جے کیو کامران
کشمیر کے دیہی منظرنامے میں مقامی پولٹری خاص کر گھریلو سطح پر دیسی مرغ پالن کبھی محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ہماری تہذیب کا ایک روشن باب تھی۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا جب ہر کشمیری گھر، بالخصوص گاؤں دیہات کے آنگن مرغوں کی بانگ اور مرغیوں کی چہکار سے گونجتے تھے۔ قدرت کا انمول تحفہ یہ پرندے نہ صرف گھر کی میز پر خالص گوشت اور انڈوں کی صورت میں مقوی غذا فراہم کرتے تھے، بلکہ دیہی خواتین اور کسانوں کے لیے ضرورت کے وقت ایک معتبر مالی سہارا بھی ثابت ہوتے تھے۔
کئی دہائیوں تک کشمیر میں پولٹری کا شعبہ ایک ’’خاموش مگر مضبوط معاشی انقلاب‘‘ بن کر ابھرا۔ اس صنعت نے ہمیں نہ صرف سستا پروٹین اور بہترین غذا فراہم کی، بلکہ یہ ہزاروں خاندانوں کے لیے عزت دار روزگار کا ضامن بھی بنا۔ ایک وقت تھا جب یہ شعبہ کشمیر کی مقامی ضرورت کا 50 فیصد سے زائد حصہ خود پیدا کرتا تھا، جس سے ہماری معیشت خود کفالت کی جانب گامزن تھی۔ لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ غلط پالیسیوں اور انتظامی عدم توجہی کے باعث یہ شعبہ ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ غیر منظم درآمدات اور مقامی فارمرز کے تحفظ کے لیے ٹھوس پالیسیوں کے فقدان نے اس پھلتی پھولتی صنعت کا دم گھونٹ دیا ہے۔
1500 کروڑ روپے پر محیط اس وسیع صنعت میں مقامی حصہ سکڑ کر صرف ایک چوتھائی رہا ہے۔جبکہ سرمایہ اور اختیار کی باگ دوڑ مکمل طور پر بیرونی ہاتھوں میں آ گئ ہے۔
کشمیر کی پولٹری صنعت سے براہِ راست یا بالواسطہ جڑے تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ افراد آج اپنی ترقی کے منصوبے نہیں بلکہ اس صنعت کے زوال کا کیلنڈر دیکھ رہے ہیں۔ وہ شعبہ جو کبھی ہماری خود کفالت کی پہچان تھا، آج کسم پرسی کی حالت میں بیرونی درآمدات کی نمائش گاہ بن کر رہ گیا ہے۔ حیرت انگیز اور تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ چند سال قبل تک کشمیر اپنی پولٹری ضروریات کا 80سے 85فیصد حصہ خود پیدا کرتا تھا، لیکن آج یہ پیداوار سمٹ کر محض 15 سے 20 فیصد رہ گئی ہے۔ جبکہ پیداوار کا بیشتر حصہ پنجاب، ہریانہ اور اترپردیش سے آتا ہے۔ جس سے مقامی مارکیٹ کا ڈھانچہ بنیادی طور تبدیل ہوا ہے۔اور مقامی پولٹری فارمرز بے حد کمزور ہوئے ہیں
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اپریل سے دسمبر 2025 کے درمیانی نو ماہ میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ پولٹری برڈز کشمیر لائے گئے۔ ان میں ایک کروڑ 80 لاکھ برائلر، ایک کروڑ 10لاکھ ایک دن کے چوزے (Day-old chicks) اور چار لاکھ ‘کلڈ برڈز شامل ہیں۔ مقامی کسانوں کے لیے یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مارکیٹ اب ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ پولٹری کی اس درآمدی لہر نے مارکیٹ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ باہر سے آنے والی سستی اور فیکٹری نما پیداوار مقامی کسانوں کی کمر توڑ رہی ہے۔وادی کے ایک مقامی پولٹری فارمر، اشفاق مجید ڈار، جو کئی فارمز کے مالک ہیں، نے اس صورتحال پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ ’’سردیوں کے موسم میں مرغیوں کی شرحِ اموات (Mortality Rate) آسمان چھونے لگتی ہے اور حرارت کے معقول انتظامات برقرار رکھنے سے پیداواری اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، وادی میں فیڈ یونٹس کی عدم دستیابی کے باعث ہمیں خوراک باہر سے منگوانی پڑتی ہے، جس کا تمام تر بوجھ مقامی فارمر پر پڑتا ہے۔اشفاق ڈار کے مطابق، مقامی فارمرز کے مقابلے میں باہر سے آنے والی درآمدات پر کوئی ‘اینٹری ٹیکس یا اضافی ڈیوٹی نہیں ہے، جبکہ وہاں بڑے پیمانے پر پیداوار کی وجہ سے لاگت (Cost of Production) پہلے ہی بہت کم ہوتی ہے۔ اس غیر منصفانہ مقابلے کے نتیجے میں وہ یہاں سستا مال فروخت کرتے ہیں، جس کے تباہ کن اثرات مقامی صنعت پر پڑ رہے ہیں۔انہوں نے ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین کسان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ‘ٹریڈرزاور ‘ڈریسرز کے کنٹرول میں ہے۔ یہاں کا کسان صرف خون پسینہ بہا کر مرغ پالن کام انجام دیتا ہے، جبکہ اس کی محنت کا ثمر اور قیمت کا فیصلہ کوئی دوسرا کرتا ہے۔کشمیر میں ‘لیئر فارمز (انڈے دینے والی مرغیوں کے فارم) اور ‘ہیچریوں (چوزے نکالنے کے مراکز) کا بہت زیادہ فقدان ہے۔ یہ دونوں عناصر ان ایک دن کے چوزوں (Day-old chicks) کی فراہمی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں جن کی پولٹری فارمز کو اشد ضرورت ہوتی ہے۔
کشمیر میں غیر منظم پولٹری درآمدات ایک سنگین مسلہ ہے۔ ‘بڑی مقدار میں ڈریسڈ چکن جموں و کشمیر میں داخل ہو رہا ہے، جس میں سے بیشتر غیر معیاری ہوتا ہے۔ ‘یہ زائد المیعاد اور غیر معیاری اسٹاک صفائی ستھرائی سمیت عوامی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔ اسکے علاوہ یہ سستی درآمدات نہ صرف قیمتوں کے توازن کو بگاڑتی ہیں بلکہ مقامی پولٹری فارمرز کو مارکیٹ سے باہر دھکیلنے کا باعث بھی بن رہی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 25-2024 میں کشمیر میں انڈوں کا مجموعی کاروبار 373.8 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اس میں سے 241 کروڑ روپے ‘کیپٹل فلائٹ’ یعنی سرمائے کے اخراج کی صورت میں براہِ راست کشمیر سے باہر چلے گئے۔ وادی میں انڈوں کی درآمدات 30.16 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ جبکہ مقامی پیداوار 16.5 کروڑ پر ہی اٹک گئی ہے۔ جو مقامی پیداوار سال 21-2020 کے 20 کروڑ کے ہدف سے بھی نیچے گر چکی ہے۔ یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ مارکیٹ میں انڈوں کی مانگ میں تو مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن مقامی فارمر کا حصہ لگاتار گھٹ رہا ہے۔
کشمیر میں برائلر مرغوں کی درآمد کا گراف جس تیزی سے اوپر جا رہا ہے، وہ مقامی صنعت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ سال 21-2020 میں جہاں 1.91 کروڑ پرندے درآمد کیے گئے تھے، وہیں 25-2024میں یہ تعداد بڑھ کر 2.88 کروڑ تک پہنچ گئی۔ اس کے برعکس، اسی دوران مقامی سطح پر گوشت کی پیداوار 369لاکھ کلوگرام سے گر کر محض 281 لاکھ کلوگرام رہ گئی ہے۔ اگر 160 روپے فی کلو کی اوسط قیمت سے حساب لگایا جائے تو صرف پولٹری گوشت کا کل کاروبار 982 کروڑ روپے بنتا ہے، جس میں سے 693 کروڑ روپے مقامی معیشت سے باہر چلے گئے۔
اگر ہم انڈوں، برائلر، کلڈ برڈز اور ‘ڈے اولڈ چکس کو ملا کر دیکھیں تو کشمیر کی مجموعی پولٹری مارکیٹ کا حجم 1454 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ تاہم، اس وسیع مارکیٹ پر مقامی گرفت اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ 1032 کروڑ روپے کی بھاری رقم ریاست سے باہر چلی جاتی ہے۔ جبکہ اس مجموعی کاروبار میں مقامی فارمرز کے حصے میں صرف 422 کروڑ روپے آئے ہیں۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق، کشمیر میں اس وقت 2466 رجسٹرڈ برائلر فارمز موجود ہیں، جن میں سالانہ 3.94 کروڑ چوزے پالنے کی صلاحیت تو موجود ہے۔لیکن اس کے باوجود یہ شعبہ اپنی اصل صلاحیت سے کہیں نیچے کام کر رہا ہے۔
پولٹری ڈویلپمنٹ آفیسر بڈگام ڈاکٹر ادریس نے اس شعبے کی موجودہ صورتحال اور محکمے کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ محکمہ ہمیشہ سے مقامی کسانوں کی سرپرستی میں پیش پیش رہا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت کا ‘ہولیسٹک ایگریکلچر ڈویلپمنٹ پروگرام (HADP) اس صنعت میں ایک نئی روح پھونکنے کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ادریس نے وضاحت کی کہ اس پروگرام کے تحت برائلر فارمز، ہیچریوں، فیڈ ملوں اور گھریلو پولٹری یونٹس کے قیام کے لیے 50 فیصد سے زائد مالی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد جہاں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا ہے، وہی بے روزگار نوجوانوں کو ایک منافع بخش اور باعزت روزگار کی طرف راغب کرنا بھی ہے۔
ڈاکٹر ادریس کے مطابق، محکمہ اس وقت ‘بیک یارڈ پولٹری (گھریلو مرغ پالن) کی ترویج پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ اس ماڈل کی خوبی یہ ہےکہ کسانوں کو سرکاری سطح پر چوزے فراہم کیے جاتے ہیں جو کچن ویسٹ اور گھر کے بچا کھچا اناج پر پل کر بڑے ہو جاتے ہیں یہ پرندے نہ صرف معیاری گوشت بلکہ خالص انڈوں کی فراہمی کا بھی ذریعہ بنتے ہیں۔
ایک طرف جہاں بیک یارڈ پولٹری کو ترجیح دی جا رہی ہے،وہیں سرکار خود اعتراف کر رہی ہےکہ یہ ماڈل محض ایک ‘تکمیلی سہارا (Supplementary) ہو سکتا ہے، لیکن کشمیر کی وسیع معاشی ضرورت کا متبادل ہرگز نہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کشمیر کو یومیہ 27 لاکھ انڈوں کی ضرورت ہے، جبکہ آئی سی ایم آر (ICMR) کے معیارات کے مطابق ہماری موجودہ پیداوار میں 80 فیصد سے زیادہ کا بڑا خلا موجود ہے۔ جسے بیک یارڈ پولٹری کے چھوٹے یونٹس دیکھ تو سکتے ہیں، لیکن اسے بھرنے کی سکت نہیں رکھتے۔اس لیے بڑے پیمانے پر گوشت اور انڈوں کی مقامی پیداوار کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پولٹری صنعت کی بحالی ناگزیر ہے اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اس صنعت کو بحران سے نکالنے کے لیے محض دعووں کے بجائے ایک ‘کثیر جہتی اور ہنگامی حکمتِ عملی اپنائے۔ جس کا محور بیرونی درآمدات پر انحصار کا خاتمہ، فیڈ (خوراک) کی قیمتوں میں کمی اور وادی کے موسمی تقاضوں کے مطابق فارمز میں حرارت کے معقول انتظامات کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔صنعت کی پائیدار بحالی کے لیے مقامی سطح پر جدید ہیچریوں کا قیام، کمرشل لیئر فارمز کی بھرپور حوصلہ افزائی، وادی میں درآمد ہونے والے غیر معیاری اور مضرِ صحت پولٹری گوشت پر فوری اور مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ مقامی کسان کو تحفظ مل سکے۔ واضح رہے کہ اگر آج ہم اس معیشت کو سہارا نہ دے سکیں، تو ہم نہ صرف ساڑھے پانچ لاکھ لوگوں کا روزگار کھو دیں گے بلکہ اپنی غذائی خود مختاری سے بھی محروم ہو جائیں گے۔
(مدرس گورنمنٹ ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول زوہامہ )