دینی فکر کے فروغ میں سوشل میڈیا کا استعمال
بنیادی اصول وضوابطہ پر نظر رکھنا لازمی
جناب محترم!سوشل میڈیا (Social media)ا س وقت انفارمیشن ٹرانسفر کرنے کاایک اہم اور مؤثر ترین ذریعہ ہے،اگر اس کا استعمال صحیح مقصد کیلئےہو تو یہ مفید ترین ذریعہ ہوگا،اور اگر اس کا استعمال غلط مقاصد کیلئے ہو تو اس کے ذریعہ پھیلنے والی تباہی فکری واخلاقی،عملی او رسماجی طور پر کیا ہوگی،وہ ہم سب کے سامنے ہے۔آج اس کا استعمال مذہب،تجارت،تفریحات،تعلیم،اور طب وغیرہ کے مختلف میدانوں پر بڑے پیمانے پر روزافزوں ہے،حتیٰ کہ دعا،تعویذاور جھاڑپھونک میں بھی اس کا استعمال ہورہا ہے،اب ذیل میں کچھ سوالات پیش خدمت ہیں ۔
سلیم الظفر،سرینگر
سوال۔1؛سوشل میڈیا پر دینی معلومات اور شرعی مسائل کے متعلق بہت ساری معلومات آتی ہیں ،ان معلومات پر اعتماد کرنے کیلئے کیا اصول ہیں،ان معلومات کوآگے شیئر کیا جاسکتا ہے۔؟
سوال۔2؛کیا کسی کی کال(call)کواس کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر اس کی بات چیت کو اپ لوڈ کرنا شریعت میں جائز ہے؟
سوال۔3؛سوشل میڈیاپر ملحدانہ افکار،مخرق اخلاق مواد بھی آتا رہتا ہے،اس میں اسلام اور شعائر اسلام کی آیات بھی ہوتی ہے،ایسے مضامین کو پڑھنے اور دوسرے تک پہونچانے کے متعلق ضابطہ کیا ہے؟
سوال4؛سوشل میڈیا بہت ساری اچھی اور مفید معلومات،عالمی مقالات،جغرافیائی وتاریخی تحقیقات وغیرہ بہت کچھ اس کے ذریعہ ٹرانسفر ہوتا ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ برائیوں کے پھیلاؤ میں بھی اس کا کردار ہم سب کے سامنے ہے،کیا اس صورت حال میںاسلام کی اشاعت،دینی معلومات،اخلاقی تعلیمات کے لیے اس کو بطور ذریعہ استعمال کیا جاسکتا ہے؟
سوال۔5؛مجموعی طور پر سوشل میڈیا کے استعمال میںکن باتوں کو ملحوظ رکھنااور کن باتوں سے اجتناب ضروری ہے،؟ فقط والسلام ،
غیر مستنداداروں سے فراہم کردہ معلومات سے اجتناب لازم
یہ تمام سوالات نہایت اہم ہیں اور ان کے جوابات آج کی اہم ضرورت ہے،اختصار کے ساتھ جوابات درج ذیل ہیں۔
جواب۔1؛سوشل میڈیا پر دین سے متعلق جو بھی معلومات آتی ہیں اُن سے مستفید ہونے کے لیے پہلی اور لازمی شرط یہ ہے کہ اُس شخص یا فورم کا مستندauthentic) )ہونالازم ہے جس کی طرف سے وہ دینی معلومات یا شرعی مسائل سامنے آرہے ہیں،اگر غیرمعلوم،غیر مستند فرد یا ادارے کی طرف سے یہ معلومات سامنے آرہی ہوں تو عام مسلمانوں،بلکہ تعلیم یافتہ اور عام علماء،اماموں اور خطیبوں کوبھی اس سے استفادہ کرنا درست نہیں ہے،اس لئے کہ اہل باطل کی طرف سے بھی اور راہِ حق سے منحرف مسلمانوں کی طرف سے بھی اور نامعلوم افراد کی طرف سےاسلام کے نام پر بہت سارامواد سامنے آتا ہے،مگر وہ درست نہیں ہوتا۔۔ہاں صرف وہ ماہر علماء جو حق وباطل کے باریک فرق کو اپنی بصیرت اور دقت نظر سے پہچان سکتے ہیں،وہ ہر قسم کے مواد کو تنقیدی نقطۂ نظر سے پڑھ سکتے ہیں تاکہ وہ بوقت ضرورت امت کو ا س مواد کی گمراہی سے باخبر کرسکیں ۔
اجازت کے بغیر ریکارڈنگ کرنا خیانت
جواب۔2؛کسی بھی شخص سے جب دینی بات کی جائے توا س کی گفتگو اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرناخیانت اور اس کی اجازت کے بغیر وہ گفتگو انٹرنیٹ پر ڈالنا دوسری خیانت ہے،یہ اس حدیث مبارک کی خلاف ورزی ہے جس میں فرمایاگیا ہے کہ مجالس کی گفتگو امانت ہے(سنن ابی داؤد عن ىجابر(،اگر کسی شخص نے کسی کی گفتگو اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرلی ہو اور پھر اس لئے اپنے پاس محفوظ رکھی تاکہ کبھی اسے اِس شخص کے خلاف استعمال کیا جائے تو یہ بھی ناجائز ہے۔ ہاں صرف وہ گفتگو محفوظ کرنے کی اجازت ہے جو اس ریکارڈ کرنے والے کے کسی حق کو ثابت کرے،اور آئندہ اس کے انکار ہونے یا کرنے کا خدشہ ہو،یااپنی بے گناہی ثابت کرنی ہوتو وہ بات چیت محفوظ کی جاسکتی ہے،اس کے علاوہ نہیں۔آج مختلف دینی فکر کے جو افراد خفیہ بن کر کسی عالم سے سوالات کرکے پھر اس کے جوابات اس کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا کے ذریعہ عام کرتے ہیں ،یہ دین کی خدمت ہرگز نہیں،صرف انتشار پھیلانے کا کام ہے۔
غیر اسلامی مواد پڑھنا ۔۔اہم مسائل
جواب۔3؛سوشل میڈیا پر آنے والا مواد(content)اگر الحاد،بے دینی،فحاشی،اخلاقی حدود کے باہر یا دین اسلام کے خلاف ہو تو ایسا مواد نہ توپڑھنا ہر اس شخص کے لیے درست ہے جو اس کی مضرت اور خرابی سے اپنے آپ کو نہ بچاسکےاور نہ ہی اس کیلئے یہ جائز ہے کہ وہ آگے کسی اور کو شیئر کرے،ہاں وہ شخص اگر اس کو رد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اس کو خود متاثر ہونے کا خدشہ نہ ہو ،وہ شخص پڑھ بھی سکتا ہے تاکہ وہ اس کاردکرسکے اور ایسے دوسرے شخص کو بھی بھیج سکتا ہے جو اس کے رد کرنے میں معاون بن سکے۔ اسی طرح وہ شخص بھی یہ غیر اسلامی مواد پڑھ سکتا ہے جو اس کے غلط ہونے کو تو محسوس کرپائےمگر خود رد(refute) نہ کرسکے اورکسی دوسرے بڑے صاحب علم تک وہ مواد پہونچائے جو بوقت ضرورت ا س کو رد کرسکےاور عام مسلمانوں کو اس کے غلط اثرات سے بچاسکے۔اسلام کے خلاف ہر دور میں زبان وقلم استعمال ہوتے رہے ہیں ،آج کے دور میں یہ کام زیادہ بڑے پیمانے پر سوشلمیڈیا کے سہارے ہورہا ہے ،یہ آج کے بابصیرت اور اسلامی حدود کی حقیقی پہچان رکھنے والے محافظین اسلام اس تجزیہ وتردید کرنے کے ذمہ دار ہیں ،۔
طبی، قانونی و سائنسی معلومات کےلئے ماہرین کی تصدیق ضروری
جواب۔4؛سوشل میڈیا میں جو مفید اور صحیح معلومات سامنے آتی ہیں اُن سے مستفید ہونا درست ہے،مگر ان میں کچھ معلومات ایسی بھی ہیں جن کی تصدیق اس شعبہ کے ماہرین سے کرانا ضروری ہے،مثلاً طبی تحقیقات،قانونی نکات،سائنسی نظریات یا بحث طلب تھیوریاں سامنے آئیں تو اس کے ماہرین سے استصواب رائے کرانا ضروری ہے،اور اس سوشل میڈیا میں جوجو خرابیاں ہیں ان سے اپنے آپ کو بچانا ضروری ہے اور اپنے متعلق خوش گمانی یا نفسانی محرکات سے مغلوب ہونا ہرقسم کے غلط مواد کو دیکھنا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے ۔
مستند اہل علم،صحیح فکر رکھنے والے مفکرین اور اسلامی اسکالرز،اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کرنے والے افراد اور اخلاقی روحانی مصلحین اس کے ذریعہ عظیم خیر پھیلاسکتے ہیں،جیسے ہمارے عہد کے بے شمار مستند اہل علم ومصلح شخصیات کے بیانات سے دعوت،تزکیہ،تفہیم اور اصلاح وارشاد کا بڑا کام ہورہا ہے۔
معلومات مستند اور جذبات مخلصانہ ہوں توسوشل میڈیا کا استعمال درست
جواب۔5؛مجموعی طور پر سوشل میڈیا ایسا عالمگیر پلیٹ فارم ہے کہ اس کے ذریعہ ہر باطل فکر،الحاد وخالق بیزاری،حیوانی تہذیب اور اخلاقی اقدار کی بیخ کنی کرنے والا نہایت تیز اثر رکھنے والا میڑیل بہت پرکشش اسلوب کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے،اب اہل ایمان اسی میدان میں پہونچ کر اس زہرکا تریاق مہیا نہ کریں تووہ لوگ جو اب صرف اس میڈیا کے بند کھول سے باہر آکر کچھ پڑھنے،سننے اور پوچھنے سیکھنے سے دور ہوچکے ہیں ان کا متاثر ہونا یقینی ہے،اس لیے صحیح اصولوں کے ساتھ،حدود کی رعایت کرکے اور خود کو اس کے زہر یلے اثرات سے بچا کر اس عظیم اور وسیع پلیٹ فارم کو اسلام کےحق میں استعمال کیا جاسکتا ہے،مگر معلومات مستندہوں،جذبہ مخلصانہ ہو،اسلوب داعیانہ ہو،انتشار پھیلانے سے اجتناب ہواور غیر ضروری بحث طلب موضوعات سے احتراز ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال: ۱۔بہت ساری خواتین اپنے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال جوڑتی ہیں ۔اب جب وہ وضو کرتے ہوئے اپنے سَر پر مسح کرتی ہیں تو کیا اُن مصنوعی بالوں پر ہی مسح ہوتا ہے ،اور بعض خواتین اپنے فطری بالوں پر مسح کرتی ہیں ۔ہماراسوال یہ ہے کہ اگر کسی نے اُن مصنوعی بالوں پر مسح کیا تو کیا مسح ادا ہوجاتا ہے یا نہیں؟
سوال ۲: ۔کیا عورتوں کو بھی پورے سَر کا مسح کرنا اُسی طرح سنت ہے کہ جیسے مَردوں کو ؟عورتوں کو بالوں کا وہ حصہ جو پیچھے سے لٹکا ہوا ہوتا ہے ،کیا اُس حصے پر بھی مسح لازم ہے؟
سوال:۳۔بہت ساری خواتین آرائش کے لئے اپنے ناخن پر نیل پالش لگاتی ہیں ،جو عموماً بہت گاڑھا لیکوڈ ہوتا ہے ۔یہ پینٹ کی طرح ہوتا ہے ۔کیا ناخن پالش پر وضو ہوجاتا ہے۔اس طرح اگر ہاتھوں یا بالوں پر مہندی لگی ہوئی ہو تو کیا وضو ہوجاتا ہے؟
مریم سُلطان ۔سرینگر
مصنوعی بالوں پر مسَح اور ناخن پر لگی نیل پالش میں وضوکا مسئلہ!
جواب: ۱۔خواتین کے جو فطری بال ہوتے ہیں اُن بالوں پر اس طرح مسح کیا جائے کہ بھیگے ہوئے ہاتھ پورے سَر پر گذر جائیں۔مسح کے معنیٰ یہی ہیں کہ بھیگا ہوا ہاتھ کسی عضو پر گذارا جائے۔اب اگر کسی عورت نے’’وِگ‘‘ استعمال کیا ہواہو، تو اس میں دو خرابیاں ہیں ۔ایک یہ کہ ایسے مصنوعی بال استعمال کرنا جائز نہیں اور اگر ان مصنوعی بالوں پر مسح کیا جائے تو یہ مسح بھی ادا نہ ہوگا ،یہ بال چونکہ جسم ِ فطری نہیں ہوتے ،اُن پر مسح گویا اپنے جسم پر مسح نہ ہوگا۔
جواب۲:۔ پورے سَر کا مسح کرنا سنت ہے اور اس سنت پر پورے اہتمام سے عمل کرنا چاہئے کہ یہ پورے سَر کا مسح جس طرح مَردوں کے لئے سنت ہے ،اُسی طرح عورتوں کے لئے بھی سنت ہے۔،البتہ عورتوں کے سَر کے پیچھے کو لٹکے ہوئے بال پیچھے کی طرف لٹکے ہوئے ہیں اُن پر مسح نہیں کرنا ہے۔سَر کے پیچھے اُس حصہ جہاں بال نیچے کی طرف لٹکے ہوئے ہوتے ہیں ،وہاں تک مسح کرکے پھر لٹکے ہوئے بالوں کے نیچے گردن پر مسح کرکے پھر کانوں پر مسح کرنا چاہئے۔
جواب۳۔ ناخن پر نیل پالش ہوتو اس پر نہ غسل ہوتا ہے اور نہ وضو ہوتا ہے،دراصل نیل پالش ایک گاڑھا پینٹ ہے جو پانی کو ناخن تک نہیں پہنچنے دیتا ،اس لئے جس خاتون کے ناخن پر یہ پینٹ لگا ہوا ہو وہ اگر غسل کرے گی اور نیل پالش لگا رہ گیا تو غسل ادا نہ ہوگا،اور وضو کرے تو وہ بھی ادا نہ ہوگا ۔اس لئےکہ اُس کے ناخن در حقیقت خشک رہ گئے ۔یہ ایسے ہی ہے جیسے تنگ انگوٹھی لگی ہوئی ہو تو نہ غسل ہوگا اور نہ وضو ہوگا ۔