بزرگوں میں پیشاب کے مسائل صرف جسم کو متاثر نہیں کرتے بلکہ آزادی، اعتماد اور گھر سے باہر نکلنے کا حوصلہ بھی چھین لیتے ہیں
طبی آگہی
ڈاکٹر زبیر سلیم
ایک سوال ہے جو بہت سے بزرگ افراد خود سے پوچھنے لگتے ہیں:’’کیا مجھے وقت پر بیت الخلا مل پائے گا؟‘‘
یہ سوال بظاہر معمولی لگتا ہے، مگر ہزاروں بزرگوں کیلئے یہی ایک خدشہ ان کی پوری روزمرہ زندگی کو محدود کر دیتا ہے،وہ کہاں جائیں گے، کتنی دیر رہیں گے، حتیٰ کہ گھر سے نکلیں گے بھی یا نہیں۔بڑھاپے میں پیشاب سے متعلق مسائل صرف طبی مسائل نہیں ہوتے بلکہ یہ زندگی بدل دینے والی کیفیات ہیں جو خاموشی سے انسان کا اعتماد، خودمختاری اور سماجی زندگی سلب کر دیتے ہیں۔
وہ چھوٹی تبدیلیاں جنہیں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں
یہ مسائل اکثر آہستہ آہستہ شروع ہوتے ہیں۔پہلے رات میں ایک بار اٹھنا پڑتا ہے، پھر دو بار، پھر تین بار۔اچانک پیشاب کی شدید حاجت محسوس ہوتی ہے، چاہے مثانہ زیادہ بھرابھی نہ ہو۔یا پیشاب کی دھار کمزور ہو جاتی ہے، پیشاب شروع کرنے میں وقت لگتا ہے یا مثانہ مکمل خالی نہ ہونے کا احساس رہتا ہے۔بہت سے لوگ اسے’’عمر کا تقاضا‘‘ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر بڑھاپا تکلیف کا دوسرا نام نہیں۔
اصل میں مسئلہ کیا ہوتا ہے؟
ان علامات کے پیچھے دو عام بیماریاں ہوتی ہیں:
1۔ اوور ایکٹو بلیڈر (Overactive Bladder ۔ OAB)
یہ مسئلہ پیشاب کی مقدار سے نہیں بلکہ مثانے کے رویّے سے متعلق ہوتا ہے۔مثانہ حد سے زیادہ حساس ہو جاتا ہے اور اچانک سکڑنے لگتا ہے، جس سے:
* اچانک شدید حاجت محسوس ہوتی ہے
* دن میں بار بار پیشاب آتا ہے
* رات میں کئی مرتبہ اٹھنا پڑتا ہے
* بعض اوقات بیت الخلا پہنچنے سے پہلے پیشاب نکل جاتا ہے
یعنی یہاں مثانہ حد سے زیادہ سرگرم ہوتا ہے۔
2۔ پروسٹیٹ کا بڑھ جانا (صرف مردوں میں)
عمر بڑھنے کے ساتھ پروسٹیٹ غدود بڑا ہو جاتا ہے اور پیشاب کی نالی پر دباؤ ڈالنے لگتا ہے، جس سے:
* پیشاب شروع کرنے میں دشواری
* کمزور یا رکی رکی دھار
* پیشاب کے بعد قطرے ٹپکنا
* مثانہ مکمل خالی نہ ہونے کا احساس
اس صورت میں مسئلہ رکاوٹ کا ہوتا ہے، مثانے کی زیادتیِ فعالیت کا نہیں۔
یہ مسائل کیوں پیدا ہوتے ہیں؟
عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے کئی نظام متاثر ہوتے ہیں:
* مثانے کے عضلات غیر مستحکم ہو جاتے ہیں
* اعصابی پیغامات کی ہم آہنگی کم ہو جاتی ہے
* ہارمونل تبدیلیاں کنٹرول متاثر کرتی ہیں
* مردوں میں پروسٹیٹ کا بڑھ جانا تقریباً عام بات ہے
* ذیابیطس اور اعصابی بیماریاں علامات کو مزید خراب کرتی ہیں
یعنی اس کی ایک نہیں بلکہ کئی وجوہات ہوتی ہیں۔
زندگی پرپوشیدہ اثرات
ان بیماریوں کا جذباتی اور سماجی نقصان اکثر زیرِ بحث نہیں آتا۔
بہت سے بزرگ افراد:
* لمبے سفر سے گریز کرتے ہیں
* سماجی تقریبات میں جانا چھوڑ دیتے ہیں
* ہمیشہ دروازے یا بیت الخلا کے قریب بیٹھتے ہیں
* جان بوجھ کر پانی کم پیتے ہیں
* شرمندگی، بے چینی اور دوسروں پر انحصار محسوس کرتے ہیں
کچھ لوگ نماز، تقاریب یا خاندانی اجتماعات میں جانا بھی چھوڑ دیتے ہیں،چلنے سے معذوری کی وجہ سے نہیں بلکہ اس خوف سے کہ وہ اپنے مثانے پر اعتماد نہیں کر سکتے۔یہ صرف پیشاب کا مسئلہ نہیں بلکہ معیارِ زندگی کا مسئلہ ہے۔
بزرگوں میں دیگر عام پیشابی مسائل
پیشاب کی نالی کا انفیکشن (UTI)
بزرگ افراد میں پیشاب کی نالی کے انفیکشن (UTI) عموماً عام علامات کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں، جیسے پیشاب کرتے وقت جلن، بار بار یا فوری پیشاب کی حاجت، پیٹ کے نچلے حصے میں درد یا بے آرامی، اور بعض اوقات بخار یا سردی لگنا۔ پیشاب دھندلا، معمول سے زیادہ گہرا یا بدبودار بھی ہو سکتا ہے، جو اکثر ابتدائی علامت ہوتی ہے۔ بعض مریض کمر کے نچلے حصے میں درد یا مثانہ مکمل طور پر خالی نہ ہونے کا احساس بھی بیان کرتے ہیں۔ تاہم بزرگ افراد میں بخار ہلکا ہو سکتا ہے یا بالکل ظاہر نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے بیماری کی بروقت پہچان قدرے مشکل ہو جاتی ہے۔
بزرگ افراد میں یو ٹی آئی کو خاص طور پر پیچیدہ بنانے والی بات اس کی غیر معمولی یا مختلف انداز میں ظاہر ہونے والی علامات ہیں۔ واضح پیشابی شکایات کے بجائے مریض میں اچانک ذہنی الجھن، بے چینی، غیر معمولی غنودگی یا رویّے میں نمایاں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے، جسے اکثر بڑھاپا یا ڈیمنشیا سمجھ لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات بھوک میں کمی، اچانک گر جانا، کمزوری یا مجموعی صحت میں غیر واضح گراوٹ بھی دیکھی جاتی ہے، حالانکہ پیشاب سے متعلق کوئی واضح علامت موجود نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں، خاص طور پر جب مریض کی معمول کی حالت میں اچانک تبدیلی آئے، یو ٹی آئی کا شبہ ضرور کرنا چاہئے۔ بروقت تشخیص نہایت اہم ہے کیونکہ وقت پر علاج سے یہ علامات تیزی سے بہتر ہو سکتی ہیں اور پیچیدگیوں سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
بے اختیاریِ پیشاب (Incontinence):
کھانسی، ہنسنے، چھینکنے یا اچانک شدید حاجت محسوس ہونے کے دوران غیر ارادی طور پر پیشاب کا خارج ہو جانا۔
نوکچیوریا (Nocturia):
رات کے دوران بار بار پیشاب کیلئے جاگنا، جس کے نتیجے میں نیند متاثر ہوتی ہے اور تھکن و کمزوری محسوس ہوتی ہے۔
ادویات کے اثرات
بعض ادویات مثانے کے کنٹرول کو متاثر کر سکتی ہیں یا پیشاب کی بار بار حاجت اور فوری ضرورت میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ان تمام مسائل کیلئے درست طبی معائنہ اور تشخیص ضروری ہے، محض اندازوں پر انحصار نہیں کرنا چاہئے۔
وہ خطرناک علامات جنہیں ہرگز نظر انداز نہ کریں
بعض علامات فوری طبی توجہ کی متقاضی ہوتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
* پیشاب میں خون آنا
* اچانک اور بغیر وجہ کے وزن کم ہونا
* کمر یا پیڑو میں شدید درد
* مسلسل پیشاب کرنے میں دشواری
* بار بار پیشاب کی نالی کا انفیکشن
* مکمل طور پر پیشاب بند ہو جانا یا پیشاب نہ آنا
یہ بعض اوقات مثانے یا پروسٹیٹ کے سرطان جیسی سنگین بیماریوں کی علامت ہو سکتی ہیں۔بروقت تشخیص بیماری کے نتائج کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے۔
کیا کیا جا سکتا ہے؟
سادہ احتیاطی تدابیر بھی نمایاں بہتری لاسکتی ہیں:
طرزِ زندگی میں تبدیلیاں
* چائے، کافی اور کیفین کم استعمال کریں
* رات دیر سے زیادہ پانی پینے سے گریز کریں
* دن کے وقت مناسب پانی پئیں
* پیشاب کے اوقات کو باقاعدہ رکھیں اور زیادہ دیر تک پیشاب روکنے سے گریز کریں۔
مثانے کی تربیت
* پیشاب کے وقفے آہستہ آہستہ بڑھائیں
* پیلوک فلور ورزشیں (کیگل ایکسرسائز) کریں
گھر میں آسان تبدیلیاں
* بیت الخلا تک آسان رسائی رکھیں
* رات میں روشنی کا مناسب انتظام کریں تاکہ گرنے سے بچا جا سکے
طبی علاج
* مثانے کو آرام دینے والی ادویات
* پروسٹیٹ کو سکڑنے یا پیشاب کی روانی بہتر بنانے والی دوائیں
* بعض صورتوں میں معمولی جراحی یا جدید طریقہ علاج
آج ان بیماریوں کا علاج مؤثر، محفوظ اور اکثر آسان ہے،بشرطیکہ بروقت رجوع کیا جائے۔
اس بارے میں بات کریں
سب سے بڑی رکاوٹ بیماری نہیں بلکہ خاموشی ہے۔بہت سے بزرگ پیشاب کے مسائل پر بات کرنے سے جھجھکتے ہیں۔وہ اسے شرمندگی یا بڑھاپے کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں، جبکہ گھر والے بھی اکثر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔حالانکہ یہ تمام مسائل قابلِ علاج ہیں۔ ایک سادہ طبی مشورہ بیماری کی اصل وجہ معلوم کرنے، پیچیدگیوں سے بچاؤ اور مریض کا اعتماد و خودمختاری بحال کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔