آصف حسین کشمیری
کشمیر جو کبھی حسن، تہذیب، علم اور روحانیت کا مرکز سمجھا جاتا تھا، آج ایک ایسے درد سے گزر رہا ہے جس کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں مگر اس کے اثرات نسلوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ گولیوں اور بارود کے بعد اب وادی کو جس سب سے بڑے خطرے نے اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہ منشیات کا زہر ہے۔ دشمن کا طریقہ بدل چکا ہے، اب تباہی کا سامان باہر سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے اندر سے پیدا کیا جا رہا ہے۔ یہ جنگ میدان میں نہیں بلکہ گھروں کے کمروں میں، دوستوں کی محفلوں میں اور سوچوں کے اندھیروں میں لڑی جا رہی ہے، اور اس کا سب سے بڑا نشانہ ہمارے نوجوان ہیں جو قوم کا سرمایہ اور مستقبل تھے۔یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نشے کا پھیلاؤ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ ہے۔ جب کسی قوم کے نوجوان اپنی صلاحیت، شعور اور ارادے کھو دیتے ہیں تو وہ قوم خود بخود کمزور ہو جاتی ہے۔ آج وادی کا سب سے قیمتی خزانہ یعنی نوجوان نسل نشے کی بھول بھلیوں میں دھکیل دی گئی ہے۔ ہر نوجوان غلطی سے راستہ نہیں کھوتا بلکہ اکثر اس کے پیچھے دل کا درد، ذہنی الجھنیں، مقابلے کی دوڑ، معاشی دباؤ، گھریلو تناؤ، محبتوں کی ناکامی، بے مقصد زندگی اور دوستوں کے اثرات ہوتے ہیں۔ جب اندر کا خلا بڑھ جائے اور سہارا نہ ملے تو غلط ہاتھ کسی کو بھی تھام سکتے ہیں اور یہی لمحہ بربادی کی شروعات بن جاتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف متاثر شخص کا نہیں بلکہ پورے خاندان کا ہوتا ہے۔ ماں کا چین، باپ کی نیند، بہن بھائیوں کی خوشیاں سب چھن جاتی ہیں۔ خاندان بدنامی کے خوف سے اپنے زخم چھپاتا رہتا ہے مگر سچ یہی ہے کہ چھپانے سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا بلکہ جڑ پکڑتا ہے۔ اس لیے منشیات کے خلاف آواز اٹھانا کمزوری نہیں بلکہ بہادری ہے۔اسلام کی نظر میں نشہ صرف نقصان دہ نہیں بلکہ مطلق حرام ہے۔ قرآن کریم میں نشے کو شیطانی عمل قرار دے کر اس سے مکمل اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ رسول اکرم ؐ کا فرمان ہے کہ ہر وہ چیز جو نشہ دے وہ حرام ہے۔ اسلام نہ صرف نشہ کرنے والے کو روکتا ہے بلکہ نشہ بیچنے، پھیلانے اور سپلائی کرنے والوں کو انسانیت کا قاتل قرار دیتا ہے۔ یہ حکم صرف مذہبی نہیں بلکہ اخلاقی، سماجی اور انسانی بنیادوں پر بھی لازم ہے کیونکہ نشہ ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو برباد کرتا ہے۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ منشیات صرف جسم کو نہیں جلاتی بلکہ انسان کی سوچ، غیرت، مقصد اور پہچان کو بھی راکھ بنا دیتی ہے۔ نشہ وقتی سکون کا فریب دیتا ہے مگر مستقل غلامی کا معاہدہ لکھوا لیتا ہے۔ جو نوجوان کل اپنے ماں باپ کی امید تھے وہ آج اپنی ذات کے قیدی بن جاتے ہیں۔ ان کی آنکھوں سے خواب چھن جاتے ہیں، ہاتھوں سے محنت اور دل سے یقین۔ یہ وہ خاموش موت ہے جس پر جنازے نہیں اٹھتے مگر زندہ انسان دفن ہو جاتے ہیں۔یہ مسئلہ محض سماجی نہیں بلکہ تہذیبی اور فکری بحران بن چکا ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور شعور سے کاٹ کر بے مقصدیت کے اندھیرے میں دھکیلا جا رہا ہے۔ دشمن کو بندوق سے زیادہ خطرہ باشعور نوجوان سے ہوتا ہے، اس لیے نوجوان کو نشے میں مبتلا کرنا دراصل اس کی سوچ کو مفلوج کرنا ہے۔ جو نوجوان سوال نہ کرے، جدوجہد نہ کرے اور صرف اپنے نشے کا انتظام کرے، وہ قوم کے لیے زندہ لاش کے مترادف ہوتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ نوجوان نشے کی طرف کیوں مائل ہو رہے ہیں؟ اس کی جڑیں صرف برے دوستوں تک محدود نہیں بلکہ گھروں کے ماحول، والدین کی مصروفیت، موبائل اور انٹرنیٹ کی بے لگامی، مقصدِ زندگی سے دوری، بے روزگاری اور ذہنی دباؤ میں پیوست ہیں۔ جب نوجوان کو سننے والا کوئی نہ ہو اور سمجھنے والا کوئی نہ ہو تو وہ اپنے دکھ کو نشے میں گھول کر پینے لگتا ہے۔ یہ سماج کی ناکامی ہے کہ اس نے نوجوان کے ہاتھ میں کتاب دینے کے بجائے زہر پکڑا دیا۔
مدارس، اسکول اور کالج اگر صرف ڈگریاں دیں گے اور کردار نہیں دیں گے تو ہم تعلیم یافتہ مگر کھوکھلی نسل پیدا کریں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی ادارے نصاب کے ساتھ ساتھ زندگی کا شعور دیں، مقصد دیں اور نوجوان کو یہ احساس دلائیں کہ وہ بیکار نہیں بلکہ قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اساتذہ محض مضمون کے استاد نہ ہوں بلکہ درد مند مربی بنیں جو طالب علم کے بدلتے رویے کو پہچان سکیں اور وقت پر ہاتھ تھام لیں۔والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ آج کا والد اپنے بچے کو موبائل دیتا ہے مگر وقت نہیں دیتا، پیسے دیتا ہے مگر قربت نہیں دیتا۔ جب اولاد سوال کرے اور والدین کے پاس جواب نہ ہو، جب بچہ درد بتائے اور والدین ڈانٹ دیں تو وہ کسی اور دروازے پر دستک دیتا ہے اور اکثر وہ دروازہ تباہی کا ہوتا ہے۔ ماں باپ کو سمجھنا ہوگا کہ سختی نہیں بلکہ توجہ بچاتی ہے، نگرانی نہیں بلکہ محبت بچاتی ہے اور خاموشی نہیں بلکہ گفتگو اولاد کو نشے سے دور رکھتی ہے۔
مساجد کا کردار بھی محض عبادت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا مرکز بننا چاہیے۔ خطبات میں نوجوانوں کے مسائل، ذہنی دباؤ، نشے کی تباہ کاریوں اور امید کے راستوں پر گفتگو ہونی چاہیے۔ مسجد کو صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ تربیت گاہ بنایا جائے جہاں نوجوان کو عزت، مقصد اور سمت ملے۔
میڈیا پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ نشے کے عادی نوجوان کو تماشہ نہ بنایا جائے بلکہ اس کے دکھ کو سمجھا جائے۔ فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا پر نشے کو فیشن یا بہادری بنا کر پیش کرنا دراصل نسل کشی کے مترادف ہے۔ ہمیں ایسے پروگرام اور تحریریں درکار ہیں جو نوجوان کو زندگی سے محبت کرنا سکھائیں اور نشے سے نجات کا راستہ دکھائیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو صرف گرفتاریاں دکھا کر کامیابی کا اعلان نہیں کرنا چاہیے بلکہ اصل کامیابی سپلائی چین کے خاتمے میں ہے۔ وہ ہاتھ جو منشیات بیچتے ہیں، وہ ذہن جو نوجوانوں کو زہر کی طرف دھکیلتے ہیں اور وہ نیٹ ورک جو اس دھندے سے دولت کماتے ہیں قوم کے دشمن ہیں۔ اگر نشہ کرنے والا بیمار ہے تو نشہ بیچنے والا قاتل ہے اور قاتل کو قانون کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔نشے سے نکلنے والے نوجوانوں کے لیے بحالی مراکز کو مضبوط کیا جائے جہاں انہیں سزا نہیں بلکہ شفا ملے، جہاں نفسیاتی علاج، دینی تربیت، ہنر سکھانے کے مواقع اور معاشرے میں باعزت واپسی کا راستہ دیا جائے۔ کیونکہ جو نوجوان ایک بار لوٹ آئے وہ درجنوں کو بچا سکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ نشہ صرف فرد کو نہیں توڑتا بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جب نوجوان اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنے لگے تو محنت کا کلچر ختم ہو جاتا ہے، جب ہاتھ کام کے بجائے نشے کی طرف اٹھیں تو قوم کا معاشی پہیہ رکنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کے خلاف جدوجہد دراصل قوم کی بقا کی جدوجہد ہے۔
نوجوانی خواہشات اور فیصلوں کا دور ہوتی ہے۔ اگر اسی مرحلے پر غلط راستہ اختیار کیا جائے تو پوری زندگی اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو صرف یہ نہ بتایا جائے کہ نشہ حرام ہے بلکہ یہ بھی سمجھایا جائے کہ نشہ کیوں تباہ کن ہے۔ انہیں علم، ہنر، کھیل، مطالعہ، خدمتِ خلق اور دینی شعور کے راستے دکھائے جائیں تاکہ ان کے اندر کا خلا مثبت سرگرمیوں سے بھر جائے۔
خواتین خصوصاً ماؤں کا کردار اس جدوجہد میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماں کی آنکھ وہ پہلا آئینہ ہے جو اولاد کے بدلتے رویے کو پہچان سکتی ہے۔ اگر بیٹا تنہائی پسند ہو جائے، غصہ بڑھ جائے، نماز اور پڑھائی سے دور ہو جائے، جھوٹ بولنے لگے یا غیر ضروری پیسوں کی فرمائش کرے تو یہ سب خطرے کی گھنٹیاں ہیں۔ ایسی صورت میں خاموش رہنا محبت نہیں بلکہ غفلت ہے۔محلے کے بزرگوں اور سماجی کارکنوں کو بھی تماشائی نہیں بلکہ محافظ بننا ہوگا۔ اگر کسی نوجوان میں کمزوری نظر آئے تو اس کا مذاق نہ اڑایا جائے بلکہ اس کا ہاتھ تھاما جائے۔ کیونکہ طعنہ نشہ بڑھاتا ہے اور محبت نشہ توڑتی ہے۔یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا ہے۔ یہ وقت نفرت کا نہیں بلکہ اصلاح کا ہے۔ یہ وقت مایوسی کا نہیں بلکہ امید جگانے کا ہے۔ اگر ایک نوجوان بھی نشے سے بچ گیا تو سمجھو ایک خاندان، ایک نسل اور ایک مستقبل بچ گیا۔
آخر میں یہی دعا ہے:اے اللہ! کشمیر کے نوجوانوں کے دلوں میں نور، ایمان، استقامت اور ہمت عطا فرما۔ انہیں برائی کے ہر راستے سے بچا اور خیر کے راستوں پر ثابت قدم رکھ۔ ہر گھر کی پریشانی دور فرما، ہر ماں کی دعا قبول کر اور ہر باپ کی تکلیف آسان فرما۔ کشمیر کی سرزمین کو منشیات اور برائی کے ہر فتنے سے ہمیشہ کے لیے پاک فرما۔آمین
رابطہ۔ 9797888975
[email protected]
�������������������