عیب دار مال کاعیب بتائے بغیر
فروخت کرنا شرعی طور پر سخت منع
سوال:۱-اگرکوئی شخص تجارت میں فروخت ہونے والے سامان کی خرابی اور کسی عیب کوچھپائے اور خریدار کو یہ جتلا کر فروخت کرے کہ وہ سامان اچھا ہے تو اس کے لئے قرآن وحدیث میں کیا حکم ہے ؟
سوال:۲- کئی تاجر لوگ بہت قسمیں کھاکرمال کانرخ بتاتے ہیں ۔خریدار قیمت میں کمی کرنے کا اصرار کرتاہے تو دوکاندار مزید قسمیں کھاتاہے ۔یہ قسمیں کبھی سچی ہوتی ہیں اور کبھی جھوٹی ۔اس طرح قسمیں کھاکرمال فروخت کرنا بڑی تعداد میں بازاروں اور دوکانوں میںعام ہے ۔
اس بارے میں قرآن وحدیث میں کیا حکم ہے ؟
عبدالرشید …لالچوک
جواب:۱-عیب دار اور خرابی والا سامان عیب بتائے بغیر فروخت کرنا شرعی طور پر سخت منع ہے ۔قرآ ن کریم میں ارشاد ہے ۔ ترجمہ :
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقوں سے مت کھائو ۔عیب دار چیز فروخت کرنا اور ظاہر ہے اُس کی قیمت زیادہ لی جائے گی تو وہ چیز بیچ کر جو زائد قیمت لی گئی وہ باطل طرح سے کھاناہے اور وہ حرام ہے ۔نیز حدیث میں ہے کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ خرابی اور عیب بتائے بغیر کوئی چیز فروخت کرے او رکسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے سامان کا عیب جاننے کے باوجود اُس پر پردہ ڈالے ۔ بخاری ، مستدرک حاکم، ابن ماجہ ۔
ایک حدیث میں ہے ۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا جوشخص عیب دار چیزیں فروخت کرے او ر عیب کو ظاہر نہ کرے وہ اللہ کی ناراضگی اور غضب میں رہتاہے ۔اور ایک حدیث میں ہے کہ ایسا شخص ہروقت فرشتوں کی لعنت میں رہتاہے ۔
جواب:۲-قسمیں کھانے کے متعلق قرآن میں ارشاد ہے ۔ ترجمہ: تم اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ مت بنائو۔یعنی ضرورت بے ضرورت قسمیں مت کھائو اور اس میں غلط قسمیں کھانا بھی شامل ہے۔
حدیث میں ہے حضرت رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تین شخصوں پر نظر رحم نہیں کرتاہے ۔ ان میں سے ایک وہ شخص جو قسمیں کھاکھاکر اپنا مال بیچتاہے ۔ یہ حدیث ترمذی ،ابودائود، نسائی میں ہے۔
دوسری حدیث میں ہے حضرت رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے تاجرو! تم مال بیچنے میں زیادہ قسمیں کھانے سے پرہیز کرو۔نسائی ۔ ایک حدیث میں ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے تاجرو! تجارت میں غیر ضروری اور لغو باتیں کرنی پڑتی ہیں اور قسمیں کھائی جاتی ہیں ۔ اس لئے تم کثرت سے صدقہ کرو ۔یہ حدیث ترمذی وغیرہ میں ہے ۔
اللہ کی ذات کے علاوہ ہرچیز کی قسم کھانا منع ہے ۔ حضرت رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم کھائی اُس نے شرک کیا ۔ اس پر غیر اللہ کی قسم کھانے سے پرہیز کرناضروری ہے اور سخت مجبوری میں جب قسم کھانے کی ضرورت پڑے تو سچی بات پر قسم کھائی جائے اور صرف اللہ کی قسم کھائی جائے اور جھوٹی قسم کھانے سے پرہیز کیا جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:-آج کل سیب کے باغات میں دوائی کا چھڑکائو ہوتا ہے تاکہ سیب گرنے سے بچ جائیں ۔ کیاایسا کرنا شرعاً درست ہے ؟
مبارک احمد بٹ ،شوپیان
فصلوں کی حفاظت کیلئے دواپاشی دُرست مگر رنگ سازی غلط
جواب:-سیب کے باغات میں عموماً تین قسم کی دوائی چھڑکی جاتی ہے ۔ میوے کو طرح طرح کی بیماری سے بچانے کیلئے ۔ دوسرے میوہ کو گرنے سے بچانے کے لئے ۔یہ دونوں قسم کے چھڑکائو درست ہیں اور وجہ بالکل واضح ہے کہ یہ دراصل میوہ کی حفاظت کے لئے کیا جاتا ہے اوردُرست کام ہے ۔ ہر شخص اپنے مال کی حفاظت کرنے کا حق رکھتا ہے۔اسی طرح میوہ کی حفاظت اور مختلف بیماریوں سے بچائو کی تدابیر اختیار کرنا دُرست ہے ۔
تیسری قسم کی دوائی وہ ہے جو میوہ پر مصنوعی رنگ چڑھانے کے لئے چھڑکی جاتی ہے ۔یہ جائز نہیں ہے ۔ اس لئے کہ یہ دھوکا ہے اور ظاہرہے میوہ کی فطری حالت وہ نہیں ہوتی جو رنگ سے ظاہر کیا جارہاہے ۔ یہ رنگ مصنوعی ہے ۔
اور مصنوعی رنگ پیداکرنا درحقیقت زائد قیمت وصول کرنے کے لئے ملمع سازی کا کام ہے ۔ گویا فروخت کرنے والا مصنوعی رنگ سے خریدار کو یہ باور کراتاہے کہ یہ مال بہت عمدہ ہے ۔ حالانکہ وہ اندر سے عمدہ نہیں ہے ۔ خلاصہ یہ رنگ سازی کی دواپاشی دھوکہ ہے اور منع ہے ۔٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱-چست لباس پہننے کا رجحان عام ہورہاہے ، خاص کر زین پینٹ،جس میں بیٹھ کر پیشاب پھیرنا مشکل ہوتاہے تو لوگ کھڑے ہو کر پیشاب پھیرتے ہیں ۔ اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟
سوال:۲-متعدد لوگ پیشاب پھیرتے وقت اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ جس طرف منہ کرکے وہ پیشاب کررہے ہیں کہیں اس طرف قبلہ تو نہیں ؟اس کے بارے میں کیا حکم ہے ۔
فاروق احمد …سرینگر
چست لباس کے بارے میں شرعی حکم
جواب:۱-ایسا تنگ لباس جس میں جسم کا حجم خاص کر ران اور سرین کا پورا نشیب وفراز ظاہر ہو یہ لباس غیر شرعی ہے۔اس غیر شرعی لباس کا ایک خطرناک نقصان یہ ہے کہ جب پیشاب کرنا ہو تو چونکہ سخت چست ہونے کی وجہ سے بیٹھنا مشکل ہوتاہے اس لئے کھڑے ہوکر ہی پیشاب پھیرنا پڑتاہے ۔ اب دیکھئے حدیث میں کیا ہے ۔
بخاری شریف میں حدیث ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوقبروں کے پاس سے گزرے۔ پھر آپ نے ان دونوں قبروالوں کے متعلق فرمایا ان کوعذاب ہورہاہے۔ایک کو اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا ۔
کھڑے ہوکر پیشاب کرنے پر لازماً کپڑوں اور پائوں پر چھینٹیں آتی ہیں اور اس طرح وہ عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے۔
دوسری حدیث جو ترمذی میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے روایت کی کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جناب رسول اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر پیشاب کرتے تھے تو ہرگز یہ بات مت ماننا۔
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے ۔
حضرت علامہ انورشاہ نے فرمایا کھڑے ہو کرپیشاب کرنا کفار کا شعارہے ۔ اس لئے مسلمانوں کے لئے ہرگز یہ جائز نہیں کہ وہ دوسری قوموں کا شعار اختیار کرکے کھڑے ہوکرپیشاب کریں۔
قبلہ رو ہوکرپیشاب پھیرنا حرام
جواب:۲- بخاری ، مسلم ، ترمذی، ابودائود ، نسانی ، ابن ماجہ اور دوسری تقریباً تمام حدیث کی کتابوں میں ہے ۔
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم غائط (پیشاب پاخانہ کی ضرورت پوری کرنے کی جگہ) میں جائو تو نہ تو قبلہ کی طرف منہ کرنا اور نہ اس کی طرف پیٹھ کرنا۔
اس لئے جب گھروں میں یا دفتروں میں پیشاب خانے یا بیت الخلاء بنائے جائیں تو وہ شمالاً جنوباً بنائے جائیں تاکہ قبلہ کی طرف نہ تو منہ ہو جائے نہ پیٹھ ہو۔ اسی طرح جب کوئی کھلی جگہ پر پیشاب کرے تو قبلہ کی طرف نہ استقبال کرے نہ بیٹھ کر کرے۔حدیث کی ممانعت کی وجہ سے یہ حرام ہے اور شعائر اللہ کعبہ کی توہین کی وجہ سے یہ زیادہ خطرناک ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:-کفن کے متعلق یہ بتایا جاتاہے کہ مردوں کے لئے تین اور عورتوں کیلئے پانچ کپڑے ہونے چاہئیں۔ ان تین میں ایک قمیص اور ایک ازار ہوتا ہے۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ قمیص اور ازار سلائی کرکے استعمال کرنا ہے یا اس کے بغیر ہی استعمال کرنا ہے۔ حضرت نبی علیہ السلام کا کفن مبارک سلا ہوا تھا یا بغیر سلا تھا ؟ یہاں کشمیر کے کچھ علاقوں میں کٹائی او رسلائی کرکے ازار بنایا جاتاہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کرنا صحیح ہے یا نہیں ؟
غلام نبی … مسجد وسن کنگن
کفن کی سلائی کرنا غیر مسنون
جواب:-کفن درحقیقت کوئی لباس نہیں جس کو سلائی کرکے مردے کو پہنایا جائے ۔ یہ دراصل تین چادریں ہیں جن کے نام لفافہ ، قمیص اور ازار ہیں ۔اس قمیص اور ازار کے لفظ سے یہ دھوکہ نہیں لگنا چاہئے کہ یہ کوئی سلے ہوئے کرتے یا پاجامہ کا نام ہے ۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چادروں میں کفن دیا گیا تھا اور وہ تینوں سلے ہوئے نہ تھے۔
ان تین چادروں کی تفصیل یہ ہے :
لفافہ یعنی بڑی چادر …
پونے تین گزلمبی ،ڈیڑھ گز چوڑی
چھوٹی چادر قمیص …
ڈھائی گزلمبی سواگز یا ڈیڑھ گز چوڑی
تیسری چادر ازار…
دویا ڈھائی گز لمبی سوا گزیا ڈیڑھ گز چوڑی
دراصل لفظ قمیص اور لفظ ازار سے کچھ لوگوں کو یہ دھوکہ ہوتاہے کہ یہ سلے ہوئے ہوں گے تب ہی قمیص وازار کہلائیں گے ۔حالانکہ ان کپڑوں کے سلے ہوئے یا غیر سلے ہوئے ہونے کا فیصلہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ عمل سے کیا جائے اورپھر آپؐ کے بعد حضرات صحابہؓ اور اس کے بعد پوری اُمت کے اجتماعی طریقہ کار سے کیا جائے ۔
بہرحال کفن بے سلا ہوا ہونا ہی سنت ہے ۔اس لئے کہ سیرت اور احادیث کی کتابوں سے یہی ثابت ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کفن مبارک یمن کے شہر بحون کی تین چادریں تھیں۔ جوسفیددھاری دار تھیں اور بغیر سلی ہوئی تھیں۔ملاحظہ ہو بخاری (کفن کا بیان)۔
حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کفن تین لمبی چادریں تھیں۔ نیزمختصر سیرت رسول، الرحیق المختوم اور سیرت مصطفی از مولانا ادریس کاندھلویؒ۔ نیززادالمعاد از علامہ ابن قیم ؒ وغیرہ میں یہی مرقوم ہے۔٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:-بہت سارے نوجوانوں کی حالت یہ ہے کہ اُنہیں بہت بُرے بُرے خیالات آتے ہیں ۔ میرا حال بھی ایسا ہی ہے۔ یہ خیالات اللہ کی ذات کے بارے میں ،حضرت نبی علیہ السلام کے متعلق ، ازواج مطہراتؓ کے متعلق ،قرآن کے متعلق ہوتے ہیں۔اُن خیالات کوزبان پر لانا بھی مشکل ہے ،اُن خیالات کو دفع کرنے کے جتنی بھی کوشش کرتے ہیں اتنا ہی وہ دل میں ،دماغ میں مسلط ہوتے ہیں ۔اب کیا یا جائے ؟
کامران شوکت …پیر باغ
بُرے خیالات:شیطان وہیں حملہ کرتاہے
جہاں ایمان کی دولت ہو
جواب:-بُرے خیالات آنا دراصل شیطان کا حملہ ہے۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صحابیؒ نے یہی صورتحال عرض کرکے کہاکہ یا رسول اللہ ؐ میرے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں کہ اگر میں اُن کو ظاہر کروں تو آپؐ ہم کو کافر یا منافق قرار دیں گے ۔
اس پر حضرت ؐ نے ارشاد فرمایا کہ واقعتاً تمہارے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں ؟ عرض کیا گیا کہ ہاں ایسے خیالات آتے ہیں۔ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ایمان کی علامت ہے ۔ عرض کیا گیا کیسے ؟تو ارشاد فرمایاچور وہاں ہی آتاہے کہ جہاں مال ہوتاہے ۔ جب ایسابُرے خیال آئیں تو باربار استغفار اور لاحول پڑھنے کا اہتمام کریں اور اپنے آپ کو مطمئن رکھیں کہ یہ آپ کا اپنا خیال ہے ہی نہیں ۔ آپ کاخیال تو وہ ہے جو آپ کی پسند کے مطابق ہو ۔ یہ خیال آپ کو نہ پسند ہے نہ قبول ہے تو اس کا وبال بھی آپ کے سر پر نہیں ہے۔