سید مصطفیٰ احمد
کتاب انسانی تہذیب کی بنیاد ہے۔ دنیا کی ہر ترقی یافتہ قوم نے اپنی فکری، سائنسی اور سماجی ترقی کا سفر کتابوں سے شروع کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں میں مطالعے کی روایت مضبوط رہی، وہاں علم، تحقیق، اختراع اور تخلیقی صلاحیتوں نے جنم لیا۔ کتاب انسان کو صرف معلومات فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے سوچنے، سوال کرنے، تجزیہ کرنے اور حقائق کو سمجھنے کا شعور بھی عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور کے مفکرین، سائنس دان، ادیب، فلسفی اور مصلحین کتابوں کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھتے رہے ہیں۔ مطالعہ انسان کے ذہن کو وسعت دیتا ہے، اس کی شخصیت کو نکھارتا ہے اور اسے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک اچھی کتاب انسان کو ان تجربات اور مشاہدات سے روشناس کراتی ہے جو شاید اسے اپنی پوری زندگی میں حاصل نہ ہو سکیں۔ افسوس کہ آج کے دور میں مطالعے کی ثقافت بتدریج کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ معلومات کے ذرائع میں اضافے کے باوجود سنجیدہ مطالعے کا رجحان کم ہو رہا ہے۔ گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی حلقوں میں کتابوں کی اہمیت پہلے جیسی نہیں رہی۔ اس زوال کے اثرات ہماری فکری صلاحیتوں، تعلیمی معیار اور سماجی رویوں پر نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو آنے والی نسلیں علم اور شعور کے اس عظیم خزانے سے محروم ہو سکتی ہیں۔ اس مضمون میں مطالعے کی ثقافت کے زوال کے چند اہم اسباب کا جائزہ لیا جائے گا۔
مطالعے کی ثقافت کے زوال کی پہلی وجہ مقصدِ زندگی کا فقدان ہے۔ آج بہت سے لوگ زندگی کو صرف معاشی کامیابی، ملازمت، دولت اور مادی آسائشوں تک محدود سمجھتے ہیں۔ علم اور فکری نشوونما کو ثانوی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ تعلیم کا مقصد شعور اور کردار سازی کے بجائے صرف ڈگری اور ملازمت کا حصول بن گیا ہے۔ طلبہ کی بڑی تعداد امتحان میں کامیابی کو ہی تعلیم کا آخری ہدف سمجھتی ہے۔ چنانچہ وہ کتابوں کو سمجھنے اور ان سے سیکھنے کے بجائے محض امتحان پاس کرنے کے لیے رٹنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ جب معاشرے میں علم کی بجائے صرف مادی کامیابی کو معیار بنا لیا جائے تو مطالعے کی اہمیت خود بخود کم ہو جاتی ہے۔
دوسری بڑی وجہ ہمارا امتحان پر مبنی تعلیمی نظام ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں تخلیقی اور تنقیدی سوچ پیدا کرنے کے بجائے نمبروں اور گریڈز کے حصول پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ طلبہ کو مختلف موضوعات پر آزادانہ مطالعے اور تحقیق کی ترغیب کم دی جاتی ہے۔ اساتذہ اور والدین بھی اکثر اعلیٰ نمبروں کو اصل کامیابی سمجھتے ہیں۔ نتیجتاً کتابیں علم کے دروازے کے بجائے ایک بوجھ محسوس ہونے لگتی ہیں۔ تعلیم کا مقصد جب محض امتحانات تک محدود ہو جائے تو مطالعے کی حقیقی روح ختم ہو جاتی ہے۔
تیسری وجہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر ہے۔ بلاشبہ انٹرنیٹ علم و معلومات کا ایک وسیع خزانہ ہے اور اس نے دنیا بھر کی معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ بے شمار ایسی چیزیں بھی موجود ہیں جو انسان کی توجہ منتشر کرتی ہیں۔ مختصر ویڈیوز، غیر ضروری سوشل میڈیا سرگرمیاں، آن لائن تفریح اور مسلسل نوٹیفیکیشنز نے نوجوانوں کی توجہ اور یکسوئی کو متاثر کیا ہے۔ کتاب پڑھنے کے لیے صبر، ارتکاز اور وقت درکار ہوتا ہے جبکہ ڈیجیٹل دنیا فوری تفریح اور وقتی تسکین فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ گھنٹوں موبائل فون استعمال کرتے ہیں لیکن چند صفحات کتاب کے نہیں پڑھتے۔
چوتھی وجہ گھریلو ماحول میں کتابوں کی عدم موجودگی ہے۔ بچے اپنے والدین اور ماحول سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھروں میں کتابیں نہ ہوں، مطالعے کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے اور والدین خود کتاب خوانی سے دور ہوں تو بچوں میں بھی مطالعے کی عادت پیدا نہیں ہو سکتی۔ آج بہت سے گھروں میں جدید الیکٹرانک آلات تو موجود ہیں لیکن کتابوں کی الماریاں خالی ہیں۔ ایسے ماحول میں کتاب دوستی کا فروغ ایک مشکل امر بن جاتا ہے۔
پانچویں وجہ کتب خانوں اور مطالعاتی مراکز کی کمی ہے۔ مطالعے کے فروغ کے لیے معیاری کتب خانوں کا وجود ناگزیر ہے۔ افسوس کہ بہت سے علاقوں میں عوامی کتب خانے یا تو موجود نہیں یا اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ جدید کتابوں، آرام دہ ماحول اور مطالعے کی سہولیات کا فقدان لوگوں کو کتابوں سے دور کرتا ہے۔ اگر ہر محلے اور قصبے میں فعال کتب خانے موجود ہوں تو مطالعے کی ثقافت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ میں یہاں اپنے اصل موضوع سے مختصراً انحراف کر رہا ہوں، تاہم چنار بک فیسٹیول کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے، کیونکہ یہ کشمیر میں مطالعے کی ثقافت کے فروغ کے لیے ایک قابلِ ستائش اقدام ہے۔ اس ادبی تقریب میں ملک کے مختلف حصوں سے ناشرین، مصنفین اور کتاب فروش شرکت کرتے ہیں۔ فیسٹیول میں ہزاروں کتابیں مختلف موضوعات پر قارئین کے لیے دستیاب ہوتی ہیں جن میں ادب، تاریخ، فلسفہ، سائنس، مذہب اور بچوں کی کتابیں شامل ہیں۔ ایسے پروگرام نہ صرف کتابوں تک رسائی آسان بناتے ہیں بلکہ نوجوان نسل میں مطالعے کا شوق بھی پیدا کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس قسم کی تقریبات کو مزید وسعت دی جائے اور سال بھر مختلف اضلاع میں کتابی میلوں، ادبی نشستوں اور مطالعاتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ مطالعے کی ثقافت کو مضبوط بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔
چھٹی وجہ مادیت پسندی کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ آج کامیابی کو زیادہ تر دولت، شہرت اور ظاہری آسائشوں سے جوڑا جاتا ہے۔ نوجوانوں کے لیے رول ماڈل اکثر وہ افراد بن جاتے ہیں جنہوں نے مالی کامیابی حاصل کی ہو، جبکہ علم، ادب اور فکری خدمات انجام دینے والے افراد پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ جب معاشرہ علم کی بجائے دولت کو زیادہ اہمیت دینے لگے تو مطالعے کی ثقافت کمزور ہونا فطری امر ہے۔
ساتویں وجہ وقت کے مؤثر استعمال کا فقدان ہے۔ بہت سے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس مطالعے کے لیے وقت نہیں، حالانکہ وہ روزانہ کئی گھنٹے غیر ضروری سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں۔ اگر روزانہ صرف بیس یا تیس منٹ بھی مطالعے کے لیے مختص کیے جائیں تو سال بھر میں کئی معیاری کتابیں پڑھی جا سکتی ہیں۔ مسئلہ وقت کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا تعین ہے۔
مندرجہ بالا حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ مطالعے کی ثقافت کا زوال محض ایک تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور فکری بحران ہے۔ اگر کوئی قوم کتابوں سے دور ہو جائے تو اس کی تخلیقی صلاحیتیں، تحقیقی رجحانات اور فکری قوتیں بھی کمزور پڑ جاتی ہیں۔ علم کے بغیر ترقی محض ایک سراب ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر مطالعے کو فروغ دینے کی کوشش کریں۔ والدین اپنے بچوں میں کتاب دوستی پیدا کریں، اساتذہ طلبہ کو نصاب سے ہٹ کر مطالعے کی ترغیب دیں اور حکومتیں کتب خانوں اور مطالعاتی مراکز کے قیام پر خصوصی توجہ دیں۔ میڈیا کو بھی علمی سرگرمیوں اور کتابوں کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر ہر فرد سال میں چند کتابیں بھی سنجیدگی سے پڑھنے کا عزم کر لے تو معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ کتابیں صرف علم کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار سازی، فکری آزادی اور شعوری بیداری کا وسیلہ بھی ہیں۔ یہی کتابیں انسان کو تعصب، جہالت اور تنگ نظری سے نجات دلاتی ہیں۔ مطالعہ انسان میں برداشت، وسعتِ نظر اور تنقیدی فکر پیدا کرتا ہے۔ ایک کتاب دوست معاشرہ زیادہ باشعور، زیادہ مہذب اور زیادہ ترقی یافتہ ہوتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کتابوں سے اپنا ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ جوڑیں اور مطالعے کو اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔ جب گھروں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور عوامی مقامات پر کتابوں کی خوشبو پھیلے گی تو یقیناً ایک روشن، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد مضبوط ہوگی۔ مطالعے کی ثقافت کا احیاء دراصل ہمارے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔