میری بات
سبزار احمد بٹ
ٍ ڈاکٹر محمد زاہد کی پیدائش 5ستمبر 1972 کو قصبہ جائس، ضلع رائے بریلی (اتر پردیش) میں ہوئی۔ رائے بریلی سے چونکہ متعدد نامور شعرا نے جنم لیا ہے، جن میں شہرۂ آفاق شاعر جناب منور رانا کا نام قابلِ ذکر ہے۔ قصبہ جائس متعدد شعرا اور اہلِ علم کا آبائی وطن رہا ہے، جن میں ملک محمد جائسی کا نام نمایاں ہے، جنہوں نے اودھ بولی میں گراں قدر ادبی خدمات انجام دیں۔ان کی ایک کتاب ’’پدماوت‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کتاب کی شہرت سے متاثر ہو کر ان کے نام سے پدماوت ایکسپریس ٹرین بھی چلائی گئی جو دہلی سے پرتاپ گڑھ تک جاتی ہے۔ ان کے نام پر پدماوت نام کی فلم بھی بنائی گئی ہے جو ان کی ادبی سرگرمیوں کا بین ثبوت ہے ۔ اسی طرح فاروق جائسی کا نام بھی قابلِ قدر ہے،
اسی علاقے سے پروفیسر کبیر احمد جائسی (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، مرحوم)، پروفیسر علیم اشرف جائسی، مولانا ابو الحسن علی ندوی (سابق صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مرحوم) اور مولانا کلبِ صادق (سابق نائب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مرحوم) جیسی علمی و دینی شخصیات کا تعلق رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ڈاکٹر محمدزاہد کے گرد و نواح میں شعر و دب کا ایک مضبوط اور سازگار ماحول موجود تھا، جس نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے پروان چڑھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ واضح رہے کہ مولانا ابو الحسن علی ندوی اور مولانا کلبِ صادق کا تعلق محمد زاہد کے آبائی گاؤں نصیرآباد (NASIRABAD) سے ہی ہے ۔
ڈاکٹر محمد زاہد کے والد کا نام محمد صادق اور والدہ محترمہ کا نام عزیزہ خاتون ہے۔ انہوں نے بی ایس سی کے بعد ایم اے اردو کیا بھی جرنلزم میں ڈپلومہ بھی کیا، بعد ازاں کلکتہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے والد خود بھی شاعر تھے اور صادق رائے بریلوی کے قلمی نام سے لکھتے تھے، اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاعری کا ذوق ڈاکٹر محمدزاہد کو وراثت میں ملا۔
ڈاکٹر محمد زاہد کی متعدد تصانیف منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جن میں شعری مجموعے، تحقیقی و تنقیدی مقالات اور سفرنامے شامل ہیں۔ صادق رائے بریلی: کلام اور فن، ساغر نظامی کی نثر نگاری اور مقالاتِ ساغر نظامی جیسی کتب اردو شعر و ادب میں ایک اہم اضافہ ہیں۔ چونکہ ڈاکٹر محمد ذاہد کا تعلق صحافت سے بھی رہا ہے، اس لیے انہوں نے مختلف میدانوں سے تعلق رکھنے والی متعدد نامور شخصیات کے انٹرویوز بھی کئے ہیں۔ ان ادبی و صحافتی خدمات کے اعتراف میں انہیں وقتاً فوقتاً مختلف اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ محمد زاہد کو اتر پردیش اردو اکاڈمی، بہار اُردو اکاڈمی اور مغربی بنگال اُردو اکاڈمیوں سے 6 کل ہند انعامات پٹنہ ، کلکتہ، دہلی اور چینی کے اداروں سے متفرق انعامات کے علاوہ نواب واجد علی شاہ ایوارڈ ، نازش مٹیا برج ایوارڈ ، علامہ رضا علی وحشت ایوارڈ ، میر امن دہلوی ایوارڈ ، علامہ کاوش بدری ایوارڈ ، آس محمد میموریل ایوارڈ ، AIUSS دہلی کا فروغ اردو ایوارڈ کے ساتھ ساتھ پریم چند ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے ۔ جبکہ مہتاب ادب کی ترتیب بھی محمد زاہد کے لیے کسی اعزاز اور ایوارڈ سے کم نہیں ہے۔
تاہم محترمہ رضیہ سلطانہ نے ’’مہتابِ ادب‘‘ کے عنوان سے ایک وقیع کتاب مرتب کر کے ڈاکٹر محمد زاہد کا تعارف ایک نئے اور جامع انداز میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس کتاب میں وہ تمام مضامین ترتیب کے ساتھ شامل کیے گئے ہیں جو مختلف اوقات میں اہلِ قلم نے ڈاکٹر محمد زاہد کی شخصیت اور فن پر تحریر کیے۔
کتاب کا آغاز ’’ڈاکٹر محمد زاہد ۔ ایک نظر میں‘‘ کے عنوان سے ایک جامع تعارفی مضمون سے کیا گیا ہے، جس میں نہ صرف ڈاکٹر محمد زاہد کی سوانح حیات بلکہ ان کی ادبی خدمات اور اعزازات کی تفصیل بھی شامل ہے، جو قاری کو ان کی شخصیت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ کتاب میں شامل پروفیسر علیم اللہ عالی کا مضمون ڈاکٹر محمدزاہد کی شاعری کا نہایت خوب صورت اور بامعنی جائزہ پیش کرتا ہے۔ بطورِ نمونہ ان کے یہ اشعار درج کیے گئے ہیں:
زاہد آ جائیں گے ہم منزلِ عرفاں کے قریب
خاک میں زندہ ابھی اور شرر باقی ہیں
ہم نے مانا کہ ضرورت ہے بڑی چیز مگر
کتنی دہلیز کو سجدوں سے سجایا جائے
ہمارے بچوں کی تہذیب کچھ عجب سی ہے
چراغ گھر کے ہیں پر ہوٹلوں میں جلتے ہیں
ان اشعار سے ڈاکٹر محمد زاہد کی فکری بصیرت اور عصری شعور کا نہ صرف بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بلکہ معاشرتی المیے کی خوب عکاسی ہوتی ہے ۔اس کے بعد پروفیسر عبدالمنان کا مضمون ’’نئی شاعری کی منفرد آواز‘‘ کتاب کا اہم حصہ ہے، جس میں ڈاکٹر زاہد کی شاعری کو ایک منفرد اور مؤثر آواز قرار دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر آفاق فاخری نے ان کے تحقیقی اور تنقیدی مقالات کا جامع جائزہ لیا ہے، جو اگرچہ مختصر ہے، مگر ڈاکٹر زاہد کی مقالہ نگاری کا بھرپور تعارف فراہم کرتا ہے۔ اس مضمون میں موصوف نے ڈاکٹر محمدزاہد کے تحقیقی اور تنقیدی مقالوں کا بھر پور جائزہ لیا ہے ۔ ڈاکٹر آئی۔ جی۔ آئی۔ حیدر نے بھی ایک مفصل مضمون میں ڈاکٹر محمد زاہد کو اردو شعر و ادب کا نمائندہ نام قرار دیا ہے اور اپنی بات کے استحکام کے لیے خورشید احمد فرازی کے خیالات کا حوالہ دیا ہے۔ واضح رہے کہ محمد زاہد ایک بہترین ناقد بھی ہیں ۔ ان کی تنقید نگاری کے والے سے ماہنامہ ’’شاعر‘‘ کے مدیر اعلیٰ جناب افتخار امام صدیقی کا لکھا مضمون بھی مہتاب ادب میں شامل ہے جبکہ محمد زاہد کی تنقید نگاری پر ہی ڈاکٹر ذکی طارق نے بھی لکھا ہے ،انہوں نے ڈاکٹر محمد زاہد کو نئی نسل کا تازہ کارِ نقاد قرار دے کر ان کی تنقید نگاری پر سیر حاصل مضمون لکھا ہے ۔
ڈکٹر زاہد ایک منجھے ہوئے صحافی بھی رہے ہیں۔ ڈاکٹر الف انصاری نے ان کی صحافتی زندگی کا اجمالی مگر مؤثر جائزہ پیش کیا ہے، جس سے انہیں بطور صحافی سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔ ڈاکٹر زاہد چونکہ ادبی اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں، اس لیے محترمہ رضیہ سلطانہ کا مضمون ’’ڈاکٹر محمدزاہد کا سفرنامۂ یورپ‘‘ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے، جب کہ اسی موضوع پر فاروق جائس نے بھی قلم اٹھایا ہے۔
فاروق جائسی لکھتے ہیں:’’اسلوبیاتی سطح پر ان کی شاعری شگفتگی، شائستگی، سلاست اور روانی سے ہم کنار ہے، جو ہمیں ایک باشعور، حساس اور سنبھلے ہوئے شاعر سے روشناس کراتی ہے۔ بلا شبہ ڈاکٹر محمدزاہد ایک ہمہ جہت قلمکار ہیں۔‘‘سعید رحمانی نے اپنے مضمون میں ڈاکٹر محمدزاہد کو ایک ہمہ جہت قلمکار قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر زاہد نے جہاں مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے، وہیں ادبِ اطفال میں بھی قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ صبیحہ تزئین نے اپنے مضمون میں اس پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ اس کے علاوہ واصف فاروقی، ظفر اقبال ظفر، خورشید احمد فرازی، مسرور تمنا، اسلم چشتی اور قیوم بدر کے شاندار اور معلوماتی مضامین بھی ’’مہتابِ ادب‘‘ کی زینت بنے ہیں۔
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ محترمہ ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے مہتابِ ادب مرتب کر کے ایک نہایت اہم اور وقیع ادبی خدمت انجام دی ہے۔ اس کتاب کے ذریعے ڈاکٹر محمدزاہد کی شخصیت کے مختلف پہلو یکجا ہو کر قاری کے سامنے آتے ہیں۔ میں محترمہ رضیہ سلطانہ صاحبہ، ڈاکٹر محمدزاہد اور اس کتاب میں شامل تمام قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
[email protected]