عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے منگل کے روز الزام لگایا کہ سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف پارٹی کے مجوزہ احتجاج سے قبل بارہمولہ ضلع کے صدر محمد رفیق راتھر کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ محمد رفیق راتھر کو ان کی رہائش گاہ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی تاکہ وہ ضلعی سطح پر ہونے والے احتجاج میں شرکت نہ کر سکیں۔
پی ڈی پی نے حکومت کی مبینہ ’’آؤٹ سورسنگ پالیسی‘‘اور تقرریوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جموں و کشمیر کے مختلف ضلعی ہیڈکوارٹروں پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔محمد رفیق راتھر کو نظر بند کیے جانے کے پی ڈی پی کے الزام پر انتظامیہ یا پولیس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کا معاملہ حکمراں نیشنل کانفرنس (این سی) اور اپوزیشن پی ڈی پی کے درمیان ایک اہم سیاسی تنازع بن گیا ہے۔ پی ڈی پی کا الزام ہے کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت آؤٹ سورسنگ کے ذریعے تقرریاں کر رہی ہے اور ’’بیک ڈور تقرریوں‘‘کو فروغ دے رہی ہے۔دوسری جانب نیشنل کانفرنس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آؤٹ سورسنگ کا نظام 2015 سے 2018 کے دوران پی ڈی پی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مخلوط حکومت کے دور میں متعارف کرایا گیا تھا۔
دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر سرکاری بھرتیوں میں بدعنوانی کو فروغ دینے کے الزامات عائد کر رہی ہیں۔گزشتہ ہفتے بھی پی ڈی پی نے اسی معاملے پر سری نگر میں احتجاج کیا تھا۔ پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا تھا کہ اکتوبر 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نیشنل کانفرنس حکومت تقریباً 25 ہزار ’’بیک ڈور تقرریاں‘‘کر چکی ہے۔
سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف احتجاج سے قبل پی ڈی پی رہنما کو نظر بند کرنے کا الزام