مسعود محبوب خان
جس طرح ہوا اور پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں، اسی طرح کتاب کے بغیر انسانی بقاء اور ارتقاء کا خواب ادھورا ہے۔ کتاب نے نہ صرف علم کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا بلکہ انسانی سوچ کو وسعت اور گہرائی عطاء کی۔ جب دنیا تحریر کے فن سے واقف ہوئی تو انسان نے اظہار کے لیے ہر ممکن وسیلہ آزمایا۔ اس نے چٹانوں پر نقش و نگار تراشے، درختوں کی چھال، جانوروں کی ہڈیاں اور کھالیں، کھجور کے پتے، ہاتھی دانت اور کاغذ غرض ہر وہ شے استعمال کی جس پر دل کی بات رقم کی جا سکتی تھی۔ یہی تحریریں وقت کے سینے میں محفوظ ہو کر کتابوں کی صورت ڈھل گئیں اور نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔
کتابوں کی داستان بھی عجیب اور دردناک ہے۔ کبھی جہالت کے خوف سے انہیں نذرِ آتش کیا گیا، کبھی تعصب کے ہاتھوں دریا برد کر دیا گیا، کبھی لوٹ لیا گیا اور کبھی زمین میں دفنا دیا گیا۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کتاب ہر دور میں زندہ رہی۔ طاقت کے ایوان بدل گئے، سلطنتیں مٹ گئیں، مگر کتاب نے انسانی حافظے میں اپنی جگہ قائم رکھی۔ یہی اس کی قوت ہے اور یہی اس کی عظمت۔ دراصل کتاب کو مٹانے کی ہر کوشش نے اسے مزید طاقت ور بنا دیا، کیونکہ علم کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو دوبارہ کتاب سے جوڑا جائے، اسے یہ احساس دلایا جائے کہ مطالعہ محض شوق نہیں بلکہ فکری بقاء کی شرط ہے۔ کتاب سے رشتہ مضبوط ہو جائے تو انسان نہ ماضی سے کٹتا ہے، نہ حال میں بھٹکتا ہے اور نہ مستقبل کے اندھیروں سے خوف زدہ ہوتا ہے۔ کتاب انسان کو انسان بناتی ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی معنویت ہے۔
کتاب کی تقدیر بھی انسانی تاریخ کی طرح عجیب نشیب و فراز سے گزری ہے۔ کبھی یہ شاہی درباروں کی زینت بنی، سونے کے ورق میں لپٹی ہوئی اہلِ اقتدار کے ہاتھوں میں گردش کرتی رہی اور کبھی یہی کتابیں فٹ پاتھوں پر کوڑیوں کے دام فروخت ہوئیں، بے قدری اور بے توجہی کی گرد میں اَٹتی رہیں۔ مگر حالات کی اس تبدیلی کے باوجود ایک حقیقت اٹل رہی کہ کتاب اور علم سے دوستی ہی معاشی خوشحالی، فکری بالیدگی اور معاشرتی امن کی سب سے مضبوط ضمانت ہے۔
ساتویں صدی سے تیرہویں صدی تک بغداد علم و حکمت کا عالمی مرکز رہا۔ بیت الحکمتہ جیسے عظیم علمی ادارے نے فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات اور دیگر علوم کو نئی جہتیں عطاء کیں۔ مگر جب سقوطِ بغداد کا المیہ پیش آیا تو صرف ایک شہر نہیں گرا بلکہ صدیوں پر محیط علمی وراثت بھی خاک و خون میں لت پت ہو گئی۔ مسلمانوں کے عظیم کتب خانے دریائے فرات میں بہا دیے گئے۔ یہ ذخیرہ اس قدر وسیع اور قیمتی تھا کہ روایات کے مطابق دریا کا پانی کتابوں کی سیاہی سے سیاہ ہو گیا۔ یہ محض ایک شہر کی تباہی نہیں تھی بلکہ علم دشمنی کی ایک ایسی داستان تھی جس کے اثرات صدیوں تک محسوس کیے گئے۔اسی طرح اندلس، جو علم و تہذیب کا روشن مینار تھا، پندرہویں صدی کے اواخر میں جب اسلامی حکومت کے خاتمے سے دوچار ہوا تو غرناطہ کی عظیم لائبریری بھی تعصب کی آگ کی نذر کر دی گئی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمان کتابیں پڑھتے تھے، انہیں محفوظ کرتے تھے اور علم کو عبادت کا درجہ دیتے تھے۔ مگر آہستہ آہستہ جب علم سے دوری اختیار کی گئی تو عزّت کی جگہ ذلت اور قیادت کی جگہ محکومی نے لے لی۔آج کی دنیا کا منظرنامہ اس حقیقت کو مزید واضح کر دیتا ہے۔ دنیا کے اٹھائیس ایسے ممالک ہیں جہاں سب سے زیادہ کتابیں فروخت ہوتی ہیں، مگر افسوس کہ ان میں ایک بھی مسلمان ملک شامل نہیں۔ مسلمان اپنی علمی شان بھلا بیٹھے اور اہلِ یورپ نے مسلمانوں کے علمی مراکز بالخصوص ہسپانیہ کے مدارس اور کتب خانوں سے استفادہ کر کے تحقیق، سائنس اور فلسفے کی نئی دنیا آباد کی۔ ہمارے آباؤ اجداد کی علمی محنت آج بھی یورپ کی عظیم لائبریریوں میں محفوظ ہے۔ لندن کی ایک لائبریری میں تقریباً چھ لاکھ کے قریب وہ کتابیں موجود ہیں جو عربی، فارسی، ترکی اور اردو جیسی مشرقی زبانوں میں لکھی گئیں۔ اسی طرح پیرس کی لائبریریوں میں بھی مشرقی علوم کا ایک قیمتی ذخیرہ محفوظ ہے۔ یہ کتابیں گواہی دیتی ہیں کہ مسلمان کبھی علم کے معمار تھے، مگر اب اپنی ہی میراث سے غافل ہو چکے ہیں۔ آج اگر بچّوں اور نوجوان نسل میں مطالعے کا شوق پیدا کیا جائے، کتاب کو پھر سے زندگی کا حصّہ بنایا جائے اور علم کو محض نصاب تک محدود نہ رکھا جائے تو معاشرے میں پھیلتی ہوئی شدّت پسندی، عدم برداشت اور فکری تنگ نظری میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ درحقیقت کتاب صرف فرد کو نہیں سنوارتی، بلکہ قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔ آخر میں یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے کہ کتاب سے رشتہ محض ذوقِ مطالعہ یا علمی شغل کا نام نہیں، بلکہ یہ ایمان، شعور اور تہذیب کی بقاء کا سوال ہے۔ کتاب سے دوری دراصل اس فکری و روحانی وراثت سے دوری ہے جس نے ہمیں انسانیت کی رہنمائی کا منصب عطا کیا تھا۔آج اُمّتِ مسلمہ اور بالخصوص ہماری نئی نسل ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف معلومات کا سیلاب ہے مگر بصیرت کی قلت، اور دوسری طرف سہولتیں بے شمار ہیں مگر فکری گہرائی ناپید۔ اس صورتِ حال میں کتاب ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو علم کو حکمت میں، معلومات کو شعور میں اور طاقت کو ذمّہ داری میں بدل سکتی ہے۔ اگر ہم نے اس نعمت سے غفلت برتی تو ہم نہ صرف دنیا میں پیچھے رہ جائیں گے بلکہ اپنی دینی ذمّہ داریوں سے بھی کوتاہی کے مرتکب ہوں گے۔
یہ تذکیر محض ایک نصیحت نہیں بلکہ ایک اجتماعی دعوت ہے۔ والدین کے لیے کہ وہ گھروں میں کتاب کو عزّت دیں، اساتذہ کے لیے کہ نصاب کے ساتھ ذوقِ مطالعہ بھی پیدا کریں اور نوجوانوں کے لیے کہ وہ اسکرین کی عارضی چمک کے بجائے کتاب کی دائمی روشنی کا انتخاب کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ذہنی انتشار کو فکری استحکام، جذباتی شدت کو اعتدال اور سماجی بے چینی کو امن میں بدل سکتا ہے۔ کتاب ہمیں ماضی کی جڑوں سے جوڑتی، حال کی سمت درست کرتی اور مستقبل کے لیے ایک روشن افق فراہم کرتی ہے۔ جس دن کتاب ہماری ترجیح بن گئی، اسی دن فکری زوال کی زنجیریں ٹوٹنا شروع ہو جائیں گی۔
رابطہ۔ 09422724040
[email protected]