رئیس یاسین
جموں و کشمیر کا سیاسی نظام برسوں سے ایسے دردناک چکر میں پھنسا ہوا ہے جس میں صرف چند افراد فائدہ اٹھاتے ہیں اور عام لوگ ہمیشہ مشکلات اور مایوسی کا شکار رہتے ہیں۔ ہر انتخاب میں کشمیری عوام اپنے نمائندوں پر بھروسہ کرتے ہیں، امیدیں وابستہ کرتے ہیں، لیکن ہر بار یہی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران لیڈر گاؤں گاؤں جاتے ہیں، لوگوں سے ہاتھ ملاتے ہیں، جذباتی تقریریں کرتے ہیں اور ترقی، روزگار اور بہبود کے بلند دعوے کرتے ہیں۔ مگر جیتنے کے بعد یہی نمائندے غائب ہو جاتے ہیں۔ عوام کی کالز کا جواب نہیں ملتا، درخواستیں سنی نہیں جاتیں، اور کئے گئے تمام وعدے بھلا دیے جاتے ہیں۔ ووٹر صرف ووٹنگ کے دن تک اہم ہوتا ہے، اس کے بعد وہ بے معنی سمجھا جاتا ہے۔اقتدار کا غرور ہماری جمہوریت کی روح کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے۔ مجھے اپنا تجربہ یاد ہے جب میں پنجاب میں تھا جہاں حکمران جماعت کا ایک ایم ایل اے ہمارے ساتھ پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ وہ عام لوگوں کی طرح زندگی گزارتا تھا، بغیر پروٹوکول کے سفر کرتا تھا، نہ کوئی قافلہ، نہ غرور اور نہ کسی قسم کی برتری کا اظہار۔ مگر کشمیر میں جب کوئی شخص ایم ایل اے بنتا ہے تو وہ خود کو اقوام متحدہ کا جنرل منیجر سمجھنے لگتا ہے۔ عوامی نمائندے بادشاہ بن جاتے ہیں اور جن لوگوں نے انہیں ووٹ دیا ہوتا ہے، وہی ان کے سامنے غلاموں کی طرح پیش کئے جاتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی غریب شخص کسی کام کے لئے ایم ایل اے سے ملنا چاہتا ہے تو اسے پورا دن انتظار کرنا پڑتا ہے اور پھر بھی اس سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ اس نے ووٹ کس پارٹی کو دیا۔ یہ جمہوریت نہیں، یہ ظلم ہے جو دہائیوں سے عوام پر مسلط ہے۔
سیاسی سفارش اور اقربا پروری نے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے۔ باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے لئے ترستے رہتے ہیں جبکہ نوکریاں اور عہدے سیاسی کارکنوں اور منظورِ نظر افراد میں تقسیم کئے جاتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ کبھی کبھی صرف کم تعلیم یافتہ افراد کو بڑے عہدے دئیے جاتے ہیں جبکہ پوسٹ گریجویٹ اور ہنر مند نوجوان نظر انداز کئے جاتے ہیں۔ اس ناانصافی نے نوجوانوں میں مایوسی، بیروزگاری، سماجی انتشار اور ذہنی دباؤ پیدا کیا ہے۔
بدانتظامی کے نتائج آج واضح ہیں۔ وہ رہنما جو کبھی عام گھروں میں رہتے تھے آج عالی شان بنگلوں کے مالک ہیں۔ ان کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں، مہنگی گاڑیوں میں گھومتے ہیں جبکہ عام کشمیری دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔ عوامی ترقی کے لیے مختص فنڈز کبھی اسکولوں، سڑکوں، اسپتالوں اور غریبوں تک نہیں پہنچتے، بلکہ طاقتور افراد کے گیٹ پر ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ ہم اس لیے نہیں جھیل رہے کہ وسائل کم ہیں بلکہ اس لئے کہ ہمارے لیڈروں نے ذاتی مفادات کو عوامی مفاد پر فوقیت دی۔
سیاست کا اصل مقصد انسانیت کی خدمت ہے۔ ایک حقیقی رہنما ایمان دار، منکسر مزاج اور عوام کے لیے ہر وقت دستیاب ہوتا ہے۔ وہ اپنی کرسی کو شان و شوکت کی علامت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے کشمیر میں سیاست خدمت نہیں بلکہ طاقت اور مفاد کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔ سیاسی جماعتیں برسوں سے عوام کو تقسیم کرتی رہیں، چند کارکنوں کو نوازتی رہیں اور اکثریت کو نظر انداز کرتی رہیں۔اگر کشمیر کو آگے بڑھنا ہے تو ہمیں ایک نئی سیاسی ثقافت کی ضرورت ہے،ایسی جس میں لوگ طاقت سے زیادہ اہم ہوں، میرٹ سفارش پر غالب ہو اور خدمت غرور کو شکست دے۔ ہمیں ایسے رہنما چاہئیں جو عوام کے ساتھ چلیں، جو عوام کی سُنیں، حکم نہ چلائیں، جو معاشرہ بنائیں، ذاتی دولت نہیں۔کشمیر کے لوگ ایسے نمائندے چاہتے ہیں جو زخموں پر مرہم رکھیںنہ کہ انہیں بڑھائیں۔ حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہے جب عوامی نمائندے یہ سمجھیں کہ قیادت ایک امانت ہے، عیش و آرام کا تخت نہیں۔ جب تک یہ تبدیلی نہیں آتی، تاریخ خود کو دہراتی رہے گی اور عوام کی تکالیف بھی جاری رہیں گی۔
[email protected]