کنٹریکچول لیکچراروں کی بھوک ہڑتال جاری

جموں//کنٹریکچول لیکچراروں(10+2) کی طرف سے مطالبات کے حق میںبھوک ہڑتال 132 دن بھی جاری رہی۔اس دوران مظاہرین نے نعرے بلندکئے جواس طرح تھے کہ ہماری مانگیں پوری کرو،پوری کرو، جے اینڈکے گورنمنٹ ہائے ہائے ۔ کنٹریکچول لیکچراروں کو ریگولرائز کرو نہیں توکرسی چھوڑو۔کنٹریکچول لیکچراروں نے جمعہ کے روزبھی شدیدگرمی کے دوران احتجاج کرتے ہوئے وزیرتعلیم کاپتلانذرآتش کیا۔ سراپااحتجاج عارضی لیکچرار خدمات کی مستقلی خصوصی قانون 2010 کے تحت کرنے کامطالبہ کررہے تھے۔اس قانون کے تحت سات سال مکمل کرچکے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کےلئے کہاگیاہے۔10+2 کنٹریکچول لیکچرارز فورم کے صدر ارون بخشی نے مطالبہ کیاہے کہ حکومت کے آرڈر نمبر 1584 edu آف 2003 اور آرڈر نمبر 1328 آف جی ا ے ڈی کے تحت تعینات کئے گئے عارضی لیکچراروں کی خدمات نیاحکمنامہ جاری ہونے تک جاری رکھی جائیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے۔سراپااحتجاج خواتین لیکچراروں نے کہاکہ حکومت پیارکی زبان نہیں بلکہ پتھرکی زبان سمجھتی ہے۔مظاہرین نے کہاکہ یہ کیسی حکومت ہے جوایک طرف عالمی یوم خواتین منانے کےلئے تقاریب کااہتمام کرتی ہے اورساتھ ہی بیٹی۔بچاﺅ۔بیٹی پڑھاﺅ سکیم کے تحت لڑکیوں کی ترقی کے دعوے کرتی ہیں لیکن دوسری طرف لڑکیوں کواپنے حقوق کےلئے سڑکوں پرآکر احتجاج کرنے پرمجبورکیاجارہاہے۔ ارون بخشی اورلیکچرارفورم کے دیگرعہدیداران نے کہاکہ ہمارے کچھ ساتھی گذشتہ 14 فروری سے فاسٹ ان ٹو ڈیتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھاہوا ہے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی بھی نمائندہ کنٹریکچول لیکچراروں کی خبرگیر ی کرنے نہیں آیاہے جوکہ باعث تشویش بات ہے۔ مقررین نے کہاکہ اگر حکومت نے ہماری مانگوں کوپورانہیں کیاتو بھوک ہڑتال پربیٹھے کسی بھی ساتھی کی صحت خرابی یاکوئی ناخوشگوارواقعہ ہونے کےلئے حکومت ذمہ دار ہوگی۔انہوں نے کہاکہ جب تک مانگیں پوری نہیں ہوں گی تب تک احتجاج جاری رکھاجائے گا۔