شہباز رشید بہورو
ڈاکٹر مشتاق مرغوب بانہالی صاحب نہایت محبّت کرنے والے، ذہانت و فطانت کی روشن مثال ہیں۔ جموں و کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں علمِ نفسیات کے حوالے سے ایک معتبر اور معزز نام کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ان کے ساتھ ہمارے تعلقات کا آغاز محترم یاسر عرفات طلبگار (شاعر)کے توسط سے ہوا۔ یہ سلسلہ پہلے پہل ایک رسمی ملاقات سے شروع ہوا، پھر بالمشافہ ملاقاتوں کے کئی مواقع نصیب ہوتے رہے۔ پہلی ہی ملاقات میں ان کی دلآویز اور باوقار شخصیت نے میرے دل پر محبت کا نقش ثبت کر دیا۔ جب میں نے اپنی کتاب ان کے ہاتھ میں تھمائی تو انہوں نے جس انداز سے حوصلہ افزائی فرمائی، وہ میرے لیے ناقابلِ فراموش لمحہ تھا۔ ان کے پُرجوش اور حوصلہ افزا جملوں نے مجھے یہ احساس دلایا کہ واقعی میری تحریر میں کچھ وزن اور اثر موجود ہے۔
اس کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ بتدریج ارتقا پذیر ہوتا گیا۔ ہر نشست میں ان کی مصروفیات کا علمی احاطہ، سماج کی خدمت کے حوالے سے ان کے افکار و خیالات اور نئے منصوبوں پر گفتگو نہایت خوشگوار اور ولولہ انگیز لمحات بن جاتے۔ نئے پروجیکٹس، نئے لوگوں سے تعارف اور نت نئے اقدامات کی معلومات اکثر و بیشتر انہی ملاقاتوں میں حاصل ہوتی رہیں۔ان کے ساتھ یہ تعلق محض ایک رسمی وابستگی نہیں بلکہ ایک فکری اور علمی رفاقت کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس سے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ ہمیشہ ملتا رہتا ہے۔
اسی نوعیت کی ایک ملاقات میں ڈاکٹر صاحب نے Kashmir Care Foundation کی علمی، فنی، سماجی اور تکنیکی خدمات کا مفصل تعارف کرایا۔ اس موقع پر فاؤنڈیشن کے روحِ رواں، کشمیری نژاد امریکی سائنسدان Dr. Altaf Ahmad Lal کا تذکرہ بھی ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف ان سے صوتی رابطے کا ایک ذریعہ فراہم کیا بلکہ فاؤنڈیشن کے ایک آن لائن پروگرام میں شرکت کی دعوت بھی دی، جسے میں نے فوراً قبول کر لیا اور اس میں شریک بھی ہوا۔
ڈاکٹر مشتاق مرغوب صاحب کے توسط سے میرا غائبانہ تعارف ڈاکٹر الطاف صاحب سے کرایا گیا اور انہی کے ذریعے میرا تعارف بھی اُن تک پہنچا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مشتاق صاحب نے ایک مؤثر جنکشن کا کردار ادا کیا، جس نے علمی اور فکری روابط کی ایک نئی راہ ہموار کر دی۔
ڈاکٹر الطاف احمد لال صاحب جب ہمارے ضلع ڈوڈہ کے دورے پر تشریف لائے تو میں نے باقاعدہ اُن سے فون پر رابطہ کیا اور پیشگی وقت لے کر ملاقات کا اہتمام کیا۔ ملاقات اگرچہ وقت کے اعتبار سے مختصر تھی، لیکن اپنے اثرات اور معنویت کے لحاظ سے نہایت اہم ثابت ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑی شفقت اور خلوص کے ساتھ اپنی تنظیم کشمیر کیئر فاؤنڈیشن کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔ انہوں نے فاؤنڈیشن کے قیام کے مقاصد، اس کی سماجی خدمات، تعلیمی و فلاحی منصوبوں اور جموں و کشمیر کی مجموعی ترقی کے لیے اس کے عزم و ارادے پر روشنی ڈالی۔اسی موقع پر انہوں نے فاؤنڈیشن کی میگزین کے سی ایف کرونیکل (KCF Chronicle) کا پہلا شمارہ بھی میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا کہ اسے بغور مطالعہ کیجیے، اس سے آپ کو تنظیم کی فکر، وژن اور عملی سرگرمیوں کا مزید واضح تعارف ہوگا۔جب میں نے میگزین کے سرِورق پر درج الفاظ ’’Engage, Inform and Inspire‘‘دیکھے تو دل میں خوشی اور اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک جامع پیغام ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ڈاکٹر الطاف حسین لال صاحب اور اُن کا قافلۂ خدمت کشمیر، خصوصاً جموں و کشمیر کی تعمیری پیش رفت، سماجی بیداری اور ہمہ جہت ترقی کے لیے نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ پوری طرح وقفِ عمل بھی ہے۔اس ملاقات نے مجھے یہ احساس دلایا کہ اگر خلوصِ نیت، واضح وژن اور عملی جدوجہد یکجا ہو جائیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔ کشمیر کیئر فاؤنڈیشن کا مشن اسی تعمیری سوچ اور اجتماعی بھلائی کے جذبے کا عکاس ہے، جو ہمارے خطے کے روشن مستقبل کی نوید دیتا ہے۔
کشمیر کیئر فاؤنڈیشن دنیا کے مختلف خطّوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ، ریسرچرز اور پروفیشنلز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جو مختلف براعظموں، ثقافتوں اور علمی و پیشہ ورانہ پس منظر سے وابستہ ہیں۔ فاؤنڈیشن کا مقصد ان سب کو یکجا کر کے ایک مضبوط اور متحرک عالمی برادری (گلوبل کمیونٹی) تشکیل دینا ہے۔
کشمیر کیئر فاؤنڈیشن کا مشن سادہ مگر نہایت مؤثر اور طاقتور ہے۔ یہ ماہرین (Experts)، رہنماؤں و سرپرستوں (Mentors) اور سیکھنے والوں (Learners) کو ایک دوسرے سے جوڑنا چاہتی ہے تاکہ تعلیم کے فروغ، تحقیق کی ترقی اور اختراع (Innovation) کے عمل کو تقویت دی جا سکے۔ فاؤنڈیشن کا وژن صرف مقامی سطح تک محدود نہیں بلکہ وہ لوکل اور گلوبل دونوں سطحوں پر مثبت اور دیرپا اثرات مرتب کرنے کی خواہاں ہے۔ فاؤنڈیشن کے پاس ایک مضبوط اور باصلاحیت ایڈوائزری گروپ موجود ہے، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل ہیں۔ اسی طرح اس کا کور ورکنگ گروپ بھی نہایت متحرک اور سنجیدہ افراد پر مشتمل ہے، جو مختلف فیلڈز میں تجربہ رکھتے ہیں اور اجتماعی دانش کے ذریعے فاؤنڈیشن کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے میں مصروفِ عمل ہیں۔
بلاشبہ کشمیر کیئر فاؤنڈیشن کی یہ کاوش ایک قابلِ تحسین اور امید افزا قدم ہے، جو علم، تحقیق اور جدّت کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی کی راہیں ہموار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔کشمیر کیئر فاؤنڈیشن کے اکثر پروگرامز جب میں فیس بک پر دیکھتا ہوں اور ان کے عنوانات پر نظر ڈالتا ہوں تو دل میں بیک وقت حیرت بھی پیدا ہوتی ہے اور خوشی بھی۔ حیرت اس بات پر کہ ہمارے خطے میں اس نوعیت کے اعلیٰ علمی اور سائنسی موضوعات پر باقاعدہ اور منظم سیشنز منعقد ہو رہے ہیں، اور خوشی اس امر پر کہ نوجوان نسل کو ایسے معیاری پلیٹ فارم میسر آ رہے ہیں۔فاؤنڈیشن کے پروگرامز میں ایرو اسپیس انجینئرنگ، اسپیس سائنسز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مشین لرننگ جیسے جدید اور حساس موضوعات پر کلینیکل اور سائنسی نوعیت کے سیشنز منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان نشستوں میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی جاتی ہے کہ مقامی علم (لوکل نالج) کو جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ بایومیڈیکل سائنسز اور میڈیکل پروڈکٹس کے حوالے سے بھی نہایت معیاری اور رہنمائی فراہم کرنے والے پروگرامز ترتیب دیے جاتے ہیں۔ان پروگرامز کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ مختلف اور متنوع شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں، جس سے فکری ہم آہنگی اور علمی تبادلۂ خیال کو فروغ ملتا ہے۔حیرت اس لیے بھی ہوتی ہے کہ ڈاکٹر الطاف احمد لال صاحب جیسے بزرگ اور تجربہ کار فرد، جو عمر کے ایک سنجیدہ مرحلے سے گزر رہے ہیں، آج بھی اسی جوش، ولولے اور عزم کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں۔ اور مسرت اس بات کی ہوتی ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے نوجوان نسل کو جوڑا جا رہا ہے، ان کے ایکسپوژر کو وسعت دی جا رہی ہے اور انہیں عالمی سطح کے موضوعات سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔ماشاء اللہ! یہ ایک نہایت عمدہ، تعمیری اور مستقبل ساز کاوش ہے، جو ہمارے معاشرے میں علم، تحقیق اور جدت کے فروغ کی روشن مثال بن سکتی ہے۔
�����������������