سوال:- حجراسود کو بوسہ دینے میں بوڑھے اور ضعیف لوگوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ بوسہ دینا ضروری ہے ۔ اگر بھیڑ کے خطرے کی وجہ سے کوئی بوسہ نہ دے سکے تو اس کے لئے شریعت کا حکم کیاہے ، کیا عورت کو مردوں کے بیچ میں جاکر بوسہ دینے کی اجازت ہے ؟
ایک مسلمان خاتون…سرینگر
حجراسود کو بوسہ دینا: ضعیف لوگ کیا کریں؟
جواب:-حجراسود کو بوسہ دینااستیلام کہلاتاہے ۔ یہ سنت ہے ۔ بلا کسی عذرکے اس کو چھوڑنا ترکِ سنت قرار پائے گا۔ اگر کسی نے یہ استیلام نہ کیا تو بھی اس کا حج اور عمرہ دونوں درست ہیں ، ایسی بھیڑ میں کہ جس میں عورت کا جسم اجنبی مردوں سے ٹکراجائے ، استیلام کے لئے جانا ہی جائزنہیں ہے اور اگر کوئی معمر ہو اور حجر اسود کے قرب بھی جانے کی ہمت نہ کرے یا وہاں لگنے والے دھکے سے گرنے یا چوٹ لگنے کا خطرہ ہو ۔اس لئے اس نے حجر اسود کا استیلام نہ کیا تو بھی حج درست ہے اور کوئی گناہ نہ ہوگا۔
یاد رہے کہ حجر اسود کے مقابل ہوکر دور سے اگر دونوں ہتھیلیاں حجر اسودکی طرف کرنے کے بعد ان ہتھیلیوں کو ہی چوم لیا جائے تو حجر اسود کا استیلام قرار پائے گا ۔ اسلئے مایوس ہونے کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:-اگر کسی کے گھر میں جوان بیٹیاں ہوں ۔ اُن کی شادیوں کا مسئلہ ہو اور آپ جانتے ہیں کہ آج کل شادیوں پر کتنا روپیہ خرچ ہوتا ہے۔
اب اگر کوئی شخص اپنے موجود سرمایہ کو حج پر لگائے تو اِن بیٹیوں کی شادیاں کرنامشکل ہو جائے گا اور اگر شادیوں کے لئے سرمایہ بچائے توحج نہیں کرپاتا۔ بہت سے لوگوں کا مسئلہ یہی ہے ، ایسی حالت میں شریعت کا کیا حکم ہے ۔
سیف الدین ……سرینگر
غیر شادی شدہ بیٹیوں کی موجودگی میں حج
جواب:-شادیوں پر آنے والے طویل اور کمر توڑ خرچے صرف غیر شرعی ، جاہلانہ رسمیں ہیں ۔ جب یہ رسمیں شرعی طور پر قابل ترک ہیں تو ان رسموں کو پورا کرنے کے لئے شریعت کا مال خرچ کرنے کا جواز کیسے ہوسکتاہے ۔ اسلئے وہ مسلمان جس کے پاس اتنا سرمایہ ہے کہ وہ حج کرسکتاہے ، اس پر شرعاً لازم ہے کہ وہ حج کرے اور اگر وہ یہ سرمایہ بچائے اور حج کے بجائے ان غیر شرعی رسوم پر خرچ کرے تو یہ ترک فرض کا جرم ہوگا ، غیر شرعی رسوم کی پاسداری کا جرم بھی ہوگا اور مال کو ادائیگی فریضہ کے بجائے رواج کو فروغ دینے پر صرف کرنے کا جرم بھی ہوگا ۔
درحقیقت رسموں کا مقابلہ کرنے کے لئے مضبوط ارادے ، ذہنی آمادگی اور بیجا تنقیدوں کے مقابلے میں مضبوط چٹان بننے کا عزم ہو اور جب ان غیر شرعی رسموں کی فضول خرچیوں کے بھیانک نقصانات کا ادراک
ہو تو پھر اس سے اجتناب مشکل نہیں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال- ایک شخص کو حج کرنے کی مالی طور استطاعت اس وقت ہوئی جب اس کی عمر 90سال کے قریب ہوئی ہے ۔ کمزوری کے علاوہ کئی مشکل بیماریوں میں مبتلا ہے ۔ کمراورگھٹنوں میں کافی تکلیف کی وجہ سے چلنے پھرنے اوراُٹھنے بیٹھنے سے معذورہے۔پیشاب کی تکلیف ہے ۔ وہ حج بدل کراناچاہتاہے ۔ اس کا ایک بیٹا سعودی عرب میں کام کرتاہے۔ کیا وہ باپ کے بدلے حج کرسکتاہے ؟ بیٹا آسودہ حال ہے مگر علیحدہ رہتاہے ۔ کیا وہ خود خرچ کرسکتاہے یا باپ کے روپے سے ہی حج بدل کراناواجب ہے یا یہاں سے ہی بیٹے یا کسی رشتہ دار کو بھیجنا لازمی ہے اور اگر ان میں سے کوئی جانے کے لئے تیار نہ ہو تو کیا کسی اور واقف کار مسلمان سے حج بدل کراسکتاہے ۔ اگر ان تینوں صورتوں میں حج بدل کرانا ممکن نہ ہو تو کیا ایسا شخص حج کرانے کے لئے جتنا خرچ درکار ہو اتنی رقم ایسے علیل مفلس، لاچار ،بیمار کو جس کو دل ، گردے یا کوئی نازک نوعیت کا آپریشن کرانے کی ضرورت ہو، دے سکتاہے ۔ کیا ایسا کرنے سے حج کا فرض پورا ہوگا ؟ براہ کرم پوری رہبری سے نوازیں ۔
حج بدل…چند وضاحتیں
ایک طالب حج …
جواب:-فریضہ حج کی ادائیگی ہراُس مسلمان پر لازم ہے جس کو اللہ نے مالی وسعت بھی دی ہو اور وہ سفر کے بھی قابل ہو ۔ اب اگر کوئی سفر کرنے کے قابل نہیں تو وہ حج بدل کراسکتاہے ۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خاتون نے سوال کیا کہ میرے والد پر حج فرض ہوچکاہے مگر وہ سواری پر بھی بیٹھنے کی قوت بھی نہیں رکھتا ،کیا میں اس کی طرف سے حج اداکرسکتی ہوں ؟ تو حضرت سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے باپ پر کسی کا قرضہ ہو تو تم اُس کی طرف سے قرضہ اداکرو تو کیا وہ قرضہ ادا ہوجائے گا۔ اُس خاتون نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ اس پر ارشاد گرامی ہوا کہ اسی طرح حج بھی اللہ کا قرض ہے ،یہ بھی ادا ہوگا۔ یہ حدیث بخاری ، مسلم وغیرہ اکثر حدیث کی کتابوں میں ہے ۔لہٰذااپنی طرف سے کسی شخص کو حج بدل کی نیت سے بھیجنا دُرست ہے اور اس جیسی اور کئی احادیث سے حج بدل کا ثبوت ملتاہے ۔
یہ رقم اگرکسی غریب مفلس پر خرچ کی جائے تو اس سے حج کا فرض ہرگز معاف نہ ہوگا۔ غرباء ومساکین کا مالی تعاون الگ عمل ہے اور حج بالکل الگ ہے ، اس لئے جس شخص نے اپنا حج کیا ہو اس کو حج بدل کے لئے بھیج دیا جائے اور جتنا حج کا ضروری اور لازمی خرچہ ہو وہ اس کو دے دیا جائے تو ضرور اس طرح حج بد ل ادا ہو جائے گا ۔
مزید تفصیل کے لئے دیکھئے مسائل حج وعمرہ از مولانا رفعت قاسمی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱-کیا مسجد شریف میں مطالعۂ قرآن کے دوران موبائل فون پر بات چیت کرنا جائز ہے؟
سوال:۲- حج پرجاتے ہوئے سگریٹ پیٹنا جائز ہے ؟
سوال:۳- حج پر روانہ ہوتے وقت قریبی ہمسایوں سے رُخصت نہ لیا اور ان سے بوقتِ روانگی ،جب وہ بھی الوداع کرنے آئے ہوں ، بات نہ کرنا جائز ہے ؟
ایک سائل
مسجد شریف میں غیر ضروری
اور تفریحی گفتگو کرنا مکروہ
جواب:۱-مسجد میں دنیوی باتیں کرنا ممنوع ہے لیکن وہ مختصر بات چیت جس میں صرف ہاں اور ناں کی حد تک بات کرنی پڑے اُس کی اجازت ہے ۔ اسی طرح ضرورت کی وہ بات جس کی سخت مجبوری ہواُس کی بھی اجازت ہے ۔
اب اگر کوئی شخص مسجد میں قرآن کریم کی تلاوت یا مطالعہ میں مشغول ہے تو ضرورت اور مجبوری کی بات چیت وہ فون پربھی کرسکتاہے لیکن غیر ضروری اور بے فائدہ یاتفریحی گفتگو کرتے رہنا یقیناً مسجد میں مکروہ ہے ۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید وفروخت ، شعرخوانی سے بھی منع فرمایا ہے ۔(ترمذی)
ایام حج میں سگریٹ نوشی
جواب:۲-سگریٹ سخت مضر ، نقصان دہ اور طرح طرح کی خرابیوں کا مجموعہ ہے ۔یہ صحت ، مال اور ماحول تینوں کو سخت نقصان پہنچانے والی چیز ہے ۔اس لئے اس سے بچنا ہی ضروری ہے ۔
تاہم حج کے دوران ،سفر حج میں یا حرمین کے قیام کے دوران حتیٰ کہ احرام کے دوران بھی سگریٹ نوشی کی جائے تو حج پر اس کا کوئی اثر نہ ہوگا ۔لیکن جو اُس کے عمومی مفاسد ہیں وہ دورانِ حج زیادہ ہی اثر انداز ہوں گے ۔
حج کے لئے روانگی کے وقت
احباب واقارب سے ملنا مستحسن عمل
جواب:۳-حج کے لئے جو روانگی کے وقت اپنے اقارب واحباب سے معافی تلافی ، رُخصت والوداع اور دعا کرنے اور دعائیں لینے کا پسندیدہ ومستحسن روّیہ ہمارے مسلمان معاشرے کا ایک قابل قدر طرزِ عمل ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے پڑوسیوں ، اقارب واحباب سے ملاقات کئے بغیر سفر حج کو روانہ ہو جائے اور وہ اس کو بے رُخی سمجھیں اور ا ن سے اُن کی دل شکنی ہو تو اس سے بچنے کے لئے ضرور رُخصت لیناچاہئے ۔