سوال:۱-شادی کی تقریب میں مختلف مراحل پر عورت کو مہر کے علاوہ جوزیورات دیئے جاتے ہیں ان کے متعلق چند سوالات ہیں۔ کیا یہ زیورات اور تحائف دیناجائز ہے۔ کیا ان کے دیئے بغیر بھی رشتہ نکاح درست ہے ۔
ان تحائف کو یہاں عرفِ عام تھان کہتے ہیں ۔ اس کو تھان کہنے کی وجہ کیاہے…اس کے معنی کیا ہیں ؟
جب یہ تحفے دیئے جاتے ہیں تو ان کا آئندہ مالک کیا وہ شخص ہوتا ہے جس نے یہ تحفے دیئے ہوتے ہیں ۔ یا وہ جس کو یہ تحفے دیئے جاتے ہیں ۔عدالتی اصطلاح میں واہب مالک ہے یا موہوب الیہ۔
سوال:۲-یہاں کشمیر میں ورتائو(گلہ میوٹھ) یا دست بوس کے نام سے جورسم جاری ہے جس میں مختلف اقسام کی اشیاء ،جن میں کچھ بہت قیمتی اور کبھی کچھ کھانے پینے کی چیزیں ہوتی ہیں ۔ اس ورتائو کے متعلق مفصل بحث اور تفصیلی حکم تحریر کرنے کی گذارش ہے۔اس میں یہاں کے علماء ،وکلاء اور محلہ کمیٹیوں کے ذمہ داران بھی کنفیوژن میں رہتے ہیں اور جب اس سلسلے میں فیصلہ کرنے بیٹھتے ہیں تو طرح طرح کے اختلافات سامنے آتے ہیں اور پھر یہ متعین نہیں ہوپاتا کہ اصل شرعی حکم کیا ہے ۔
ریاض احمد بٹ …بانڈی پورہ
تھان کی حقیقت اور اس کی وجۂ تسمیہ
جواب:۱-نکاح کے سلسلے میں شادی سے پہلے یا بعد میںجوتحائف دیئے جاتے ہیں اُن کا لینا اور دینا درست ہے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تحفے دیا کرو اور اس سے آپس میں محبت بڑھے گی لیکن اس کے لئے ایک لازمی شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ حقیقتاًتحفہ اور ہدیہ(Gift)ہی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ ظاہرمیں تو تحفہ ہولیکن اندر سے نیت یہ ہو کہ آئندہ یہ اس کے بدلے میں اس سے زیادہ لانے پر مجبور ہیں۔ اگر نہیں لائیں گے تو تعلقات منقطع یا متاثر ہوں گے اور تحفہ لینے والا بھی یہی سمجھتاہے کہ آئندہ مجھے تعلقات اور قرابت داری بچانے کے لئے اس سے زیادہ دینا ضروری ہے ۔ ایسی صورت میں یہ تحفہ چونکہ حقیقت میں تحفہ ہے ہی نہیں اور بلاشبہ اس کو ہدایا یا بخشش کا نام دینا ہی غلط ہے اس لئے یہ درست نہیں ۔قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ترجمہ(ایسا احسان مت کرو جس میں احسان سے زائد وصول کرنے کی نیت ہو ۔( المدثر) غربت میں ڈوبے قدیم اہل کشمیر دلہن کے لئے مہر مقرر کرکے اُسے باقی رکھتے تھے اور دلہن کو سجانے کے لئے یا تو کپڑے کا ایک چھوٹا تھان بھیج دیتے تھے، جس سے دو تین سوٹ کپڑے دلہن کے لئے تیار ہوتے تھے اور یا ایک چھوٹے تھان کی قیمت دلہن کے گھر بھیج دیتے تھے ،تو نکاح کے وقت لڑکی والے مہر اور تھان کی پیشکش کرتے تھے۔ پھر یہ تھان کبھی واقعتاً تھان ہی ہوتا تھا اور کبھی رقم دی جاتی تھی مگرنکاح کاغذ میں تھان ہی لکھا جاتا تھا۔ آگے چل کر اس میں زیورات بھی شامل ہوگئے اور ہوتے ہوتے تھان کی عوامی وعرفی اصطلاح برقرار رہی مگر اس کا مصداق صرف زیورات اور پائونڈ رہ گئے ۔ یہی نکاح ناموں میں لکھا ہوتاہے ۔
نکاح کے موقعہ پر جو تحفے شوہر یا اُس کے اقارب کی طرف سے دلہن کو اور دلہن یا اُس کے رشتہ داروں کی طرف سے دلہا یااُس کے رشتہ داروں کے دیئے جاتے ہیں وہ چونکہ تحفہ اور ہدیہ ہیں ۔ ان کو حدیث کی اصطلاح میں ہبہ کہتے ہیں اور یہی اصطلاح قانونی دنیا میں بھی ہے ۔ چنانچہ ہدیہ دینے والا واہب اور جس کو ہدیہ دیا گیا اسے موہوب الیہ کہتے ہیں ۔ اس کے لئے شرعی اصول یہ ہے ہدیہ میں دی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتے ۔ چنانچہ حدیث میں ہے ۔ ہدیہ دے کر واپس طلب کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے کُتا قے کرنے کے بعد واپس چاٹنے لگے۔(بخاری کتاب الھبہ)
لہٰذا رشتہ برقرار رہے یا خدانخواستہ ختم ہوجائے ہدیہ دی ہوئی اشیاء چاہے وہ سونا ہو، برتن ہو ، کپڑے ہوں یا فرج یا واشنگ مشین وغیرہ ہو واپس لینا درست نہیں ہے ۔ دینے والا چاہے شوہر ہو یا اُس کے اقارب ہوں اور چاہے زوجہ ہویااس کے اقارب ہو ں، واپس لینے کا مطالبہ کرنا ہی غیر شرعی بھی ہے اور غیر اخلاقی بھی ہے ۔
ــورتائو :ہدیہ، تحفہ یا امانت ؟
جواب:۲- داراصل ورتائو یا گلہ میوٹھ ایک ایسی رسم ہے جس کو شریعت کے کسی دائرے میں لانا ہی مشکل ہے ۔ اسے امانت نہیں کہہ سکتے ۔ اس لئے وہ استعمال کرنے ، خرچ کرنے یا کھانے کے لئے دیا جاتاہے ۔ جب تک امانت کو جوں کا توں واپس کرنا ضروری ہے ۔ اسے ہدیہ یا تحفہ کہنا بھی مشکل ہے ۔ اس لئے کہ اسے مزید اضافہ کے ساتھ واپس کرنا ضروری ہوتاہے اور اسی لئے اسے لکھ کر رکھنا ضروری سمجھا جاتاہے اور ادا نہ کریں یا اضافہ نہ کریں تو ناراضگی لازمی ہے جب کہ ہدیہ میں واپس لینے کی کوئی نیت ہی نہیں ہوتی وہ محبت پانے کے جذبہ سے دیا جاتاہے نہ کہ مادی عوض کی غرض سے تو یہ ہدیہ بھی نہیں ۔
اسے قرضہ کہنا بھی مشکل ہے اس لئے کہ یہ قرض کہہ کر نہ لیا جاتانہ دیا جاتاہے اور واپسی اگرچہ ضروری ہوتی مگر اس کے بدلے میں کوئی برتر چیز یا نسبتاً زیادہ رقم ۔لہٰذا یہ قرض بھی نہیں…اسے صدقہ بھی نہیں کہہ سکتے ۔اس لئے کہ صدقہ میں اجروثواب مقصود ہوتاہے اور واپس لینے کی نہ کوئی نیت ہوتی ہے نہ توقع اور صدقہ غریب سمجھ کر دیاجاتاہے۔جب یہاں ایسا بھی نہیں ہے ۔کیونکہ یہاں رشتہ داری کی وجہ سے دیا جاتا ہے نہ کہ غربت کی وجہ سے ۔
اس صورتحال میں سب سے افضل یہ ہے کہ ورتائو کا یہ سلسلہ ختم کردیا جائے اور ہدیہ دینے کا سلسلہ شروع کیا جائے اور وہ یہ کہ اپنے اقارب احباب کو کسی بھی خوشی کے موقعہ پر اپنی وسعت کے بقدر کچھ بھی بطور ہدیہ دیں اور نہ تو اپنے ذہن میں رکھیں کہ یہ واپس نہیں ملیں گے اور نہ ہی بہی کھاتہ بنا کر رکھیں ۔ پھر وہ چاہیں تو کسی موقعہ پر ہدیہ دیں یا نہ دیں اور کم دیں یا زیادہ پہلے شخص کو نہ کوئی گلہ ہونہ شکوہ ۔ بس صرف یہ ایک شکل درست ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱-ہماری وادی میں یہ رسم عام ہے کہ دلہا یا دلہن کو دعا کرنے کی تلقین کی جاتی ہے جبکہ بعض اوقات وہ نماز کے پابند بھی نہیں ہوتے ، عام لوگوں کا ماننا ہے کہ اس وقت ان کی مانگی ہوئی ہر دعاپوری ہوتی ہے ۔
سوال:۲-کئی علاقوں میں یہ رسم ہے کہ دلہایا دلہن کو نہلانے(غسل)کرنے کے لئے کسی نالے یا چشمہ سے نئے برتن میں پانی لایا جاتاہے ؟
سوال:۳- کچھ گھرانوں میں یہ رسم بھی عام ہے کہ لڑکے لڑکی کی شادی دوعیدین یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحی کے درمیان کرنا ناجائز سمجھا جاتاہے ۔
سوال:۴-کچھ لوگ اسلامی کلینڈر کے حساب سے چھ تاریخیں یعنی 28،18،8،23،13،3 کو منحوس سمجھتے ہیں اور اکثر وبیشتر شادی بیاہ کی تاریخ مقرر کرتے وقت مذکورہ تاریخوں کا دھیان رکھاجاتاہے ۔
سوال نمبر :۵- جسم پر چوٹ لگ جائے تو زخم پر مرہم کے طور پرپٹی (Plastic Bandage) لگائی جاتی ہے ۔ اب دوبارہ وضو یا غسل کی حاجت آن پڑی تو یہ پٹی ہٹائے بغیر وضویا غسل ہوجائے گا جبکہ پٹی ہٹانے سے خون بہنے کا احتمال رہتاہے ۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں ان مسائل کا حل فرمائیں ۔
الیاس احمد عباسی …کشمیر
صالح اور متقی دلہادلہن سے دعاء کرانا درست
جواب:۱- دلہا اور دلہن اگر نیک ، صالح ، پاکباز ، صوم وصلوٰۃ کے پابند ہوں تو اُن سے دعا کی درخواست کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور یہ دعا کی درخواست دلہا دلہن بننے سے پہلے بھی درست ہے ۔ اُس کے بعد بھی ،لیکن اگر وہ صالح نہ ہوں ، صوم وصلوٰۃ کے پابند نہ ہوں،متقی وپرہیزگار نہ ہوں تو صرف دولہا یا دلہن بننا کوئی ایسا شرف نہیں کہ وہ مستجاب الدعوات بن جائیں اور ان سے دعائوں کی التماس کی جائے ،ایسی صورت میں ان سے دعائیں کرانا صرف ایک توہماتی رسم ہے ۔
نکاح کے وقت غسل مسنون نہیں
جواب :۲-دلہا اور دلہن کونہلانے کے لئے کسی خاص چشمہ یا خاص برتن کا اہتمام صرف ایک علاقائی غیر شرعی رسم ہے ، نکاح ورخصتی کے لئے غسل کرنا سرے سے کوئی مسنون غسل ہے ہی نہیں ۔پھر چشمہ کا پانی ہونا ضروری کیسے ہوسکتاہے ۔ نیز جن علاقوں میں سرے سے کوئی چشمہ ہی نہ ہواُن علاقوں کے لئے یہ رسمی پابندی کس درجہ کلفت کا سبب ہوگی ۔دراصل یہ صرف کچھ محدود علاقوں بلکہ دیہاتوں میں توہماتی رواج ہے ۔ اس لئے یہ لازم نہیں ہے بلکہ اس طرح کے غلط رواج کو ختم کرنا ضروری ہے ۔
عیدین کے درمیان نکاح ورخصتی درست
جواب:۳- دوعیدوں کے درمیان نکاح بھی درست ہے اور رخصتی بھی درست ہے ۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مبارک نکاح جو حضرت عائشہؓ کے ساتھ ہوا تھا ، وہ نکاح بھی شوال یعنی دوعیدوں کے درمیان ہوا تھا اور رخصتی بھی دوعیدوں کے درمیان ہی ہوئی تھی ۔ اس لئے اس باطل تصور کو سختی سے ردّ بھی کرنا ضروری ہے اور سماج میں اس کی بار بار یاددہانی کرانا بھی ضروری ہے تاکہ یہ باطل خیال مٹ جائے۔
کسی مخصوص تاریخ کو منحوس سمجھنا مُشرکانہ
جواب:۴- حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام میں طیرہ کی کوئی جگہ نہیں ۔(بخاری ومسلم)طیرہ کے معنی کسی تاریخ ،یا دن ،یا جگہ ،یا چیز کو منحوس سمجھنا ۔جب صحیح حدیث رسولؐ میں سے اس کی نفی ثابت ہے تو اس کے بعد کسی تاریخ کو منحوس سمجھنا سرار غیر شرعی ہے ۔ لہٰذا ۳، ۱۳،۲۳… یا ۸،۱۸،۲۸ کو منحوس سمجھنے اور پھر ان تاریخوں میں کسی کام مثلاً نکاح ، رخصتی یا آپریشن یا کسی خریداری سے اجتناب کرنا یہ سراسر مشرکانہ تصور ہے ۔
مرہم کی پٹی پر مسح کرنا ضروری
جواب:۵- جب کسی زخم یا پھوڑے پر مرہم کی پٹی لگائی جائے تو اب وضو وغسل میں اس پٹی کے اوپر صرف مسح کرنا کافی ہے اور صرف اس مسح کرنے سے شرعی وضو بھی مکمل ہوجائے گا اور غسل بھی درست ہوگا ۔ ہر وضو اور غسل میں اس پٹی کا کھولانا لازم نہیں ہے ۔ ہاں جب زخم ٹھیک ہوجائے تو پھر بلا ضرورت پٹی رکھنا جائز نہیں ہے ۔