ایک المیہ
ماجد مجید
23 اپریل حسب روایات ہر سال کتاب کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ کانفرنسیں ،سیمینار ،کتابی میلے ،تعلیمی و ثقافتی ادارے حرکت میں آکر بڑے بڑے معزز ہستیوں کی موجودگی میں چند نئی کتابوں کی رسم رونمائی میں تخلیق کار کو تعریف میں آسمان تک چڑھا کر دو بول بول کر قاری کو کتاب کے قریب تر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ استقبالیہ کے لئےاسٹیج سجائےجاتے ہیں اور صنف نازک کے استقبالیہ ترانہ گانے سے سامعین کو محظوظ کردیا جاتا ہے ،استقبالیہ خطاب میں کتاب کی اہمیت اور افادیت بیان کرکے معزز ہستیوں کو اسٹیج پر بلایا جاتا ہے اورصنف نازک کو سامنے بٹھا کر ان کی عکس بندی سے محفل کی رونق بڑھائی جاتی ہے ۔ پھر دوچار لفظوں میں کتاب کی اہمیت اور تخلیق کار کےگن گائے جاتے ہیں، تخلیق کی رسم رونمائی پر تالیوں کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔ چند مباحثے اور مذاکرے میں کتب بینی کے ہر پہلو کو اُجاگر کیا جاتا ہے، مفکروں اور دانشوروں کے حالات زندگیوں پر چند خامہ فرسائیاں بھی گوش و گزار کرکے دن گزر جاتا ہے اور اس طرح 23 اپریل کا دن بحث و مباحث میں مشغول رہ کر کتاب کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے ۔
یہ بات صحیح ہے کہ کتاب انسان کو نہ صرف علم عطا کرتی ہے بلکہ انسانی نفس کو محاسبہ کی راہوں کی طرف گامزن بھی کرتی ہے۔ تحقیق و تنقید استدلال اور تخلیقی سوچ کو فروغ دیتی ہے کتاب انسان کو سطحیت تعصب انتشار سے نکال کر فکری استحکام کی طرف لے جاتی ہے ۔
یہ ایک المیہ ہے کہ نئی نسل میں کتب بینی کا رحجان بتدریج کم ہوتا جارہا ہے، نفسیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مطالعہ بچوں کی ذہنی صلاحیت کے لئے ناگزیر ہے ۔کتابیں نہ صرف ذہنی دباؤ، بے چینی اور احساس تنہائی سے بچاتی ہیں بلکہ تخیل کو وسعت اور جذبات کو توازن عطا کرتی اور شخصیت کو نکھرتی ہے ۔کتاب سے دوستی کا مطلب ایک روشن مستقبل سے دوستی ہے جو شعور تہذیب اور انسان دوستی کی بنیادوں پر استوار ہو اسی لئے قوموں کی زندگی میں کتاب کا چراغ جلتا رہے تو زوال کی تاریکی کبھی مستقل نہیں ہوسکتی۔
مطالعے سےپہلو تہی اختیار کرنا دراصل ماضی کی جڑوں سے محروم ہونے کے برابر ہے۔ کتاب محض دل بہلانے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی بہترین دوست ،خاموش رفیق اور علم و آگہی کا ایسا خزانہ ہے کہ جتنا بھی لٹایا جائے بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ۔کتاب صرف معلومات ہی نہیں بلکہ سوچنے کا سلیقہ سوال اٹھانے کی جرأت اور سچ تک پہنچنے کی لگن عطا کرتی ہے ۔
کتاب اور انسان کا رشتہ صدیوں پر محیط ہے کہ انسان کےعلم و ہنر کو جلا بخشی ذہنی استعداد کو وسعت دی اور خود آگاہی کے نور سے روشن کیا ۔کتاب نے انسان کو اپنے گرد و پیش کے حالات و واقعات کو سمجھنے کا شعور عطا کیا ۔الغرض یہ کہ کتاب سے دوستی کا مطلب شعور کی نئی منزلیں فکر کے نئے زاوئے اور بصیرت کے تازہ دریچوں سے آگاہی اور آشنائی حاصل کرنا ہے، اچھی کتابوں کا مجموعہ ہی دور جدید کی سچی یونیورسٹی ہے جو نوجوانی میں مطالعہ سے گریز کرتا ہے، وہ ماضی سے بے خبر اور مستقبل کے لئے مردہ ہے ۔ جس گھر میں اچھی کتابیں نہیں ہے وہ گھر حقیقتاً گھر کہلانے کا مستحق نہیں بلکہ وہ زندہ مردوں کا قبرستان ہے۔ اچھی کتابوں کا مطالعہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کا ذریعہ ہے۔
(ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی)