کتاب کا نام:گمشدہ دولت نوعیت: افسانوی مجموعہ
مصنف: طارق شبنم پبلیشر:جی۔این۔کے پبلی کیشنز
قیمت: 250 روپے مبصر: علی سکندر شکن
ملنے کا پتہ: میزان پبلشر ز سرینگر
اردو افسانہ نگاری کے میدان میں سرگرم جناب طارق شبنم صاحب کایہ بیش قیمتی، معیاری اورغیر معمولی اہمیت کا حامل افسانوی مجموعہ 170 صفحات پر مشتمل ہے اس مجموعہ میں کل 27 افسانے شامل کیے گیے ہیں ۔ وہ اس طرح ہیں۔
بے درد زمانہ، اندھیرے اجالے، صدمہ، آبرو، فریبی اجالا، کہانی کا المیہ، دہشت کے سائے ، اعتبار، انتظار، پشیمانی، شکست، اونچی اڑان ، مہربان کیسے کیسے، بیس سال بعد، درد کا رشتہ، گمشدہ دولت، ڈھونگی لٹیرے، بے رنگ، چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری، دھوپ چھاؤں، بغاوت ، بھنور ، مراجعت، مسیحا کی تلاش، آخری جام،سنہرا پھندا ، نسخہ کیمیا۔
کتاب کا پیش لفظ جانےمانے افسانہ نگار جناب نور شاہ نے لکھا ہے اسکے علاوہ ڈاکٹر اشرف اثاری کا مضمون "طارق شبنم ایک ہونہار افسانہ نگار" بھی کتاب میں شامل ہے ۔ جناب طارق شبنم "اپنی بات" میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ لکھنے اور پڑھنے کا شوق تو راقم کو بچپن سے ہی تھا اور کچھ عرصہ تک میں شوقیہ قلم کو یوں ہی گھسا رہا پھر جب ذہن اور دل مسلسل واقعات کی زد میں رہنے لگے تو میرے دل نے مجھے لکھنے پر اکسایا اور میرے اندر کہانی کار بننے کا احساس بڑھتا گیا ۔
مجھے طارق شبنم صاحب کے بارے کچھ زیادہ معلوم نہیں میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ موصوف کا تعلق سری نگر کشمیر سے ہے اور وہ ایک اچھے افسانہ نگار ہیں آئے دن انکے افسانے روزنامہ کشمیر عظمی میں چھپتے رہتے ہیں۔ جب میں نے زیر تبصرہ کتاب "گمشدہ دولت" کا بالاستعاب مطالعہ کرنا شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ طارق شبنم صاحب نے جس عرق ریزی، دیدہ وری اورزیرکی سے متاع شکیل کا مطالعہ کیا اور ان کے نظام جمالیات،تصورجمال،تنقیدی فکر اور ان کی بین العلومی مزاج کو جس ہنرمندی کے ساتھ پیش کیا ہے وہ کمال ہے۔
موصوف کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے کبھی ایک لمحہ کیلئے بھی یہ خیال نہیں ہو سکتا کہ ہم ان لوگوں کے حرکات و سکنات کا مطالعہ کر رہے ہیں جو ہم میں سے نہیں ہیں ۔ وہی روز مرہ کی زندگی ، وہی صبح و شام ۔ جس سے ہمیں دو چار ہونا پڑتا ہے ۔
مثال کے طور پر کتاب میں شامل افسانہ " بے درد زمانہ " کا ایک
اقتباس ملاحظہ کیجئے:
"سندری نے پوٹلی نکالی اور رقم گننے لگی۔
" صاحب کچھ روپے کم پڑ رہے ہیں تھوڑی سی چھوٹ دے دیجئے" ۔
سندری نے لجاجت سے ہاتھ باندھ کر صاحب سے التجا کی اور امید بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتی رہی جس پر صاحب نے چڑ کر تضحیکی لہجے میں کہا ۔
" یہ کوئی ساگ سبزیاں بیچنے والی چھاپڑی یا مچھلی بازار نہیں ہے یہاں ہر کام کے دام فکسڈ ہوتے ہیں" ۔
" صاحب۔۔۔۔۔" ۔
سندری نے کچھ کہنا چاہا لیکن صاحب نے سندری کی طرف کوئی توجہ کئے بغیر اپنی بات جاری رکھی۔ مکاری اور حیلہ سازی کوئی آپ جیسی بازاری عورت سے سیکھے"۔
یہ الفاظ سنتے ہی سندری کی نس نس میں درد کی ایک لہر سی دوڑ گئی وہ اپنے شوہر کاہاتھ پکڑتے تیز تیز قدموں سے وہاں سے نکل آئی۔ اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوں موم بتی کے پگھلتے ہوئے قطروں کی مانند اس طرح لٹکے ہوئے تھے ۔
کتاب میں شامل افسانہ اندھیرے اُجالے کا بھی ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
" ماجی ! آپ آگے بتائیں کہ آپ کے ساتھ یہ نا انصافی۔۔۔۔۔ یہ زورو زبردستیاں، اور زیادتیاں کیوں ہو رہی ہیں کہ آپ اتنے درد کرب کے طوفان سے گزر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ آخر کیوں۔۔۔۔۔ ؟"
"سب میرے اپنوں کی کرم فرمائیاں ہیں جن کی بے رخی کی وجہ سے میرے وجود کا ایک ایک انگ زخمی ہو گیا ہے۔۔۔۔
" ماجی یہ بے رحم آخر ہیں کون ؟
"وہی جو میری غم خواری اور خیر خواہی کا دعوی کرتے تھکتے نہیں ۔۔۔۔۔"۔
موصوف کے افسانوں میں ادبیت ہے، حق گوئی ہے اور بے باقی ہے ۔
طارق شبنم کے افسانوں میں توازن ہے اعتدال ہے ۔ وہ اپنے افسانوں کے موضوع سماج کے متوسط طبقہ سے حاصل کرتے ہیں وادی کشمیر کی زندگی انکی اچھائیوں برایئوں کا خاکہ بھی انکے افسانوں میں ملتا ہے ۔
مجموعہ کی زبان صاف ستھری اور سادہ ہے کہیں کہیں پر مصنف نے کشمیری زبان کا بھی استعمال کیا ہے ۔
آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ طارق شبنم صاحب نے جس سماج کی حقیقتوں کا آئینہ دکھایا ہے وہ کوئی ذہنی اور تصوراتی سماج نہیں بلکہ انہوںنے ایک جیتے جاگتے سماج کی تلخ و شیریں اور اچھی بری حقیقتوں کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اسی لیے تو محترم کی کتاب ہٰذا خوب خوب پزیرائی حاصل کر رہی ہے میں طارق شبنم صاحب کو تہہ دل سے اتنی نایاب کتاب لکھنے لیے مبارک باد دیتا ہوں۔
���
رابطہ؛ بہرائیچ، اتر پردیش،موبائل نمبر: 9519902612