اِکز اِقبال
ہم اس دور میں سانس لے رہے ہیں، جہاں نشے کی تعریف بدل چکی ہے۔ اب نشہ صرف سرنج، سگریٹ یا شراب کا نام نہیں رہا۔ آج کا سب سے خطرناک نشہ جیب میں رکھا ہوا وہ چھوٹا سا آلہ ہے جسے ہم محبت سے’’فون‘‘ کہتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پرانے نشے انسان کو اندھیری گلیوں میں لے جاتے تھے اور نیا نشہ انسان کو روشن اسکرین کے سامنے بٹھا کر اندر سے خالی کر دیتا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ہم کسی نشے کے عادی ہیں، کیونکہ سوشل میڈیا ہمیں نشہ محسوس ہی نہیں ہونے دیتا۔ یہ نشہ خاموش ہے، مہذب ہے اور بظاہر بے ضرر لگتا ہے۔ مگر ماہرین ِ نفسیات اور دماغی سائنس اب اسے ایک خطرناک نام دے چکے ہیں:’’ڈیجیٹل کوکین‘‘یہ کوئی ادبی تشبیہ نہیں، بلکہ سائنسی حقیقت ہے۔
نشہ کیا ہوتا ہے؟ ایک سادہ سوال؟اگر نشے کی تعریف کریں تو وہ کچھ یوں بنتی ہے:کسی ایسی چیز کی بار بار اور بے قابو طلب جو انسان کی آزادی، توجہ اور فیصلے کی صلاحیت چھین لے۔اب خود سے ایک سوال پوچھئے:یا ہم بغیر فون چیک کیے ایک گھنٹہ گزار سکتے ہیں؟کیا ہمیں خاموشی برداشت ہوتی ہے؟کیا ہم کسی انتظار، بوریت یا تنہائی کو بغیر اسکرین کے سہہ پاتے ہیں؟اگر جواب نفی میں ہے تو مسئلہ سادہ نہیں، گہرا ہے۔
قدرت نے انسان کے دماغ میں ایک حسین نظام رکھا ہے۔ جب ہم کوئی اچھی، بامعنی یا محنت کے بعد حاصل ہونے والی کامیابی محسوس کرتے ہیں تو دماغ ڈوپامین ( Dopamine ) خارج کرتا ہے۔ یہی کیمیکل ہمیں جینے کا شوق دیتا ہے، آگے بڑھنے کی تحریک دیتا ہے۔لیکن مسئلہ تب پیدا ہوا ،جب سوشل میڈیا نے اس قدرتی نظام کو ہیک کر لیا۔اب ا یک لائک کا مطلب ہے خوشی, ایک کمنٹ کا مطلب ہے تسکین اور ایک نوٹیفکیشن کا مطلب ہے اُمید۔ یہ خوشی محنت کے بغیر ملتی ہے، اس لیے دماغ جلد اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ پھر وہی دماغ کتاب، عبادت، گفتگو، حتیٰ کہ فطرت کے حسن میں بھی وہ لطف محسوس نہیں کر پاتا جو ایک اسکرین سے ملتا ہے۔یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان زندگی سے اُکتا جاتا ہے، مگر اسے اس کی وجہ سمجھ نہیں آتی۔
ہم میں سے اکثر لوگ یہ جملہ کہتے ہیں: ’’بس پانچ منٹ فون دیکھ لیتا ہوں۔‘‘ اور پھر اچانک گھنٹہ گزر جاتا ہے۔یہ کوئی اتفاق نہیں، یہ ڈیزائن ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جان بوجھ کر Infinite Scroll بناتے ہیں،یعنی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ،تاکہ دماغ کو رکنے کا موقع ہی نہ ملے۔یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے جوا کھیلنے والا یہ سوچتا ہے کہ اگلا داؤ شاید جیت جائے۔ یہاں داؤ ویڈیو ہے، پوسٹ ہے، خبر ہےاور انسان کی توجہ اس کی قیمت ہے۔آج ہم لمبی بات سن نہیں سکتے، گہری تحریر پڑھ نہیں سکتے اور خاموشی ہمیں کاٹنے لگتی ہے۔ ہم فوراً نتیجہ چاہتے ہیں، فوراً جواب چاہتے ہیں، فوراً خوشی چاہتے ہیں۔
یہ سب اس لئے کہ ہمارا Attention Span تباہ ہو چکا ہے۔ یہ صرف طلبہ کا مسئلہ نہیں، یہ اساتذہ، والدین، صحافیوں، علماء ہم سب کا مسئلہ ہے۔ ہم بات تو بہت کرتے ہیں، مگر سوچتے کم ہیں۔
کبھی غور کیجیے۔ہم سونے کے لیے بستر پر جاتے ہیں، مگر نیند کے لیے نہیں،فون کے لیے۔موبائل اسکرین کی نیلی روشنی دماغ کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ابھی دن ہے، جاگتے رہو۔ نتیجہ یہ کہ نیند کا ہارمون میلانوٹون ( Melatonin ) دب جاتا ہے۔ پھر،نیند دیر سے آتی ہے ، نیند ہلکی ہوتی ہے، دماغ تھکا رہتا ہے اور ہم اگلے دن کہتے ہیں: ’’پتہ نہیں آج دل ہی نہیں لگ رہا۔‘‘
سوشل میڈیا پر ہر شخص کامیاب ہے، خوش ہے، مصروف ہے، خوبصورت ہے۔ صرف ایک ہی شخص ناکام، تھکا ہوا اور الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے،ہم خود۔
ہم بھول جاتے ہیں کہ اسکرین پر نظر آنے والی زندگی ایڈیٹ کی ہوئی ہوتی ہے۔ مگر دل اس حقیقت کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ یوں ایک خاموش موازنہ شروع ہوتا ہے اور اس کے ساتھ خوداعتمادی گرتی ہے، حسد بڑھتا ہے، شکم ہوتا ہے۔خاص طور پر نوجوان نسل اس دباؤ میں اندر سے ٹوٹ رہی ہے، مگر مسکرا کر سیلفی پوسٹ کر رہی ہے۔
ہم اب کسی لمحے میں پورے نہیں ہوتے۔ ہم کھانے کے دوران بھی اسکرین دیکھتے ہیں،دوستوں کے درمیان بھی، حتیٰ کہ عبادت کے بعد بھی۔ کیونکہ دل میں ایک خوف بیٹھ چکا ہے۔کہیں کچھ چھوٹ نہ جائے۔ یہ خوف انسان کو لمحہ موجود سے کاٹ دیتا ہے۔ اور جو انسان حال میں نہیں رہتا، وہ کبھی سکون میں نہیں رہتا۔
کیا حل ممکن ہے؟ یا ہم ہار چکے ہیں؟ فیصلہ ہمارا ہے۔مایوسی اس مسئلے کا حل نہیں۔ حل ممکن ہے، مگر آسان نہیں۔ یہ نشہ کسی حکم نامے سے ختم نہیں ہوتا، بلکہ شعور سے ٹوٹتا ہے۔
ہمیںسوشل میڈیا کو چھوڑنا نہیں بلکہ اسے اپنی جگہ پر رکھنا ہے۔ کبھی کبھی فون بند کر کے خود سے ملنا ہوگا۔خاموشی کو دوبارہ دوست بنانا ہوگا۔ حقیقی گفتگو، حقیقی رشتے، حقیقی تھکن، یہ سب واپس لانا ہوگا۔سوشل میڈیا نہ فرشتہ ہے، نہ شیطان۔ یہ ایک آلہ ہے اور آلہ ہمیشہ اپنے استعمال کرنے والے کی نیت کے تابع ہوتا ہے۔مگر یہ بھی سچ ہے کہ اگر ہم ہوشیار نہ رہے تو یہ آلہ ہمیں استعمال کرنے لگتا ہے۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔ کیا ہم ڈیجیٹل کوکین کے خوشنما دھوکے میں جینا چاہتے ہیں؟ یا پھر زندگی کواپنی پوری گہرائی، خاموشی اور حقیقت کے ساتھ واپس پانا چاہتے ہیں؟ یہ فیصلہ اسکرین نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔
آخری بات : اگر آج ہم نے اپنی انگلی کو اسکرین سے ہٹانا نہ سیکھا، تو کل یہ اسکرین ہماری سوچ، ہماری نیند، ہمارے رشتے اور ہماری روح سب کچھ ہم سے چھین لے گی۔ آزادی کا آغاز ہمیشہ ایک سادہ فیصلے سے ہوتا ہے،یہ فیصلہ کہ انسان آلہ نہیں، آلہ انسان کے لئے ہے۔فون بند کرنا کوئی قربانی نہیں، یہ خود کو واپس پانے کا پہلا قدم ہے۔
سوال یہ نہیں کہ سکرین کتنی روشن ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اندر سے کتنے زندہ ہیں۔
رابطہ ۔7006857283
[email protected]