فکرو فہم
مختار احمد قریشی
انسان کی گفتگو اس کی شخصیت کا پہلا تعارف ہوتی ہے۔ الفاظ کے انتخاب، لہجے کی نرمی یا سختی اور بات کرنے کا سلیقہ سب کچھ بتا دیتا ہے کہ انسان کس ماحول میں پلا بڑھا۔ گھر کی تربیت صرف نصیحتوں سے نہیں بنتی۔ یہ روزمرہ کے رویوں سے جھلکتی ہے۔ انسان سلام کرتا ہے یا نہیں کرتا، سچ بولتا ہے یا باتوں میں ملاوٹ کرتا ہے، دوسروں کی عزت رکھتا ہے یا ان کی چغلی کرتا ہے۔ یہ سب اس کی تربیت کی واضح علامتیں ہیں۔سلام نہ کرنا معمولی بات نہیں، سلام ایک اخلاقی عمل ہے۔ یہ احترام، امن اور تعلق کی بنیاد ہے۔ جو شخص سامنے والے کو دیکھ کر بھی سلام نہیں کرتا وہ دراصل تعلق توڑنے کا اعلان کرتا ہے۔ یہ رویہ اکثر اس گھر سے آتا ہے جہاں بڑوں نے سلام کی اہمیت نہیں سکھائی۔ بچوں نے بڑوں کو بے نیازی سے گزرتے دیکھا۔ انہوں نے سیکھا کہ خاموشی اور بے رخی قابل قبول ہے۔ یہی عادت آگے چل کر معاشرتی سرد مہری میں بدل جاتی ہے۔گفتگو میں چغلی کرنا ایک اور خطرناک عادت ہے۔ یہ صرف زبان کا گناہ نہیں، یہ تربیت کی کمزوری ہے۔ جو شخص پیٹھ پیچھے بات کرتا ہے، وہ اعتماد توڑتا ہے۔ چغلی عموماً ان گھروں میں پروان چڑھتی ہے جہاں بڑوں کی محفلیں شکایت اور بدگمانی سے بھری ہوتی ہیں۔ بچے سنتے ہیں، سیکھتے ہیں اور پھر وہی رویہ اپنا لیتے ہیں۔ ایسے افراد بات کو مسئلہ بناتے ہیں اور مسئلے کو بڑھاتے ہیں۔ضد کرنا بھی تربیت کی نشانی ہے۔ ضد اس وقت مسئلہ بنتی ہے جب انسان دوسرے کی بات سننے سے انکار کرے۔ جب ہر حال میں اپنی بات منوانا مقصد بن جائے۔ یہ رویہ اکثر لاڈ اور بے جا رعایت سے جنم لیتا ہے۔ گھر میں جہاں بچے کو ہر بات پر ہاں ملتی ہو، وہاں برداشت پیدا نہیں ہوتی۔ بڑا ہو کر وہ اختلاف کو دشمنی سمجھتا ہے۔ گفتگو تلخ ہو جاتی ہے۔ تعلقات بوجھ بن جاتے ہیں۔
اچھی تربیت انسان کو سننا سکھاتی ہے، گفتگو صرف بولنے کا نام نہیں، سننا بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ جو شخص بات کاٹتا ہے، اونچی آواز میں بولتا ہے یا طنز کرتا ہے، وہ اپنی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ ایسے رویے بتاتے ہیں کہ گھر میں احترام کا معیار کمزور تھا۔ جہاں بچے نے کبھی بزرگوں کو صبر سے سنتے نہیں دیکھا، وہاں وہ خود بھی صبر نہیں سیکھتا۔
زبان کی شائستگی گھر سے آتی ہے۔ بدتمیزی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتی، یہ برسوں کی نظر انداز شدہ تربیت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جو بچے گالی، طعنہ اور تضحیت سنتے ہیں، وہی آگے چل کر انہی الفاظ کو عام کرتے ہیں۔ پھر معاشرہ شکایت کرتا ہے کہ زبانیں تلخ کیوں ہو گئیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ گھروں میں زبان کیسی تھی۔گفتگو میں سچائی بھی تربیت کی علامت ہے۔ جھوٹ بولنا اکثر خوف سے سیکھا جاتا ہے، وہ خوف جو گھر میں سزا، ڈانٹ، یا بے جا سختی سے پیدا ہوتا ہے۔ جب بچے کو سچ بولنے پر مار پڑتی ہے تو وہ جھوٹ کو تحفظ سمجھ لیتا ہے۔ پھر یہی عادت زندگی بھر ساتھ چلتی ہے، گفتگو میں ملاوٹ بڑھتی ہے، اعتماد ختم ہوتا ہے۔
نرم لہجہ مضبوط تربیت کی پہچان ہے۔ نرمی کمزوری نہیں، یہ اعتماد کی علامت ہے۔ جو شخص پرسکون لہجے میں بات کرتا ہے، وہ اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے۔ یہ قابو گھر کی فضا سے آتا ہے۔ جہاں بڑوں نے غصے کو کنٹرول کیا، وہاں بچوں نے بھی تحمل سیکھا۔ جہاں چیخ چلا عام تھی، وہاں آوازیں بھی اونچی ہو گئیں۔
معاشرتی رویے گفتگو سے جڑے ہوتے ہیں۔ قطار میں بات کرنا، بزرگ کو پہلے بولنے دینا، اختلاف میں ادب رکھنا، یہ سب سکھائے جاتے ہیں۔ یہ خود بخود نہیں آتے۔ اگر گھر میں یہ اقدار موجود ہوں تو بچے انہیں اپنا لیتے ہیں، ورنہ باہر جا کر وہی بدتہذیبی دہراتے ہیں جو انہوں نے اندر دیکھی ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل دور میں گفتگو کا امتحان اور سخت ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر الفاظ تیز ہیں، چغلی، الزام اور تمسخر عام ہے۔ یہاں بھی تربیت واضح نظر آتی ہے، جو شخص اختلاف میں بھی شائستہ رہتا ہے، وہ مضبوط گھرانے کی نمائندگی کرتا ہے۔ جو گالم گلوچ کرتا ہے، وہ اپنی تربیت خود عیاں کرتا ہے۔گفتگو انسان کا آئینہ ہے۔ اس میں جھوٹ بھی جھلکتا ہے اور سچ بھی۔ احترام بھی نظر آتا ہے اور تکبر بھی۔ اگر ہم بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں گھروں سے آغاز کرنا ہوگا۔ بچوں کو سلام سکھانا ہوگا۔ سچ بولنے کی حفاظت کرنی ہوگی۔ چغلی سے روکنا ہوگا، اختلاف میں ادب سکھانا ہوگا۔
انسان کی باتیں اس کے گھر کی کہانی سناتی ہیں۔ اگر گفتگو صاف ہے تو تربیت مضبوط ہے۔ اگر زبان تلخ ہے تو اصلاح کی ضرورت ہے۔ گھر سنورے گا تو گفتگو سنورے گی۔ گفتگو سنورے گی تو معاشرہ سنورے گا۔یہ بات بھی سمجھنی ضروری ہے کہ گفتگو صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں۔ یہ نیت، سوچ اور تربیت کا مشترکہ اظہار ہے۔ انسان کیا کہتا ہے اس سے زیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ وہ کیسے کہتا ہے۔ لہجہ اگر سخت ہو تو سچ بھی تلخ لگتا ہے۔ لہجہ نرم ہو تو تلخ حقیقت بھی قابل قبول بن جاتی ہے۔ یہ صلاحیت کتابوں سے نہیں آتی۔ یہ گھر کے ماحول سے آتی ہے۔اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ آج کی نسل بدتمیز ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ آج کے گھروں میں کیسی گفتگو ہو رہی ہے۔ بچے وہی دہراتے ہیں جو وہ سنتے ہیں۔ اگر ماں باپ ایک دوسرے سے تلخ لہجے میں بات کریں گے تو بچہ نرمی کہاں سے سیکھے گا۔ اگر بڑوں کی گفتگو میں طنز ہو گا تو بچے احترام کیسے سیکھیں گے۔گھر میں اختلاف کا انداز بہت کچھ سکھاتا ہے۔ جہاں اختلاف میں بھی آواز بلند نہ ہو، وہاں بچے سیکھتے ہیں کہ بات دلیل سے کی جاتی ہے، شور سے نہیں۔ جہاں ہر بات پر چیخ ہو، وہاں بچے سمجھتے ہیں کہ طاقت ہی حق ہے۔ پھر یہی سوچ ان کی گفتگو میں جھلکتی ہے۔
کسی کی بات کاٹ دینا بھی تربیت کی کمی کی علامت ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان کو سننے کی عادت نہیں۔ سننا صبر مانگتا ہے۔ صبر وہ صفت ہے جو گھروں میں پروان چڑھتی ہے۔ جہاں بچوں کو خاموشی سے سننے کا موقع دیا جائے، وہاں وہ دوسروں کو بھی سننا سیکھتے ہیں۔احترام آمیز خطاب بھی گفتگو کا اہم حصہ ہے۔ کسی کو نام لے کر پکارنا، بزرگ کو مناسب الفاظ میں مخاطب کرنا، یہ سب سکھایا جاتا ہے۔ یہ خود بخود نہیں آتا۔ جو گھر اس پہلو کو نظر انداز کرتا ہے، وہاں گفتگو بے ڈھنگی ہو جاتی ہے۔
معذرت کرنا بھی تربیت کی علامت ہے۔ جو شخص غلطی کے بعد بھی معافی نہیں مانگتا، وہ انا کا قیدی ہوتا ہے۔ انا اکثر اس ماحول میں جنم لیتی ہے جہاں بچے کو کبھی اپنی غلطی تسلیم کرنا نہیں سکھایا گیا۔ معذرت انسان کو چھوٹا نہیں کرتی۔ یہ اسے مہذب بناتی ہے۔گفتگو میں شکر گزاری بھی نمایاں ہونی چاہیے۔ شکریہ کہنا ایک اخلاقی عمل ہے۔ جو انسان چھوٹی مدد پر بھی شکریہ ادا کرتا ہے، وہ اپنے گھر کی اقدار ظاہر کرتا ہے۔ جہاں شکر گزاری کا رواج ہو، وہاں گفتگو میں تلخی کم ہوتی ہے۔تنقید کا انداز بھی تربیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اصلاح اور تذلیل میں فرق ہوتا ہے۔ جو شخص بات بات پر دوسروں کو نیچا دکھائے، وہ اپنی کمزوری چھپاتا ہے۔ مضبوط تربیت انسان کو نرم تنقید سکھاتی ہے۔ ایسی تنقید جو اصلاح کرے، ذلت نہ دے۔خاموشی بھی گفتگو کا حصہ ہے۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں۔ یہ سمجھ بوجھ بھی تربیت سے آتی ہے۔ جو شخص ہر بات پر رد عمل دیتا ہے، وہ اندر سے غیر متوازن ہوتا ہے۔ متوازن انسان خاموشی کی طاقت کو جانتا ہے۔یہ سب رویے مل کر انسان کی پہچان بناتے ہیں۔ لوگ آپ کے لباس سے زیادہ آپ کے الفاظ یاد رکھتے ہیں۔ عہدہ، دولت اور شہرت عارضی ہیں۔ گفتگو مستقل تاثر چھوڑتی ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسل بہتر گفتگو کرے تو ہمیں خود سے آغاز کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے لہجے درست کرنے ہوں گے۔ ہمیں سلام کو معمول بنانا ہوگا۔ ہمیں چغلی کو گناہ سمجھانا ہوگا۔ ہمیں ضد کے بجائے دلیل سکھانی ہوگی۔یہ تربیت کا اعلان ہے۔ آپ خاموش رہ کر بھی بہت کچھ کہہ دیتے ہیں۔ آپ ایک جملے سے اپنی پہچان بنا لیتے ہیں۔ اس لیے اپنی گفتگو پر توجہ دیں، یہ آپ کے گھر کی عزت ہے، یہ آپ کے کردار کی گواہی ہے۔
رابطہ۔8082403001
[email protected]