آصف حسین کشمیری
انسانی تہذیب بظاہر ترقی کی بلند منازل طے کر رہی ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی نے زندگی کو سہل بنایا ہے، رابطوں کے ذرائع تیز ہو گئے ہیں، معلومات چند لمحوں میں دستیاب ہو جاتی ہیں، مگر اس ظاہری ترقی کے پس منظر میں ایک ایسا اندھا اور خاموش دشمن پروان چڑھ رہا ہے جو انسان کی روح، سوچ اور احساسات کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر رہا ہے۔ اس دشمن کا نام ڈپریشن ہے۔ یہ بیماری شور نہیں مچاتی، نہ جسم پر زخموں کی طرح دکھائی دیتی ہے، مگر دل و دماغ کو اندر سے زخمی کرتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے خاموش قاتل کہا جاتا ہے۔ڈپریشن صرف اداسی کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نفسیاتی بیماری ہے۔ یہ انسان کی سوچ، رویے اور زندگی کے انداز کو بدل دیتی ہے۔ انسان ہنستا مسکراتا نظر آتا ہے، لوگوں میں گھلتا ملتا ہے، مگر اس کے اندر ایک طوفان برپا ہوتا ہے۔ بظاہر خوش دکھائی دینے والے چہرے کے پیچھے درد، بے بسی اور تنہائی چھپی ہوتی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس بیماری کو سب سے زیادہ خطرناک بنا دیتا ہے، کیونکہ اکثر لوگ اس درد کو محسوس ہی نہیں کر پاتے۔ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماری کو بیماری سمجھنے کے بجائے کمزوری یا وہم کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص خاموش رہنے لگے، لوگوں سے کٹنے لگے یا پریشان دکھائی دے تو فوراً اسے نصیحتوں کا پلندہ تھما دیا جاتا ہے کہ مضبوط بنو، حوصلہ کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈپریشن بھی بخار، شوگر یا دل کی بیماری کی طرح ایک مرض ہے جس کا علاج ضروری ہے۔ اس کی شدت کو نہ سمجھنا مریض کے لیے مزید تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔ڈپریشن کی وجوہات بے شمار ہیں۔ سب سے بڑی وجہ معاشی دباؤ ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور محدود آمدنی نے انسان کو مسلسل فکری اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ جب انسان اپنی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکے تو خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے۔ یہی احساسِ ناکامی رفتہ رفتہ مایوسی میں بدل جاتا ہے۔ مالی پریشانی صرف جیب کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ دل و دماغ کو بھی زخمی کرتی ہے۔خاندانی مسائل بھی ڈپریشن کی بڑی وجہ ہیں۔ میاں بیوی کے جھگڑے، طلاق، والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے، گھریلو تشدد اور بے اعتمادی کا ماحول انسان کے ذہن پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ کسی عزیز کی موت، کسی رشتے کا ٹوٹ جانا یا کسی قریبی شخص کی بے وفائی انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ یہ صدمے اگر وقت پر سمجھے اور سنبھالے نہ جائیں تو ڈپریشن کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
تعلیمی میدان میں دباؤ ایک اور اہم سبب ہے۔ نمبرات کی دوڑ، کامیابی کا جنون اور ناکامی کا خوف نوجوانوں کو ذہنی مریض بنا رہا ہے۔ والدین کی غیر ضروری توقعات اور معاشرے کی بے رحم مسابقت نے طلبہ کی زندگی کو سکون سے محروم کر دیا ہے۔ ہر طالب علم سے یہ امید رکھی جاتی ہے کہ وہ سب سے آگے نکلے، حالانکہ ہر انسان کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ یہی مقابلہ بازی نوجوانوں میں احساسِ کمتری اور خود سے نفرت کو جنم دیتی ہے۔سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تصویروں اور ویڈیوز میں دکھائی جانے والی چمکتی دمکتی زندگیاں حقیقت نہیں ہوتیں بلکہ ایک مصنوعی دنیا کا عکس ہوتی ہیں۔ مگر نوجوان ذہن انہیں اصل زندگی سمجھ لیتا ہے اور اپنی زندگی کو ناکام تصور کرنے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان دوسروں سے اپنا موازنہ کر کے خود کو کمتر سمجھنے لگتا ہے اور مایوسی اس کے دل میں گھر کر لیتی ہے۔ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ روحانی خلا بھی ہے۔ اللہ سے دوری، عبادات سے غفلت اور مقصدِ زندگی کا فقدان انسان کے دل کو بے چین کر دیتا ہے۔ جب انسان کے پاس جینے کی واضح سمت نہ ہو تو وہ آسانی سے مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ دل کا سکون دولت اور شہرت میں نہیں بلکہ ایمان اور یقین میں ہوتا ہے۔ جب یہ رشتہ کمزور پڑ جائے تو انسان اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔بعض اوقات جسمانی بیماریاں اور کچھ دواؤں کے اثرات بھی ذہنی کیفیت کو متاثر کرتے ہیں۔ مسلسل درد، لمبی بیماری اور کمزوری انسان کو نفسیاتی طور پر تھکا دیتی ہے۔ یہی کیفیت ڈپریشن کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اسی طرح نیند کی کمی، غیر متوازن غذا اور جسمانی مشقت کی کمی بھی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
ڈپریشن کی علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں۔ انسان ہر وقت اداس رہنے لگتا ہے، تنہائی کو پسند کرنے لگتا ہے، لوگوں سے ملنے جلنے سے کترانے لگتا ہے۔ نیند میں بے ترتیبی آ جاتی ہے، کبھی بہت زیادہ نیند آتی ہے اور کبھی بالکل نہیں آتی۔ بھوک کم یا زیادہ ہو جاتی ہے۔ ہر کام بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے اور زندگی بے معنی نظر آنے لگتی ہے۔
ایسے لوگ خود کو ناکام، بے کار اور دوسروں پر بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ غصہ، چڑچڑاپن اور بے زاری ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ بعض اوقات وہ چھوٹی بات پر رونے لگتے ہیں اور بعض اوقات مکمل خاموش ہو جاتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی ویرانی ہوتی ہے جو صرف غور سے دیکھنے والا ہی محسوس کر سکتا ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسے افراد کو ہمدردی دینے کے بجائے طنز کا نشانہ بناتا ہے۔ انہیں کمزور ایمان والا، ناکام یا وہمی قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی رویہ مریض کو مزید تنہائی اور مایوسی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈپریشن کسی کی کمزوری نہیں بلکہ ایک بیماری ہے، اور بیماری پر مذاق نہیں بلکہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈپریشن کوئی ناقابلِ علاج مرض نہیں۔ اگر بروقت توجہ دی جائے تو اس سے نجات ممکن ہے۔ سب سے اہم قدم یہ ہے کہ انسان اپنے مسئلے کو تسلیم کرے اور ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رجوع کرے۔ ذہنی بیماری کا علاج کروانا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا جسمانی بیماری کا۔ کسی قابلِ اعتماد دوست یا بزرگ سے بات کرنا دل کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔
روحانی پہلو بھی اس بیماری کے علاج میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نماز، دعا، قرآن کی تلاوت اور ذکرِ الٰہی انسان کے دل کو سکون بخشتے ہیں اور اسے امید کی روشنی دکھاتے ہیں۔ اللہ سے تعلق انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ یہی یقین انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔اسی طرح ورزش، کھلی ہوا میں چہل قدمی، متوازن غذا اور مناسب نیند ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ جسم اور دماغ کا گہرا تعلق ہے۔ اگر جسم صحت مند ہوگا تو ذہن بھی بہتر کام کرے گا۔ انسان اگر خود کو کسی مثبت مشغلے میں مصروف رکھے جیسے مطالعہ، تحریر، باغبانی یا خدمتِ خلق، تو اس کی زندگی میں ایک نیا مقصد پیدا ہو جاتا ہے۔نوجوان نسل اس وقت سب سے زیادہ اس مرض کی لپیٹ میں ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور بے مقصد تفریح نے انہیں حقیقی رشتوں سے دور کر دیا ہے۔ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو وقت دیں، ان کی بات سنیں اور ان کے مسائل کو معمولی نہ سمجھیں۔ انہیں دین، اخلاق اور مثبت سوچ کی طرف راغب کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ڈپریشن ایک خاموش دشمن ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی خوشیوں کو نگل جاتا ہے، مگر یہ دشمن ناقابلِ شکست نہیں۔ محبت، ہمدردی، صحیح رہنمائی اور بروقت علاج سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ڈپریشن کو شرمندگی نہیں بلکہ بیماری سمجھیں، مریض کو مجرم نہیں بلکہ انسان سمجھیں، اور اسے زندگی کی طرف لوٹنے کا حوصلہ دیں۔
اگر ہم نے آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل یہ ہمارے گھروں، ہمارے بچوں اور ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ ڈپریشن کے خلاف جنگ صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا، ایک دوسرے کی بات سننی ہوگی اور ایک دوسرے کو امید دلانی ہوگی۔ کیونکہ امید ہی زندگی ہے اور مایوسی موت کے برابر ہے۔
(رابطہ۔ 9797888975 )
[email protected]