صدائے کمراز
اِکز اِقبال
ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، یہ شاید تاریخِ انسانی کا وہ مرحلہ ہے جہاں ترقی کی رفتار نے شعور کی رفتار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انسان آگے بڑھ رہا ہے، لیکن اسے خود معلوم نہیں کہ وہ کس سمت بڑھ رہا ہے۔ جو کل سہولت تھی، آج عادت بن گئی ہے اور کل شاید وہ عادت مجبوری ہو جائے۔ انسان نے ٹیکنالوجی کو بہتر زندگی کے لیے ایجاد کیا تھا، مگر آہستہ آہستہ یہ ٹیکنالوجی ہی انسان کی زندگی کی فیصلہ ساز بن گئی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں جو کچھ ہمارے اردگرد ہوا ہے، اس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ہم سہولتوں کی تلاش میں اپنی آزادی گروی رکھ چکے ہیں؟ اور اگر ہاں، تو کیا ہم نے یہ سودا جان بوجھ کر کیا یا ہمیں احساس ہی نہ ہوا کہ ہم اپنے ہاتھوں وہ زنجیر تیار کر رہے ہیں جو آنے والی نسلوں کو باندھ دے گی؟ یہ سوال محض فلسفیانہ نہیں—یہ آج کی صدی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
آج ہم اپنے موبائل فون کے بغیر باہر نکلنے سے گھبراتے ہیں۔ گھر کے دروازے سے لے کر بینک اکاؤنٹ تک سب کچھ ایک ڈیجیٹل پردے کے پیچھے بند ہے۔ ہماری گفتگو، ہماری پسند، ہماری تلاش، ہماری روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی حرکات ،سب ایک ایسے ڈیجیٹل نقش بن گئے ہیں جنہیں ہم خود تو بھول جاتے ہیں مگر ٹیکنالوجی نہیں بھولتی۔
یہ انحصار اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کا کنٹرول خود سے کھو رہا ہے۔ یادداشت پہلے کمزور ہوئی، پھر فہم، پھر توجہ اور اب فیصلے تک متاثر ہونے لگے ہیں اور یہاں سے سہولت کا سفر خطرے میں بدل جاتا ہے۔کبھی نگرانی حکومت کی حد تک محدود تھی۔ پھر معاشرہ اس میں شریک ہوگیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہر ہاتھ میں موبائل کیمرہ ہے، ہر جیب میں آواز ریکارڈر، ہر اسکرین پر الگورتھمز اور ہر کلک پر ڈیجیٹل جاسوس۔اس نگرانی کی ہولناکی یہ ہے کہ یہ نظر نہیں آتی،یہ آواز نہیں کرتی، یہ دھمکی نہیں دیتی، یہ صرف نوٹ کرتی ہےاور وقت آنے پر انسان کو اس کی اپنی کمزوری کے خلاف استعمال کرتی ہے۔
ہمیں مختلف پلیٹ فارمز پر ’’مفت‘‘ دی جانے والی سہولیات کے بدلے کیا دینا پڑ رہا ہے؟ اپنا ڈیٹا، اپنی پرائیویسی، اپنی آزادی اور اپنے فیصلوں کا اختیار۔مصنوعی ذہانت (AI) ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، مگر اس کا اثر انسانی زندگی پر غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ AI اب صرف سوالوں کے جواب نہیں دیتا؛ یہ انسانی رویوں کو پڑھتا ہے، نتائج کا اندازہ لگاتا ہے، نفسیات سمجھتا ہے، پسند ناپسند تجویز کرتا ہے، حتیٰ کہ ہماری سوچ کے رجحانات تک کی نقشہ بندی کرتا ہے۔
سوال یہ ہ ہے،جب ایک ایسا نظام جو نہ تھکتا ہے نہ غفلت کرتا ہے نہ غلطی نہ جذبات سے متاثر، وہ انسان کے لیے سوچنے لگےتو انسان کا ذہن کہاں جائے گا؟کل تک ہمیں بتایا جاتا تھا کہ ٹیکنالوجی انسانی مدد کے لیے ہے۔ آج یہ انسان کی جگہ لے رہی ہے اور شاید آنے والے وقت میں یہ انسان کو غیر ضروری سمجھنے لگے۔پہلے معاشرہ انسان کو اس کی غلطی پر ٹوکتا تھا۔ اب ٹیکنالوجی انسان کو اس کے ہر قدم پر judge کرتی ہے،خاموشی سے، مگر مستقل۔انسان کی ذاتی زندگی، اس کے جذبات، اس کے خیالات، اس کے اخلاقی فیصلے،سب کچھ اب AI کے ڈیٹا سیٹ میں بدل رہا ہے۔
گھر میں خاندان کم بیٹھتا ہے، آن لائن زیادہ۔ دوستیاں حقیقی کم، مجازی زیادہ۔ دل کا درد کم شیئر ہوتا ہے، ٹائپ زیادہ ہوتا ہے۔ انسان کی پہچان حقیقی دنیا میں نہیں، پروفائل تصویر میں سمٹ گئی ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جسے ہم روز دیکھتے ہیں مگر اس کے نتائج کا اندازہ نہیں کرتے۔ٹیکنالوجی بذاتِ خود خطرہ نہیں ،خطرہ ہمارا غیر مشروط اعتماد ہے۔ ہم بغیر سوچے سمجھے ہر نئی ایجاد کو گلے لگا لیتے ہیں۔ نہ اس کے نتائج پر گفتگو کرتے ہیں نہ حدود کا تعین کرتے ہیں۔ ہم نئی چیزوں کے اتنے شوقین ہیں کہ ہمیں وقت نہیں ملتا سوچنے کا کہ یہ چیز ہمیں کہاں لے جائے گی۔اصل خطرہ یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی بہت طاقتور ہے، اصل خطرہ یہ ہے کہ انسان بہت جلد متاثر ہو جاتا ہے۔اگر دنیا اسی رفتار سے آگے بڑھتی رہی تو وہ وقت زیادہ دور نہیں جب همارے فیصلے مکمل طور پر AI کے ہاتھوں میں ہوں گے۔ ہماری نسلیں حقیقی دنیا سے زیادہ ڈیجیٹل دنیا میں زندہ ہوں گی۔ معاشرتی اقدار کمزور اور الگورتھم مضبوط ہوں گے۔ انسان مشینوں کے سامنے ثانوی حیثیت اختیار کر لے گا۔ آزادی کے معنی بدل جائیں گے۔ پرائیویسی ماضی کا قصہ بن جائے گی اور یہ سب کچھ کسی دھماکے، کسی انقلاب، کسی بغاوت سے نہیں ہوگا۔بلکہ آہستہ آہستہ، ایسے جیسے پانی ٹپک ٹپک کر پتھر کو گھساتا ہے۔آج ہمیں دو چیزوں کی شدید ضرورت ہے۔
(۱) ٹیکنالوجی کا محتاط استعمال:سہولت ٹھیک ہے،مگر خود کو سونپ دینا نہیں۔ ٹیکنالوجی ہاتھ میں ہو، سر پر نہیں۔ فیصلے انسان کرے، مشین نہیں۔سوچ انسان کی ہو، الگورتھم کی نہیں۔(۲) اپنی نسلوں کی فکری حفاظت : ہماری آنے والی نسلیں تیز رفتار تکنیکی سیلاب کے درمیان پل رہی ہیں۔ اگر ہم نے ابھی سے حدود نہ بنائیں، تو وہ صرف صارف نہیں رہیں گی، وہ پروڈکٹ بن جائیں گی اور پروڈکٹ کبھی اپنی تقدیر خود نہیں لکھتا۔
ٹیکنالوجی نے دنیا کو آسان بنایا، مگر انسان کو مشکل میں ڈال دیا۔ هماری ترجیحات، ہماری توجہ، ہمارے رشتے، ہمارے فیصلے،سب کو آہستہ آہستہ کسی اور نے کنٹرول کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہمیں ابھی رُک کر سوچنا ہوگا کہ کیا ہم ٹیکنالوجی چلا رہے ہیں، یا ٹیکنالوجی ہمیں چلا رہی ہے؟ اگر آج ہم نے حد نہ کھینچی تو مستقبل میں ہمیں اپنی شناخت تک واپس مانگنی پڑ سکتی ہے۔یہ سفر اب بھی بدل سکتا ہے،فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔بشرطیکہ ہم اس فیصلے کی قوت ابھی تک رکھتے ہوں۔
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ہم اس تبدیلی کا حصہ ضرور ہیں مگر اس پر قابض نہیں۔ مصنوعی ذہانت ابھی دروازے پر دستک دے رہی ہے، کل یہ ہمارے کمروں میں داخل ہوگی اور پرسوں ہمارے فیصلوں کے بیچ میں بیٹھ جائے گی۔ سوال یہ نہیں کہ AI کتنی طاقتور ہوگی، سوال یہ ہے کہ ہم کتنے باشعور رہ پائیں گے۔ مستقبل کی دوڑ مشینوں کی رفتار نہیں جیتے گی ،بلکہ انسان کی سمجھ، اس کی آگہی اور اس کی اپنی حقیقت سے جڑے رہنے کی صلاحیت جیتے گی۔ دنیا چاہے جتنی بھی ذہین ہوجائے، اگر انسان اپنی عقل، اپنی بصیرت اور اپنی حدیں بھول گیاتو پھر آنے والے کل میں مشینیں نہیں، ہماری اپنی غفلت ہمیں مات دے دے گی۔یاد رکھیں مستقبل انہی کا ہوگا جو آنے والی دنیا کو آنے سے پہلے سمجھ لیں۔
(مضمون نگار شمالی کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں)
رابطہ۔ 7006857283
[email protected]