جموں// سرینگر میں گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول عیدگاہ کے پرنسپل سمیت دو اساتذہ کی ہلاکت کے خلاف جموں بھر میں مختلف تنظیموں کی جانب سے زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریزجموں ، جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموں ، بی جے پی ،پینتھر س پارٹی ،جموں و کشمیر پیپلز فورم ، سکھ یوتھ سیوا ٹرسٹ ، سول سوسائٹی کے ارکان ، اکھل بھارتیہ جنتا پارٹی (اے بی وی پی) ، اکھنور اور دیگر مقامات پر لوگوں نے کئی احتجاجی مظاہرے کیے اور کشمیر میں عسکریت پسندوں کی جانب سے چنندہ ہلاکتوں کے خلاف اپنے دکھ کا اظہارکیا۔جانی پور میں جے اینڈ کے ہائی کورٹ میں وکلاء نے اساتذہ کے قتل کے خلاف احتجاج کیا اور ان کا کام آج کے لیے معطل کردیا۔ مظاہرین پاکستان کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔بار ایسوسی ایشن کے صدر ایم کے بھردواج نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا’’کل بار ایسوسی ایشن جموں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم اپنا کام معطل کر دیں گے۔ ہم جموں کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیر میں چنندہ قتل میں ملوث ملک دشمن عناصر کے خلاف آواز اٹھائیں‘‘۔اسی طرح کا احتجاج چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے سٹی چوک پر صدر ارون گپتا کی قیادت میں کیا گیا۔بے گناہوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ارون گپتا نے کہا کہ چونکہ عسکریت پسند سرحدوں پر سخت سیکورٹی کی وجہ سے دراندازی میں ناکام رہے ہیں ، مقامی عسکریت پسند چنندہ قتل کا سہارا لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو وادی کشمیر میں عسکریت پسندی کو کچلنا چاہیے۔ وہ سی سی آئی۔ جموں کے بینر تلے تاجروں کے احتجاج کے دوران میڈیا سے بات کر رہے تھے۔اس دوران بی جے پی اور پینتھرس پارٹی نے بھی ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی جلوس نکال کر اپنی برہمی کا اظہار کیا۔دریں اثنا ، جے اینڈ کے پیپلز فورم کے ارکان اور سول سوسائٹی توی پل پر مہاراجہ ہری سنگھ کے مجسمہ کے مقام پر جمع ہوئے۔سینکڑوں لوگ وہاں جمع ہوئے اور انہوں نے قتل کے خلاف نعرے لگائے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے سینئر لیڈر یدھ ویر سیٹھی نے کہا کہ وادی کشمیر میں سیاستدانوں ، سول سوسائٹی ، انسانی حقوق کے کارکنوں کو قتل کے خلاف سڑکوں پر نکلنا چاہیے۔اس کے علاوہ سکھ یوتھ سروس ٹرسٹ کے ممبران نے گاندھی نگر میں گوردوارہ کے باہر پرامن احتجاج کیا اور انہوں نے کشمیر میں اقلیتی برادریوں کی حفاظت کا مطالبہ کرتے ہوئے اساتذہ کے قتل کے خلاف احتجاج کیا۔مظاہرین کشمیر میں ٹی آر ایف کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔انہوںنے کہا’’حکومت کو بیدار ہونا چاہیے اور زمینی صورتحال کو دیکھنا چاہیے۔ ہم مرنے والوں کے لیے انصاف چاہتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مسلمانوں سمیت سب کو قتل کیا جا رہا ہے۔ حکومت کو امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کشمیر کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے۔اے بی وی پی کے کارکنوں نے بھی ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کیا۔ اکھنور میں سول سوسائٹی کے ارکان بھی شام کو سڑک پر نکل آئے اور قتل کے خلاف احتجاج کیا۔اس دوران ضلع گوردوارہ پربندک کمیٹی جموں کے ارکان نے بھی اساتذہ کے قتل کی مذمت کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بے گناہوں کے بار بار قتل سے کشمیر کی صورتحال 90 کی دہائی کی طرح ابھر رہی ہے۔انہوںنے کہا’’تاہم ہم وہاں سے ہجرت نہیں کریں گے۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیر میں رہنے والے لوگوں خصوصاًاقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے‘‘۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کا پتہ لگائے کہ کشمیر میں یہ حالات کیوں پیدا ہوئے ہیں۔دریں اثناء اپنی پارٹی شیڈیول ٹرائب ونگ صدر سلیم چوہدری نے پچھلے چند روز سے کشمیر میں معصوم شہریوں کے بہیمانہ قتل کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے۔ صورتحال کو تشویش کن قرار دیتے ہوئے سلیم چوہدری نے کہاکہ حکومت کو سیکورٹی صورتحال میں بہتری لانے کے لئے اقدامات اُٹھانے چاہئے جوکہ وادی کشمیر میں عرصہ دراز سے رہائش پذیر اقلیتی طبقہ کے لوگوں کے لئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں خوف وڈر ہے لیکن حکومت کو چاہئے کہ اہلیان ِ کشمیر کی سلامتی وحفاظتی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید کہاکہ بائز ہائر اسکینڈری اسکول عیدگاہ ڈاؤن ٹاؤن سرینگر میں ٹیچر دیپک چند مہرا، اسکول پرنسپل ستندر کور کا قتل غیر انسانی ہے جس کی پرزور الفاظ میں مذمت کی جانی چاہئے ۔
متحد ہو کر بھائی چارہ کو پامال کرنے کا منصوبہ ناکام بنائیں | دیوندر سنگھ رانا کی جموںوکشمیر کی سیاسی قیادت سے پرزور اپیل
جموں//سابق ممبر اسمبلی دیویندر سنگھ رانا نیمرکزی دھارے کی سیاسی قیادت کو وادی میں پریشان کن ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں واضح موقف اختیار کرنے اور جموں و کشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو پامال کرنے کے پاکستانی منصوبوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی۔رانا نے ناگروٹا اسمبلی حلقہ سے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا"وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی بدمعاش قوم کو ہمارے رشیوں اور صوفیوں کی سرزمین پر دہشت گردانہ حکومت کا خاتمہ کرنے کے لیے ، اس کے ناپاک ، غیر انسانی اور وحشیانہ منصوبوں کے لیے پکارا جائے‘‘۔ انہوں نے ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت کے حالیہ حملوں کو ان لوگوں کے لیے تشویش کا باعث قرار دیا جو جموں و کشمیر کے امن ، سکون اور ترقی کے لیے تڑپ رہے ہیں جو بندوق کلچر کے ذریعے اپنی تاریخ کے بدترین مرحلے سے گزر رہا ہے۔ان کا کہناتھا’’ سرحد پار سے کھلی حمایت کو پاکستان کو کوئی عزت نہیں دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا ، جس کی حقیقت میں اس ملک کی پوری آبادی کو اس کے شیطانی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے تعاون دینے کے لیے مذمت کی جانی چاہیے۔ لہذا عوام اور سیاسی قیادت اور خاص طور پر سول سوسائٹی کو اس لعنت کے خلاف اٹھنا چاہیے تاکہ صوفی ازم اور روحانیت کے گھر کی قدیم شان کو بحال کیا جا سکے‘‘۔ رانا نے کہا کہ پرامن بقائے باہمی اور ترقی نارملسی سے مشروط ہے ، جو کہ ملک کے اس حصے میں عسکریت پسندی کے وقفے وقفے سے ہونے والی کارروائیوں کی وجہ سے ختم ہو رہی ہے، یہ سیاسی مقاصد کے حصول میں تشدد پر یقین رکھنے والوں کو الگ کرنے کے لیے پارٹی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر ایک مضبوط اور متحد سیاسی نقطہ نظر کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ غلط کو غلط کہیں اور کسی بھی مظہر میں تشدد کی مذمت کریں۔رانانے سرینگر میں حالیہ ہلاکتوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ مجرموں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہیے، انہوں نے بقائے باہمی کی ثقافت کو پامال کیا ہے جو کہ وادی کے شاندار ماضی پر داغ ہے اور مقامی لوگوں کی طرف سے مذمت کا پیمانہ اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ان کے امن اور سکون کی کوشش کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بندوق برداووںاور ان کے سرپرستوں کو ایک خوفناک پیغام بھیجنے کے لیے اس جذبے کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ رانا نے وادی بھر میں تین قتلوں کے دو دن بعد عیدگاہ سرینگر سکول کے اندر ایک پرنسپل اور ایک استاد کی غیر انسانی ، وحشیانہ اور ٹارگٹ کلنگ پر صدمے اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قتل و غارت کا بدصورت چہرہ دکھانا ناقابل قبول ہے۔انہوںنے کہا کہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بیانات اور رسمی مذمتی پیغامات جاری کرنے کا وقت اب ختم ہو چکا ہے ۔
اساتذہ کا قتل انسانیت :ٹیچرس فورم | ڈوڈہ گندوہ میں پرامن جلوس و کینڈل مارچ نکالا گیا
اشتیاق ملک
ڈوڈہ//جموں و کشمیر ٹیچرس فورم و ٹیجیک نے گذشتہ روز سرینگر میں دو اساتذہ کی ہلاکت کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے غمزدہ خاندان کے ساتھ تعزیت کی ہے۔ٹیچرس فورم کے چیف کوآری نیٹر جماعت علی آگاہ،ٹیچر س جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ضلع صدر سجاد ملک و ٹیچرس فورم کے صوبائی نائب صدر اسحاق رشید ملک نے اپنے الگ الگ تعزیتی پیغام میں اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اس میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے غمزدہ خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈوڈہ کے گندوہ میں ایک پر امن جلوس و کینڈل مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف محکموں کے ملازمین نے شرکت کی۔اس موقع پر انہوں نے دونوں اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے حکومت سے تمام سرکاری ملازمین و عام شہریوں کی زندگی محفوظ بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔مقررین نے اتحاد ملازمین زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔
رام بن میں اساتذہ کی قلم چھوڑ ہڑتال
بانہال // ضلع رام بن میں رہبر تعلیم ٹیچرس فورم کی طرف سے سرینگر کے سکول میں اساتذہ کی ہوئی ہلاکتوں کے خلاف قلم چھوڑ ہڑتالی کی کال پر بیشتر سرکاری سکولوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔ بانہال ، کھڑی ، اکڑال پوگل پرستان، رام بن ، بٹوت اور گول کے تعلیمی زون کے اساتذہ نے نہ صرف قلم چھوڑ ہڑتال کی بلکہ انہوں نے یک زبان ہوکر سرینگر میں دو اساتذہ کی ہلاکت کو افسوس ناک قرار دیا ہے اور غمزدہ خاندانوں کے ساتھ اپنی بھرپور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر مہلوکین کی روح کی شانتی کیلئے دعا کی گئی۔ انہوں نے اس بیہمانہ واقع میں ملوث افراد کی کی گرفتاری جلد از جلد گرفتاری مطالبہ کیا ہے۔
مہلوک ٹیچر دیپک چند مہرا کی جموں میں پُر نم آنکھوںکیساتھ آخری رسوم ادا | چنند ہ ہلاکتیں مہاجرپنڈتوں ،سکھوں و مسلموں کی گھرواپسی میں رخنہ ڈالنے کی سازش:رویندر رینہ
سید امجد شاہ
جموں //سرینگر کے ایک سرکاری سکول کے استاد دیپک چند مہرا کو شکتی نگر کے ایک شمشان گھاٹ میں آنسوؤں کے درمیان سپرد آتش کیا گیا۔اس موقعہ پر خاندان کے ممبران ، رشتہ دار ، پڑوسی اور سینکڑوں افراد موجود تھے۔ضلع جموں کے پٹولی منگوتریان کے رہنے والے مہرا کو نامعلوم بندوق برداروںنے سکول کے پرنسپل ستیندر کور کے ساتھ سرینگر کے شہر میں واقع گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری سکول عیدگاہ میں کل گولی مار کر ہلاک کردیاتھا۔سرینگر میں سرکاری ٹیچر کے قتل کے بارے میں جاننے کے بعد کل رات سینکڑوں لوگ ان کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے۔ ان کے پسماندگان میں بیوی اور ایک نابالغ بیٹی ہے۔گھر والوں ، رشتہ داروں ، پڑوسیوں اور بی جے پی ، کانگریس پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے سیاستدانوں سمیت سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میںمہرا کی آخری رسوم شکتی نگر کے شمشان گھاٹ میں انجام دی گئیں جبکہ جموں میں کئی علاقوں میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔بی جے پی جموں و کشمیر کے صدر رویندر رینہ دیگر بی جے پی لیڈروں کے ساتھ آخری رسومات میں موجود تھے۔اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے رویندر رینہ نے کہا: "خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد جموں وکشمیر ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے ہزاروں کروڑ کے ترقیاتی منصوبوں کو منظوری دی ہے۔ ہندوؤں ، مسلمانوں ، سکھوں میں فرقہ وارانہ بھائی چارہ مضبوط ہو رہا ہے۔ یہ چیزیں ملک دشمن عناصر برداشت نہیں کر رہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا: "علیحدگی پسندوں ، عسکریت پسندوں ، اور پاکستانیوں اور جموں و کشمیر کے عوام کے دشمنوں نے وادی کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ سے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی سازش کی ہے"۔انہوں نے مزید کہا کہ عسکریت پسند، ان کے ہمدرد اور حامی جو بھی اس سازش میں ملوث ہیں انہیں نہیں بخشا جائے گا اور انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کشمیر میں عسکریت پسندی اور علیحدگی کا سبب تھا۔جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر نے مزید کہا کہ "چونکہ خصوصی حیثیت منسوخ کر دی گئی ہے اور تمام مرکزی قوانین نافذ ہیں ، لوگ خوش ہیں اور وہ جموں و کشمیر میں امن سے رہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے (عسکریت پسندوں) نے کشمیر میںخون بہانے کے لیے چنندہ ہلاکتیں انجام دیں تاہم یہ سازش قوم پرست لوگوں کے حوصلے پست نہیں کرے گی‘‘۔انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے وادی کشمیر کے کشمیری پنڈتوں ، سکھوں اور قوم پرست مسلمانوں کی واپسی اور بحالی کے بھارتی حکومت کے منصوبے کے پیش نظر لوگوں میں خوف کی فضا پیدا کرنے کے لیے چنندہ قتل کی سازش رچی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی کی حکومت ایک بڑے منصوبے پر عمل پیرا ہے (تارکین وطن کی واپسی اور بحالی کا حوالہ دیتے ہوئے) ، یہ قتل پاکستان ، عسکریت پسندوں ، علیحدگی پسندوں اور ان کے ہمدردوں کے ذریعے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کے لیے ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا: "وہ جو بھی ہیں ، وہ اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہوں گے اور ان سب کو ختم کرنا پڑے گا۔"دریں اثنا ، جے کے کانگریس کے سینئر لیڈروں نے بھی دیپک چند کی آخری رسومات میں شرکت کی اور ان کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔پی سی سی کے نائب صدور اور سابق وزرا مولا رام ، رمن بھلا ، ترجمان اعلیٰ رویندر شرما ، جنرل سکریٹری منموہن سنگھ ، صدر ڈی سی سی جموں دیہی ہری سنگھ چب ، یوتھ کانگریس صدر اودھے چب ، جے کے پی سی سی او بی سی چیئرمین ایڈو سریش ڈوگرہ ، کارپوریٹر راجندر جاموال ، پرشوتم مہرا اور دیگر نے شکتی نگر میں آخری رسومات میں شرکت کی اور مہرا کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کو تسلی دی اور پارٹیکی جانب سے ان سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔انہوں نے اس بزدلانہ قتل کی شدید مذمت کی اور اسے انتہائی غیر انسانی اور وحشیانہ فعل قرار دیا۔ کانگریس کے سینئر لیڈروں نے مرضی سے منتخب قتل کے سلسلے کو ایک خطرناک صورتحال اور مرکز حکومت کی مکمل ناکامی قرار دیا اور UT انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ عسکریت پسندی پر قابو پانے اور وادی کشمیر میں اقلیتوں اور ملازمین کے تحفظ کو یقینی بنائے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وادی کے مختلف علاقوں میں تعینات ملازمین سمیت اقلیتی برادری کے ارکان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کمزور علاقوں میں تعینات اقلیتی برادری کے بیرونی عہدیداروں اور ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے میکانزم بنایا جائے۔ دریں اثنائکانگریس کی جموںوکشمیر امور کی انچارج رجنی پاٹل ایم پی کانگریس ہائی کمان کی ہدایات پر سرینگر پہنچی تاکہ حالیہ چنندہ ہلاکتوںکے اہل خانہ سے تعزیت اور اظہار یکجہتی کرسکے۔ عین ممکن ہے کہ وہ آج جموں کا دورہ کریں جہاں وہ دیپک چند کے خاندان سے ملنے جائیں گی۔
جھجر کوٹلی کا یاسر علی زندہ ہے،پولیس کی تصدیق ،تحقیق جاری| یاسر کا بٹوہ چار روز قبل کھو گیاتھا: پنچ جھجر کوٹلی کا دعویٰ
سید امجد شاہ
جموں //پولیس یاسر علی کے بارے میں تحقیق کر رہی ہے جو پیشے سے ڈرائیور ہے اورجس کا شناختی کارڈ گزشتہ شام اننت ناگ ضلع میں نیم فوجی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ایک شہری سے ملا تھا۔جھجر کوٹلی کا رہائشی یاسر علی اپنے گاؤں کے پنچ سلیم احمد کے مطابق پیشے کے اعتبار سے ٹرک/ٹرالہ ڈرائیور ہے۔سلیم احمد نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ علی نے اسے تین چار دن پہلے فون کیا اور بتایا کہ اس نے اپنا پرس ، شناختی کارڈ وغیرہ وغیرہ کھو دیا ہے۔جھجر کوٹلی کے پنچ نے کہا "اس نے مجھے ¾ دن پہلے فون کیا اور مجھے بتایا کہ وہ اپنا پرس کھو چکا ہے۔" انہوں نے کہا کہ "کل ، لگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا جب انہیں معلوم ہوا کہ کوئی شخص جس کا نام یاسر علی ہے اننت ناگ میں مارا گیا ہے"۔تاہم انہوں نے کہا کہ "جب ہم نے پولیس سے اس کی تصدیق کی تو چیزیں واضح ہوگئیں۔ فائرنگ سے ہلاک ہونے والا شخص یاسر نہیں تھا ، لیکن اس کے قبضے سے یاسر کا شناختی کارڈ ملا جس سے قیاس آرائی ہوئی کہ جھجر کوٹلی کے مقامی نوجوان کو قتل کیا گیا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا ، "پولیس کل شام تصدیق کے مقاصد کے لیے ان کی رہائش گاہ پر آئی تھی۔" انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ یاسر رام بن میں ہے۔ایس ایچ او جھجر کوٹلی دیویندر سنگھ نے بھی تصدیق کی کہ یاسر، جو کہ جھجر کوٹلی کا رہائشی ہے ،محفوظ ہے اور وہ کل شام اننت ناگ میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک نہیں ہوا ہے۔جب پولیس افسر سے پوچھا گیا کہ کیا یاسر کی تلاش رام بن میں کی جا رہی ہے ، توانہوںنے کہا’’ ہم اس کی تحقیق کر رہے ہیں کہ وہ کتنا سچ کہہ رہا ہے۔ تاہم معاملہ اننت ناگ پولیس سنبھالے گی‘‘۔واضح رہے کہ اننت ناگ کے مونگل برج میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کے ہاتھوں سکارپیو گاڑی پر فائرنگ کے نتیجہ میں ایک شہری کی موت واقع ہوئی تھی۔
جموں ائیر پورٹ پر نئے ٹرمینل کی تعمیر کیلئے راستہ ہموار | 974 کنال اراضی بلا معائوضہ ایئرپورٹ اتھارٹی کو منتقل کرنے کی منظوری
جموں//ایک اہم فیصلے میں انتظامی کونسل،جس کا اجلاس لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں ہوا ، نے جموں کے گاؤں رکھ رائے پور میں 974 کنال 02 مرلہ کی سرکاری زمین جموں ہوائی اڈے پر نئے ٹرمینل کے قیام کے لیے ایئر پورٹ اتھارٹی آف انڈیا (AAI) کے حق میں مفت منتقل کرنے کی منظوری دے دی۔لیفٹیننٹ گورنر کے مشیروں فاروق خان اور راجیو رائے بھٹناگر ، ڈاکٹر ارون کمار مہتا چیف سیکریٹری اور نتیشور کمار لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سکریٹری نے میٹنگ میں شرکت کی۔نئے ٹرمینل کا قیام جموں ائیرپورٹ کی فضائی ٹریفک کو سنبھالنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گا جس سے سیاحت ، معیشت کو فروغ ملے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔یہ فیصلہ ہندوستانی ہوا بازی کے شعبے کی ترقی کو نمایاں انداز میں فروغ دینے کے لیے حکومت کی پالیسی کے مطابق ہے تاکہ معیشت پر مثبت اثر کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت کا مقصد مختلف ہوا بازی کے سب سیکٹرز کی ہم آہنگ ترقی کے لیے ایک ماحولیاتی نظام فراہم کرنا ہے۔
Box
امرتسر و دیگر شہروں کے لئے پروازیں | جموں ہوئی اڈے پر10اکتوبر سے بحال ہونگیں
جموں// جموں ہوائی اڈے سے ماہ رواں کی دس تاریخ سے امرتسر سمیت کئی دوسرے شہروں کے لئے پروازوں کا سلسلہ بحال ہونے والا ہے۔بتادیں کہ کورونا وبا کے پیش نظر جموں ائیر پورٹ سے بعض شہروں کے لئے پروازوں کے اٹھنے کا سلسلہ ہنوز معطل تھا۔ہوائی اڈے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ جموں ائیر پورٹ پر دس اکتوبر سے چندی گڑھ، دہرا دون، امرتسر اور جئے پور کے لئے پروازوں کا سلسلہ بحال ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ائیر پورٹ حکام نے اس سلسلے میں تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جموں ائیر پورٹ پر فی الوقت صرف دلی اور سری نگر سے ہی پروازیں آتی ہیں۔دریں اثنا جموں ائیر پورٹ کے ڈائریکٹر سنجیو کمار گرگ نے بتایا کہ ہم نے ائیرلائن منتظمین سے اپنے سیکٹروں کا جائزہ لینے کو کہا ہے اب کیونکہ کورونا کی صورتحال کافی حد تک سدھر گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں ائیر پورٹ سے امرتسر کے علاوہ دہرا دون، چندی گڑھ، لکھنو اور جئے پور کے لئے بہت جلد پروازوں کا سلسلہ بحال ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ شبانہ پروازوں کے اٹھنے اور بیٹھنے کا سلسلہ پہلے ہی جاری ہے اور ہوائی اڈے پر مسافروں کی سہولیات کو مزید وسعت دی جا رہی ہے ۔موصوف ڈائریکٹر نے کہا کہ ہوائی اڈے پر رن وے کی توسیع کا عمل جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے یہ رون وے چھ ہزار فٹ سے بھی کم تھی اب اس کو آٹھ ہزار فٹ تک بڑھایا جا رہا ہے ۔