اس حقیقت کی شاہد عادل ہےکہ جہاں بھی کوئی مسلٔہ پیداہوا ،وہاں اس کا حل بھی موجودر ہا ۔ ا س اصول کے تحت تنازعہ ٔجموں و کشمیر کا کوئی قابل قبول اور مبنی بر انصاف ضرور موجودہے مگر اسے ڈھونڈ نکالنے کے لئے تینوں فریق سنجیدہ غور و فکر کریں تو سہی۔ انہیں موجودہ عالم دنیا کی یہ اَٹل حقیقت سمجھنا ہوگی کہ دنیا گلو بلا ئز ہورہی ہے،یہاں ہر ایک ملک کا انحصار دوسرے ممالک پر بڑھتاہی جا رہا ہے، یہاںکوئی بھی ملک اکیلے ترقی کی سیڑھیاں طے کر سکتا ہےنہ زندہ رہ سکتا ہے ۔ حالا نکہ دنیا کی بڑی طاقتیں قوم پرستی کی بنیادیں مضبوط کر نےاور انہیںزندہ وتوانارکھنے کےلئے مکمل گلوبلائزیشن میں بڑی بڑی رکاوٹیں ڈال رہی ہیں ۔ا سی مقصد سے یہ طاقتیں جمہوری اصولوںکو روندھتے ہوئے ملٹیئرائزیشن کر کےدنیا ئے انسانیت کو پامال کر رہی ہیں ۔ چناںچہ عصر رواں میں ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح پہلے پہل عالمی ادارے(یواین او) کا عالمی مسائل سلجھانے میں ایک بڑا رول تھامگر آج یہ ادارہ محض ایک تماشائی یا بےکار دکھائی دیتا ہے یا یہ بڑی طاقتوں کا غلام ۔یہی وجہ ہے کہ جموں کشمیر تنازعہ پچھلے 71 برس سے حل طلب چلا آرہا ہے۔اس تنازعے نے اب تک لاکھوں لوگوں کو نگل ڈالا ہے ،یہاں تک کہ مالی جانی قربانیاں اب بیان سے باہر ہورہی ہیں۔1947 سے دونوں ممالک نے اس تنازعے کو حتمی طور سلجھانے کے لئے دوطرفہ سمجھوتے معاہدے کئے مثلاً 1947 تا50نہرو شیخ ایگریمنٹ، 1963 سے 1965 تک بٹھو سورن سنگھ بات چیت ،1966میں تاشقند معاہدہ پھر 1972 میں شملہ سمجھوتہ ، 1975 میں شیخ اندرا کارڈ، 1986 میں راجیو فاروق اتحاد اور 2001 میں مشرف ۔واجپائی یا خارجہ سیکرٹری کی سطحوں پر دوطرفہ بات چیت وغیرہ،مگر یہ سبھی دو طرفہ سمجھوتے اور مذاکراتی ادوار ناکام رہے۔ان سمجھوتوںسے البتہ واضح ہوتا رہا کہ جموں و کشمیر حل طلب مسئلہ ہے جو یک طرفہ یادو طرفہ سمجھوتوں سے نہیں بلکہ سہ فریقی پُرامن مذاکرات کا متقاضی ہے ۔ آج بھی مذاکرات کی میز پر بھارت پاکستان اور جموں و کشمیر کی قیادت کاسر جوڑ کر بیٹھنا نا گزیر ہے، اس کے بغیربرصغیرمیں امن ،ترقی اور بھائی چارہ مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ اصل تاریخی صداقت یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان آپس میں دو قریبی ہمسایہ ملک ہیں اور انہیں سمجھنا ہوگا کہ مخاصمت، مزاحمت اور نفرت کسی بھی مسلٔے کا حل نہیں ۔ ظاہر ہے کہ مسلسل کشیدگی ، خون خرابہ اور رشہ کشی سے کشمیر کی اقتصادی،سماجی، معاشی،اخلاقی اور ثقافتی زندگیاںبشمول زراعت، صحت، تعلیم، ناموافق اور منفی حالات کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں، نتیجہ یہ کہ ہم سب ان ناگفتہ بہ حالات میں تباہ حال ہورہے ہیں اور روز بروز تباہی کی طرف گامزن ہوتے جارہے ہیں ۔ ستم یہ کہ ہمارے حاکمان ِ بالاایک دیرینہ سیاسی مسئلے کو حل کرانے کی را ہ میں کشمیریوں کی جدوجہد اور انمول قربا نیوں کو &’’دہشت گردی &‘‘ کے نام سےیاد کر کےدنیا بھرمیں ہمارے خلاف زہر پھیلاتے جارہے ہیں اور ہر طرف سے ہمیں ہی دبایا اورکچلایا جارہا ہے۔ہمارے یہ کرم فرما ایک طرف کشمیر کاز پر پاکستان کی پُشت پناہی والی گڑ بڑ کا لیبل چسپاں کر کے ہمارے خلاف پروپگنڈا کرتے پھر تے ہیں اور پھر دوسری طرف فوجی طاقت سے ہمیں دبایا جا رہا ہے۔حالانکہ مسئلہ جموں و کشمیر کوئی مذہبی ایشو نہیں بلکہ ایک خالص سیاسی مسئلہ ہےجس کو بین الاقوامی برادری نے سات دہائیاں قبل تسلیم کیا ہواہے ۔دنیا کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ کشمیری عوام تشدد، خون خرابہ اور بدامنی پسند نہیں کرتے پھر بھی ہم ہی معتوب ومبغوض ہیں ۔
پچھلی عالمی جنگوں سے صاف مترشح ہواکہ خون ریز عالمی جنگ وجدل کے بعد بالآخر متحاربین کو آپسی مذاکرات، مفاہمت اور صلع ناموںکے لئے آگے آنا پڑتا ہے ۔ آج تک ڈائیلاگ کے میکانزم سےہی بہت سارے سنگین عالمی مسائل حل کئے گئے ۔ جنگ ہمیشہ ہر قوم اور ہر ملک کے لئے بے معنی بھی ہوتی ہے اور تباہ کن بھی اور آفاقی اصول یہ ہے کہ تشدد سے تشدد ختم نہیں ہوتا، نہ آگ سے آگ بجھائی جاتی ہے ، نہ کانٹے سے کانٹا نکالنا کوئی دانائی کاکام ہے ۔ تاریخ کی غیر جانب دار آنکھ سامنے کھلی یہ حقیقت ا س وقت دیکھ رہی ہے کہ 40؍برس سے چل رہی خونریز افغان جنگ کے بعد آخر میں امر یکہ کو افغان قبائیلیوںکو بات چیت کے لئے میز پر بلانا پڑا ۔ امن بات چیت کسی فریق کی ہار جیت کامسلٔہ نہیں ہوتابلکہ یہ وقت کا ناقابل التواتقاضا ہوتاہے کہ جس کے ذریعے دشمن بھی چاوناچار دوست بن جاتےہیں۔ اس حوالے سےاسلامی تاریخ کا ایک درخشاں پہلو صلح حدیبیہ ہمارے سامنے ایک روشن مثال ہے۔اس کی روشنی میں ہم 71 برسوں سے رستے ناسور یعنی کشمیرتنازعے کا بھی ایک حقیقت پسند انہ حل نکال سکتے ہیں ۔اس بابت ہمیں سیاسی بصیر ت کے ساتھ غور و فکر کرنا ہوگا۔ اگر گھڑی کی سوئیاں پیچھے نہیں جاتیںبلکہ آگے کی طرف چلتی ہیں تو کیاآج ہم وقت کا یہ مطالبہ ہم نظر انداز کر سکتے ہیں کہ برصغیر کی سُکھ شانتی ، تعمیر وترقی ، نیک ہمسائیگی اور پُر امن بقائے باہم کشمیر حل سے مشروط ہے ؟ یہ کوئی خواب و خیال کی بات نہیں بلکہ ہندوستان پاکستان اور کشمیر کے حالات اسی جانب اشارہ کرتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ دیر سویر ہند پاک اور کشمیری قیادت دوستانہ ماحول میں گفت وشنید کر کے ہی کشمیر حل کی جانب بڑھ سکتے ہیں ۔ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے یہ بات بخوبی سمجھ لی تھی اس لئے مسئلہ انسانیت کے دائرے میں حل کر نے کی حامی بھر لی تھی۔ نیزتاریخ گواہ ہے کہ عوام ہی طاقت کا سر چشمہ ہوتے ہیں،بندوق یا بارود نہیں ۔ تاریخ کے ان ٹھوس حقائق کا فہم وادراک ہی بر صغیر ایک پُر امن ،پُر سکون ، پُر وقار اور خوش حال زندگی گذارسکتا ہے۔ ورنہ اہل کشمیر کا ہی نہیں بلکہ پورے برصغیرمستقبل مخدوش نظر آتا ہے۔