سہیل انجم
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
اکبر الہ آبادی نے سو سال سے بھی زائد پہلے یہ شعر کہا تھا۔ اُس وقت انہیں اس کا اندازہ نہیں رہا ہوگا کہ انگریزوں کے دور میں نماز پڑھنا جرم ہو یا نہ ہو، آزاد ہندوستان میںجرم بن جائے گا۔ حالیہ دنوں میں عوامی مقامات پر نماز کی ادائیگی کی پاداش میں جس طرح لوگوں کی گرفتاریاں ہوئیں ،اس کے پیش نظر یہ سوال ذہن میںاُبھر رہا ہے کہ کیا اب ہندوستان میں کھلے میں نماز ادا کرنا قانوناً جرم ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے 1994 میں اسماعیل فاروقی کیس میں رولنگ دی تھی کہ مسجد اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے، نماز کہیں بھی ادا کی جا سکتی ہے، یہاں تک کہ کھلے میں بھی۔ جب ستمبر 2018 میں ایودھیا معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی تھی تو اس وقت بھی یہ معاملہ روشنی میں آیا تھا اور میڈیا میں اس کی خوب کوریج ہوئی تھی۔ لیکن اگر اس فیصلے کی روشنی میں آپ کھلے میں یا عوامی مقامات پر نماز ادا کرنا چاہیں تو آپ جیل جانے کے لیے تیار رہیں۔ حالیہ دنوں میں اور بالخصوص رواں سال میں عوامی مقامات پر نماز پڑھنے کی وجہ سے متعدد افراد کو جیل کی ہوا کھانی پڑی ہے۔ لکھنؤ کے لولو مال میں بھی نماز کی ادائیگی کی خبر میڈیا میں شہ سرخی بن گئی۔ آئیے سلسلۂ واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ایک سماجی تنظیم ’خدائی خدمت گار‘ کے فیصل خان کو2 نومبر 2020 کو متھرا کے ایک مندر میں نماز ادا کرنے پر جیل ہوئی تھی، حالانکہ اُن کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے مندر کے ذمہ داروں سے اجازت لے کر مندر کے صحن میں نماز پڑھی تھی۔ چنانچہ ہندو تنظیموں نے زبردست واویلہ مچایا اور بالآخر فیصل خان کو کئی ماہ جیل میں گزارنے پڑے۔ اپریل 2020 کی ابتدا میں نوئڈا میں کووِڈ پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نماز پڑھنے کی وجہ سے 53ا فراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی جن میں سے دس کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ یادرہے کہ اُن دنوں تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کی مہم میڈیا میں جاری تھی۔ ایسے معاملات میں سب سے زیادہ تیزی رواں سال میں دیکھی گئی ہے۔ 23 اپریل کو آگرہ میں سڑک پر نماز تراویح پڑھنے کی وجہ سے 150 افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت کارروائی کی گئی۔ 19مئی کو حیدرآباد کے چار سیاحوں کو تاج محل میں نماز پڑھنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ جمعہ کے روز تاج محل سیاحوں کے لیے بند رہتا ہے تاکہ اس کے احاطے میں واقع مسجد میں مقامی مسلمان جمعہ کی نماز ادا کر سکیں۔ مقامی لوگوں کو ان کے آئی کارڈ چیک کرنے کے بعد جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ لیکن ایک روز قبل یعنی جمعرات کو حیدرآباد کے چار سیاحوں نے وہاں نماز پڑھی اور وہ جیل بھیج دیے گئے۔ بہرحال اگر تاج محل میں جمعہ کو چھوڑ کر بقیہ دنوں میں نماز کی اجازت نہیں ہے تو وہاں نماز نہیں پڑھنی چاہیے تھی۔ علیگڑھ کے شری وارشنے کالج میں ایک استاد پروفیسر ایس آر خالد کو کیمپس میں نماز پڑھنے پر ایک ماہ کے لیے تعطیل پر بھیج دیا گیا۔ 29 مئی کو نماز پڑھتے ہوئے ان کی تصویر وائرل ہوئی تھی ،جس پر ہندو تنظیموں نے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ لولو مال میں 12 جولائی کو نماز کی ادائیگی کا معاملہ کافی آگے بڑھ گیا۔ پہلے سوشل میڈیا میں یہ خبر آئی کہ پولیس نے جن لوگوں کو نماز پڑھنے پر گرفتار کیا ہے وہ سب غیر مسلم ہیں۔ لیکن پولیس نے وضاحت کی کہ غیر مسلموں کو لولو مال میں ہنومان چالیسہ پڑھنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے نہ کہ نماز پڑھنے کی وجہ سے۔ نماز پڑھنے کی وجہ سے پہلے چار مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا، اب اس معاملے میں گرفتار شدگان کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔ پہلے جن چار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا وہ سب لکھنؤ کے ہیں۔ ان میں سے ایک ڈی فارما کا اسٹوڈنٹ ہے۔ ایک محلے میں بچوں کو عربی (شاید قرآن) پڑھاتا ہے۔ دو سگے بھائی ہیں جو ایک مدرسے میں حفظ کے طالب علم ہیں۔ ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ دونوں مال دیکھنے گئے تھے۔ وہاں انہوں نے کچھ لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھا تو وہ بھی اس میں شریک ہو گئے۔ باقی چار لوگ کون ہیں ابھی ہمارے پاس اس کی تفصیل نہیں ہے۔ 22 جولائی کو ہریدوار کے ایک ہفتہ واری بازار میں نماز پڑھنے کی وجہ سے آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں ایس ڈی ایم عدالت نے ان کو وراننگ دے کر ضمانت پر چھوڑ دیا۔ اسی طرح 25 جولائی کو میرٹھ کہ سہراب گیٹ پر واقع ایک شاپنگ مال میں ایک شخص کے نماز پڑھنے پر پولیس کی جانب سے کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل یوپی کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اوم پرکاش سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ ریاست میں کھلے میں نماز پڑھنا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی کئی بار اس حوالے سے بیان دیا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے بھی کئی بار عوامی مقامات پر نماز پڑھنے کے خلاف بیان دیا اور کہا کہ کھلے میں نماز برداشت نہیں کی جائے گی۔ گڑ گاؤں میں پولیس کی اجازت سے پارکوں میں نماز پڑھنے کے خلاف جس طرح ہندو تنظیموں نے ہنگامہ کیا اور اب ان پارکوں کی تعداد بے حد کم کر دی گئی، اس بارے میں میڈیا میں کافی رپورٹنگ ہو چکی ہے۔
ہم اپنا سوال ایک بار پھر دوہراتے ہیں کہ کیا عوامی مقامات پر نماز پڑھنا قانوناً جرم بن گیا ہے؟ ہندو تنظیموں کی جانب سے مسلمانوں کے کسی عمل یا کسی بیان پر کی جانے والی اس شکایت پر کہ اس سے ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، فوری طور پر کارروائی کی جاتی ہے تو کیا مسلمان یہ شکایت کر سکتے ہیں کہ کھلے میں نماز پڑھنے سے روکنے کی وجہ سے ہمارے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ سپریم کورٹ تو کہہ چکا ہے کہ کہیں بھی کھلے میں نماز پڑھ سکتے ہیں تو پھر اس کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔ ایک تھنک ٹینک سی ایس ڈی ایس سے وابستہ سماجی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ہلال احمد، اکتوبر 2021میں اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے،خاص طور پر گڑگاؤں میں پرامن انداز میں نماز پڑھنے کے خلاف ہندوتو تنظیموں کی جارحانہ مہم سے ان کو زبردست تکلیف پہنچی ہے۔ یہ مہم دو کلیدی اصولوں کے منافی ہے۔ اول اللہ کی ذات پر میرا روحانی ایمان اور دوم گاندھیائی نظریہ سرو دھرم سمبھاؤ پر میرا یقین۔ ان کے مطابق نماز کے تئیں ہندوؤں کے احترام کی وجہ سے عوامی مقامات پر نماز ادا کرنا آسان تھا۔ یہاں تک کہ چلتی ٹرینوں، اسپتالوں کے کاریڈور اور مندروں میں بھی ان کے لیے نماز کی ادائیگی ممکن ہو پائی تھی۔ لیکن اب ہندوتو کی سیاست کی وجہ سے نماز کو اچھوت بنایا جا رہا ہے۔ بہرحال ملک کے موجودہ حالات میں علما کی جانب سے یہ اپیل کی جاتی رہی ہے کہ مسلمان عوامی مقامات اور سڑکوں وغیرہ پر نماز ادا کرنے سے احتراض کریں۔ مسلمان اپنی جانب سے شرپسندوں کو ہنگامہ آرائی کا موقع نہ دیں۔ یہ مشورہ بالکل درست ہے۔ مسلمانوں کو اپنے عمل سے ٹکراؤ کا ماحول پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انھیں سڑکوں پر صف بندی کرکے ٹریفک میں خلل ڈالنے کا کوئی حق نہیں۔ اگر ان کے اس عمل سے یا کسی بھی عمل سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ایسا نہ کریں۔ لولو مال میں بھی نماز پڑھنے کا کوئی تک نہیں تھا۔ اگر نماز قضا بھی ہو رہی تھی تب بھی ان لوگوں کو کوئی مسجد تلاش کرنی چاہیے تھی۔ بہرحال ابھی یہ معاملہ صاف نہیں ہوا ہے کہ مال میں نماز کی تحریک کن لوگوں کی تھی۔ لیکن بہرحال یہ سوال بھی پوچھا جانا چاہیے کہ جب عوامی مقامات پر نماز پڑھنا قانوناً جرم نہیں ہے تو پھر گرفتاریاں کیوں ہو رہی ہیں۔ دوسرے یہ کہ جب عوامی مقامات پر رام لیلا، درگا پوجا یا ایسے ہی دیگر مذہبی اعمال کی اجازت ہے اور ان کے مرتکبین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی تو پھر عوامی مقامات پر نماز پڑھنے پر کارروائی کیوں کی جاتی ہے۔ اگر ایک مذہب کے پیروکاروں کو مذہبی رسوم کی ادائیگی کے لیے عوامی مقامات کے استعمال کی اجازت ہے تو پھر دیگر مذاہب کے لوگوں کو کیوں نہیں ہے؟