قیصر محمود عراقی
توبہ کیا ہے؟ کس سے کی جاتی ہے؟ توبہ ایک طرح کی معافی ہے، کسی سابقہ غلط بات یا بری حرکت پر شرمندگی کا احساس واظہار ہے۔ توبہ اس ہستی سے کی جاتی ہے جس سے انسان کو ڈر لگتا ہو، اسے یہ معلوم ہو کہ ایک نہ ایک دن یہ ہستی اس سے جواب طلب کریگی اور غلط حرکتوں پر سزا بھی دیگی۔ توبہ اللہ کو بہت پسند ہے، خالق کائنات ان سے محبت کرتا ہے جو لوگ اس کی بارگاہ میں جھکتے ہیںاور توبہ کرتے۔ جب ایک مسلمان زندگی میں گناہ کرتا ہے، غلطیاں کرتا ہے اور ظلم کرتا ہے لیکن بعد میں وہ اپنی حرکت وسکنات پر نادم ہوکر اللہ کی بارگاہ میں جھک جاتا ہے، توبہ کرتا ہے، عاجزی کرتا ہے اور روتا ہے تو یقینا ًاس بندے کی توبہ قبول ہوجاتی ہے۔ توبہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر خصوصی انعام ہے، اگر وہ ہماری نافرمانیوں پر سزا دے تب بھی اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس انعام واحسان سے کوئی شخص فائدہ نہ اٹھائے تو یقینا ًبد نصیبی کی بات ہے۔ محققین کے نزدیک کامل توبہ کی چند شرائط ہیںجن پر عمل پیرا ہوکر انسان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی جملہ گناہوں، برائیوںاور نافرمانیوںسے شرمندہ اور تائب ہوکر اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کرکے دنیا اور آخرت میں عذاب الہٰی سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔
توبہ کی پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان اپنے گناہ ، طور طریقوںاور برے اعمال پر شدید پشیمانی اور شرمندگی محسوس کرے، جو کہ در حقیقت برے کاموں سے کنارہ کشی کی طرف پہلا قدم ہے، ندامت کے صحیح ہونے کی علامات میںدل کا نرم ہوجانا اور کثرت سے آنسوئوں کا جاری ہونا ہے کیونکہ جب دل کو اللہ اور اللہ کے رسول ؐکی ناراضگی کا احساس جکڑ لے اور بندوں پر عذاب الہٰی کا خوف طاری ہوجائے تو یہ گریہ وجاری کرنے والا اور غم زدہ ہوجاتا ہے۔اسی لئے حضوراکرمؐ نے ارشاد فرمایا، ’’ندامت ہی توبہ ہے‘‘ جمہور محققین کے نزدیک خالص ندامت ہی توبہ کی اصل ہے جوکہ خلوص دل سے کوشش کے بغیر ممکن نہیں۔ توبہ کی دوسری شرط ترک گناہ و معصیت ہے۔ برے فعل پر شرمندگی اور پشیمانی کے احساس کے بعد بندے کے دل میں گناہ ترک کرنے کا داعیہ جنم لیتا ہے اور بندہ شرم محسوس کرتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ایک کمزور اور حقیر ترین مخلوق ہوکر اس کے ساتھ اپنے تعلق بندگی کی حیا نہ کی اور اس کے احکام کے خلاف ورزی کا مرتکب ہوا، یہ احساس ترک گناہ پر منتج ہوتا ہے۔ توبہ کی تیسری شرط یہ ہے کہ توبہ پر پختہ رہنے کا عزم کریںیعنی بندہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور پختہ عہد کرے کہ جن نافرمانیوں، خطائوں اور گناہوں کا ارتکاب وہ کرچکا ہے، آئندہ یہ اس کی زندگی میں کبھی داخل نہیں ہونگے، کیونکہ توبہ کی ابدی سلامتی کا انحصار اس پر ہے کہ وہ کس قدر اپنے عہد پر پختہ رہتا ہے، اس لئے پکا عزم کرکے آئندہ یہ گناہ ہر گز نہیںکرونگا، اگر شیطان کان میں کہے کہ تو دوبارہ یہ گناہ کریگاتو اس کا جواب یہ ہے کہ تقویٰ کا عزم قبولیت توبہ کیلئے کافی ہے، بشرطیکہ اس عزم کو توڑنے کا ارادہ نہ ہو ۔ بس توبہ کے وقت اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کردیا جائے کہ اے اللہ!میں آپ کے بھروسے پر پکا عزم کرتا ہو کہ آئندہ یہ گناہ نہیں کرونگاتو بندہ جب تک گناہوں پر نادم اور تائید رہیگا،اللہ تعالیٰ کی رحمت اس پر سایہ فگن رہےگی۔ اس کے علاوہ حقوق العباد میں سے اگر کسی کے ساتھ ناانصافی یا ظلم کربیٹھے تو اولاً اس کے حقوق ادا کرے اور اگر یہ توفیق نہیں پاتا تو پھر اس سے معافی کا خواست گار ہو اور اللہ تعالیٰ سے عفوودر گزر کیلئے دست بہ دعا رہے۔ آج بدقسمتی سے مذہبی اور دنیوی امور کو علیحدہ علیحدہ پلڑوں میں رکھنے کے باطل طریقہ کار نے ہمارے معاشرے میں نیکی کے تصور کو دھندلادیا ہے، بیک وقت لوٹ کھسوٹ، ظلم وناانصافی، حق تلفی اور مفاد پرستی بھی جاری ہے اور عبادت کے ساتھ ساتھ محض لفظی توبہ بھی ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس منافقانہ طرز عمل کی موجودگی میںترک گناہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ حقیقی توبہ کے بعد بشری کمزوری کے باعث کسی بندے سے گناہ کا سرزد ہوجانا ممکن ہے لیکن اگر وہ گناہ کرنے کے بعد ستر بار بھی صدق دل سے معافی مانگے تو توبہ قبول ہوگی۔ لہٰذا ان سہل ترین شرائط پر عمل پیرا ہوکر انسان سچی توبہ کی برکات سے دائمی طور پر مستفیض ہوسکتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اپنی اس قلیل زندگی کے ایک ایک لمحے کو نیکیوں سے قیمتی بنائیںاور جلد اپنے گناہوںسے کامل توبہ کریں،اس سے پہلے کے توبہ کا وقت نہ رہے اور وقت قضا آجائے۔
رابطہ۔6291697668