فکرو فہم
سہیل بشیر کار
یہ ایک اہم اور سنجیدہ سوال ہے کہ کیا ڈرگ ایڈکشن جیسے سنگین مسئلے کو محض سیمیناروں، تقریروں اور مضامین کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان ذرائع کی اپنی افادیت ضرور ہے، مگر یہ مسئلے کا مکمل حل ہرگز نہیں۔ خاص طور پر اس لیے کہ ایسے پروگراموں میں عموماً وہ افراد شریک نہیں ہوتے جو خود اس لعنت کا شکار ہوتے ہیں اور جن تک براہِ راست رسائی سب سے زیادہ ضروری ہے۔
آج ہمارا معاشرہ، بالخصوص کشمیری معاشرہ، منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ایک خطرناک صورتِ حال سے دوچار ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس دلدل میں پھنستی جا رہی ہے، جو نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔ اس پس منظر میں یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ ہم محض نظری گفتگو اور رسمی اقدامات سے آگے بڑھ کر ٹھوس اور عملی حکمتِ عملی اپنائیں۔
میری اپنی زندگی میں ایک وقت ایسا آیا، جب مجھے ڈرگ ڈی ایڈکشن کے میدان میں عملی طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ اس تجربے کی روشنی میں چند اہم نکات پیش کرنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلے، ہر محلے اور گاؤں کی سطح پر ڈرگ ایڈکٹس کی نشاندہی ناگزیر ہے۔ بلاشبہ یہ ایک حساس اور مشکل مرحلہ ہے، مگر ناممکن نہیں۔ مقامی سطح پر بااعتماد افراد، سماجی کارکنان اور ذمہ دار شہری اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ متاثرہ افراد تک رسائی حاصل کرنے کے بعد انہیں ہمدردی، خلوص اور مثبت سماجی دباؤ کے ذریعے ڈرگ ڈی ایڈکشن مراکز تک لے جانا چاہیے، جہاں پیشہ ورانہ علاج اور رہنمائی کے ذریعے ان کی زندگی کو نئی سمت دی جا سکتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومتی سطح پر ایسے کئی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں مفت یا کم خرچ علاج کی سہولت دستیاب ہے۔مزید برآں ہر علاقے میں ان افراد اور اداروں سے قریبی رابطہ استوار کرنا ضروری ہے جو پہلے سے اس میدان میں سرگرم ہیں۔ ایک مربوط اور منظم کوشش ہی دیرپا اور مؤثر نتائج کی ضامن بن سکتی ہے۔ انفرادی کوششوں کے بجائے اجتماعی حکمتِ عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
دوسری اہم جہت منشیات فروخت کرنے والے عناصر، یعنی پیڈلرز، کے خلاف مؤثر کارروائی ہے۔ معاشرے کے باشعور افراد کو چاہیے کہ وہ ان عناصر پر کڑی نظر رکھیں اور ان کی سرگرمیوں کی بروقت اطلاع متعلقہ حکام، خصوصاً پولیس، تک پہنچائیں۔ حالیہ عرصے میں پولیس کی جانب سے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جانا ایک مثبت پیش رفت ہے۔ کئی مقامات پر نہ صرف ان عناصر کو گرفتار کیا جا رہا ہے بلکہ ان کی غیر قانونی جائیدادوں کو بھی ضبط کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس جدوجہد کو کامیاب بنانے کے لیے عوام اور پولیس کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔تیسرا اور نہایت اہم کردار والدین کا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت، صحبت اور روزمرہ سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں۔ اگر خدانخواستہ کوئی بچہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو جائے تو محض ڈانٹ ڈپٹ یا نصیحت کافی نہیں ہوتی۔ ایسے افراد کو فوری طور پر پیشہ ورانہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے، جو صرف ڈرگ ڈی ایڈکشن مراکز میں ہی ممکن ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سے متاثرہ افراد خود بھی اس لعنت سے نکلنا چاہتے ہیں، مگر مناسب رہنمائی اور علاج نہ ہونے کے باعث کامیاب نہیں ہو پاتے۔ لہٰذا ان کے ساتھ سختی نہیں بلکہ ہمدردی اور سمجھ داری کا رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔چوتھی اہم بات یہ ہے کہ جو افراد علاج مکمل کر کے واپس معاشرے میں آتے ہیں، ان کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اگر انہیں روزگار، عزت اور سماجی قبولیت نہ ملے تو دوبارہ اسی دلدل میں گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے افراد کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور انہیں معاشرے کا مفید رکن بنانے میں مدد دی جائے۔پانچویں اور آخری نکتہ مذہبی و اخلاقی تربیت کا ہے۔ معاشرے کی مذہبی تنظیموں اور اداروں کو اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ دینِ اسلام انسان کو نہ صرف برائیوں سے دور رہنے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ ایک مضبوط اخلاقی ڈھانچہ بھی فراہم کرتا ہے، جو انسان کو دوبارہ اس لعنت میں مبتلا ہونے سے بچا سکتا ہے۔ روحانی و اخلاقی تربیت، علاج اور بحالی کے عمل کو مزید مستحکم بنا سکتی ہے۔آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ڈرگ ایڈکشن کا مسئلہ کسی ایک فرد، ادارے یا طبقے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کا مشترکہ چیلنج ہے۔ آئیے، ہم سب مل کر سنجیدگی، خلوص اور عملی اقدامات کے ذریعے اس ناسور کے خلاف ایک مؤثر اور متحد جدوجہد کا آغاز کریں، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور صحت مند معاشرہ فراہم کیا جا سکے۔
(رابطہ۔ 9906653927)
����������������