پیر اقبال رشید
رمضان دراصل انسان کو نظم و ضبط، صبر، برداشت اور اعتدال کا درس دیتا ہےاور یہ بھی بتاتا ہے کہ زندگی کے ہر پہلو میں توازن اور اعتدال ضروری ہے۔اسلام ہر معاملے میں میانہ روی کو پسند کرتا ہے، روزہ بھی اسی اعتدال کا عملی مظاہرہ ہے۔ انسان دن بھر کھانے پینے سے پرہیز کرتا ہے مگر افطار کے وقت اسے اجازت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق کھائے پیئے۔ روزہ انسان کو سکھاتا ہے کہ نہ تو خواہشات کے غلام بننا چاہیے اور نہ ہی زندگی کی جائز ضروریات کو نظر انداز کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کھاؤ اور پیو مگر اسراف نہ کرو۔ اسی طرح انسانی زندگی کے لئے ایک بنیادی اصول بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسان کو ہر کام میں حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ روزہ دراصل انسان کے نفس کی تربیت کرتا ہے۔ جب انسان بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی میں صبر اور ضبط ِنفس کتنے اہم ہیں۔ یہی صبر انسان کو زندگی کے دیگر معاملات میں بھی توازن قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ جب انسان اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنا سیکھ لے تو وہ زندگی کے مختلف میدانوں میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ ماہِ رمضان میں مسلمان زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، نماز تراویح ادا کرتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور صدقہ و خیرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہم اپنی گھریلو، معاشرتی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بھی نظر انداز نہ کریںبلکہ صحت کے معاملے میں بھی اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ روزہ رکھنے کا مقصد جسم کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اسے نظم و ضبط کا عادی بنانا ہے۔ اگر افطار کے وقت بے اعتدالی کی جائے، زیادہ کھایا جائے یا غیر صحت بخش غذا کا استعمال کیا جائے تو روزے کا اصل مقصد متاثر ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان سادہ اور متوازن غذا اختیار کرے تاکہ صحت بھی برقرار رہے اور عبادت بھی بہتر طریقے سے انجام دی جا سکے۔ ماہ ِ مبارک امیر اور غریب کے درمیان فاصلے کم کرنے کا درس دیتاہے۔ جب صاحبِ حیثیت لوگ زکوٰۃ اور صدقہ دیتے ہیں تو معاشرے میں ہمدردی اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے ،گویا معاشرے کی ترقی کے لیے بھی توازن اور انصاف ضروری ہے۔رمضان دراصل انسان کو ایک مکمل تربیتی پروگرام فراہم کرتا ہے۔ اس مہینے میں انسان کو اپنی عادات، رویوں اور سوچ کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ اگر ہم رمضان کے پیغام کو صحیح معنوں میں سمجھ لیں تو ہماری پوری زندگی کو بدل سکتی ہے۔ اعتدال، صبر اور توازن وہ خوبیاں ہیں جو نہ صرف رمضان میں بلکہ سال کے ہر دن میں ضروری ہیں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ رمضان کا اصل پیغام یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی میں توازن پیدا کرے۔ عبادت اور دنیاوی معاملات، صحت اور غذا، دولت اور سخاوت، وقت اور ذمہ داری ،ان سب میں اعتدال اختیار کرنا ہی کامیاب زندگی کی ضمانت ہے۔ جب انسان اس اصول کو اپنا لیتا ہے تو اس کی زندگی میں سکون، خوشی اور کامیابی آ جاتی ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ماہ رمضان کے اس عظیم سبق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور ہر معاملے میں میانہ روی اور توازن کو اختیار کریں۔