی کوشش کریں گے۔ آئیے عہد کریں کہ اپنی زندگی اقدار کے ساتھ گزارنے کی پوری کوشش کریں گے۔
(رابطہ۔7006031540)