دانیہ افروز
رواں سال ۱۵؍ مارچ ۲۰۲۶ ءبمطابق ۲۶ رمضان المبارک کی بابرکت رات کو ڈاکٹر زینت کوثر کا انتقال ہوا، جو علمی دنیا سے وابستہ حلقوں کے لیے ایک قابل توجہ واقعہ ہے۔ انہوں نے طویل عرصے تک تدریس اور تحقیق کے میدان میں کام کیا اور اپنے موضوعات بالخصوص اسلامی و مغربی سیاسی فکر، خواتین کے مسائل اور جدید مغربی نظریات پر مسلسل لکھتی رہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کے علمی کام کو از سر نو دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
موجودہ دور میں فکری سطح پر جو مباحث سامنے آ رہے ہیں، ان میں خاص طور پر عورت کے بارے میں مختلف تصورات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان مباحث نے مسلم معاشروں میں بھی کئی سوالات پیدا کئے ہیں، جن کا تعلق شناخت، اقدار اور معاشرتی نظام سے ہے۔ اس صورتِ حال میں اہلِ علم نے ان نظریات کا تنقیدی مطالعہ کرنے اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں ان کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر زینت کوثر کا کام اسی تناظر میں قابلِ مطالعہ ہے۔ انہوں نے مغربی فکر، خصوصاً فیمینزم کا تجزیہ کیا اور اس کے بنیادی مفروضات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کی تحریروں میں عمومی طور پر تقابلی انداز پایا جاتا ہے، جہاں وہ ایک طرف مغربی نظریات کو پیش کرتی ہیں اور دوسری طرف اسلامی نقطۂ نظر کو واضح کرتی ہیں۔
مرحومہ ڈاکٹر زینت کوثر کا تعلق ہندوستان کے شہر حیدرآباد سے تھا، جہاں انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے عثمانیہ یونیورسیٹی حیدرآباد سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور sri Venkateswara University سے سیاسیات میں ماسٹرز مکمل کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کا رخ کیا، جہاں سے انہوں نے 1986 میں M.Phil اور 1991 میں PHD کی ڈگریاں حاصل کیں۔ حیدرآباد ہی کے ایک نوجوان جناب ڈاکٹر ممتاز علی سے نکاح کرنے کے بعد انکے ساتھ ملیشیا منتقل ہو گئیں ، جہاں انہوں نے طویل عرصے تک انٹر نیشنل اسلامک یونیورسیٹی آف ملیشیا کے شعبہ سیاسیات میں تدریس و تحقیق کی خدمات انجام دی ، بعد کے برسوں میں انہوں نے Qatar University میں بھی خدمات انجام دیں۔
۱۹۷۰ سے لیکر ۱۹۸۰ تک اپنی تعلیم کے دوران وہ علامہ اقبال ، مولانا سید ابو الاعلی مودودی ، مولانا ابو الکلام آزاد ، سعید النورسي ، علی شریعتی ، ڈاکٹر اسماعیل راجی الفاروقی اور علامہ یوسف القرضاوی وغیرہم کا مطالعہ کرتی رہیں ۔ مگر زینت کوثر صاحبہ سب سے زیادہ مولانا مودودی کی فکر اور ان کے طریقہ استدلال سے متاثر ہوئیں ۔ اس لیے وہ اسلام کو ایک تصور حیات اور نظام زندگی کے طور پر پیش کرتی ہیں ، وہ مغرب کے فکری غلبہ غلا سے متاثر یا مرعوب نظر نہیں آتیں ، بلکہ زندگی کی حقیقت اور سچائی کو علمی اور سائنسی بنیادوں پر پیش کرتی ہیں ، اور مغربی تصورات و نظریات پر اپنی متعدد تحریروں میں تنقید کرتی نظر آتی ہیں ۔
ڈاکٹر مرحومہ نے تدریس کے ساتھ ساتھ مسلسل تحقیق اور تصنیف کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ ان کے تحقیقی موضوعات میں اسلامی و مغربی سیاسی فکر، مغربی نظریات جیسے جدیدیت، عالمگیریت، فیمنزم وغیرہ کا تنقیدی جائزہ، اسی طرح خواتین کے مسائل، اور جدید فکری مباحث شامل ہیں۔ انہوں نے مختلف مگر باہم مربوط موضوعات پر کام کیا، جس سے ان کی فکر میں ایک ربط اور تسلسل پایا جاتا ہے۔اسلامی سیاسی فکر کے حوالے سے ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ جدید سیاسی تصورات کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں سمجھا جائے۔ چنانچہ وہ اسلامی سیاسی فکر کو ایک ایسے نظام کے طور پر پیش کرتی ہیں جو محض اقتدار یا ریاست کے ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس پہلو کو انہوں نے اپنی تحریروں میں واضح کیا ہے، خصوصاً Political Development: An Islamic Perspective میں، جہاں جدید سیاسی ترقی کے تصورات کا اسلامی تناظر میں جائزہ لیا گیا ہے۔ ان کی کتاب Modern Political Ideologies: An Islamic Critique میں اس پر تفصیلی گفتگو ملتی ہے۔ اس طرح وہ یہ واضح کرتی ہیں کہ ہر نظریہ اپنی تہذیبی بنیاد رکھتا ہے اور اسے بغیر تنقیدی شعور کے دوسری معاشرتوں میں منتقل کرنا فکری الجھنوں کو جنم دے سکتا ہے۔ اُن کے ہاں خواتین اور معاشرت کے مسائل کے مطالعے میں بھی سامنے آتا ہے۔ وہ مغربی فیمینزم کو ایک فکری ڈھانچے کے طور پر دیکھتی ہیں، جس کی بنیاد خاص تاریخی اور سماجی تجربات پر قائم ہے۔ اس سلسلے میں ان کی کتاب Women’s Empowerment and Islam اور تحقیقی مقالات میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ عورت کے مسئلے کو صرف مساوات کے تصور تک محدود کر دینا کافی نہیں بلکہ اسے خاندانی نظام، سماجی توازن اور اخلاقی اقدار کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا ضروری ہے (cf. IIUM Journal studies on women empowerment)۔ مغربی فمینیزم کے تجزیے میں وہ اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ اس کی بنیاد ایک خاص تاریخی پس منظر میں رکھی گئی، جہاں عورت کو طویل عرصے تک معاشرتی اور قانونی سطح پر محرومی کا سامنا رہا۔ اس پس منظر میں پیدا ہونے والی تحریک نے مساوات اور آزادی کے مطالبات کو مرکزی حیثیت دی، لیکن وقت کے ساتھ اس میں ایک ایسا رجحان بھی پیدا ہوا جس میں مرد اور عورت کے تعلق کو باہمی تعاون کے بجائے ایک طرح کے تصادم (conflict) کے زاویے سے دیکھا جانے لگا۔ ان کے نزدیک یہی وہ پہلو ہے جہاں فیمینزم کا تصور توازن کھو دیتا ہے ۔ڈاکٹر زینت کوثر اس کے مقابلے میں اسلامی تصور عورت کو ایک مختلف بنیاد پر رکھتی ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام میں عورت کی حیثیت نہ محض حقوق کی فہرست سے متعین ہوتی ہے اور نہ ہی اسے کسی ایک سماجی کردار تک محدود کیا جاتا ہے بلکہ اسے ایک ایسے نظام کا حصہ سمجھا جاتا ہے جہاں فرد، خاندان اور معاشرہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ اس تناظر میں وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عورت کے حقوق اور ذمہ داریوں کو اس کے فطری کردار اور معاشرتی توازن کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے، جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب Women’s Empowerment and Islam میں واضح کیا ہے۔
ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات کو اگر ان کے مجموعی تسلسل میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کا کام ایک باقاعدہ فکری منصوبے کی صورت رکھتا ہے۔ ان کی تحریروں میں ایک طرف مغربی نظریات کا تجزیہ اور نقد ہے، تو دوسری طرف اسلامی اصولوں کی وضاحت اور دونوں کے درمیان تقابل بھی ہے ۔ یہی جہتیں ان کی علمی خدمات کا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیتی ہیں اور انہی کے اندر ان کی تصانیف اور مقالات کو سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ان کی تصنیفی خدمات میں سب سے نمایاں پہلو مغربی نظریات کے تنقیدی مطالعے کا ہے۔ ان کی کتاب Modern Political Ideologies: An Islamic Critique اسی سلسلے کی ایک اہم کاوش ہے، جس میں انہوں نے مغربی سیاسی افکار جیسے سیکولرزم، لبرلزم وغیرہ کو ان کے فکری پس منظر میں رکھ کر دیکھا ہے۔ اس کتاب میں ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ پہلے کسی نظریے کی داخلی ساخت اور اس کے تاریخی تناظر کو واضح کرتی ہیں، پھر اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس کا جائزہ لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی کتاب Colonization to Globalization میں مغربی استعمار کے مسئلے کو ایک مسلسل جاری رہنے والے عمل کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ اس میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ استعمار صرف زمینوں پر قبضہ کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مقامی معاشروں کی فکری اور تہذیبی بنیادوں کو بدلنا بھی اس کا ایک اہم پہلو تھا۔ تعلیم کے نظام، ثقافتی ترجیحات اور سماجی ڈھانچے میں جو تبدیلیاں آئیں، وہ اسی عمل کا حصہ تھیں۔اس کتاب میں تاریخی مثالوں کے ذریعے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نو آبادیاتی دور نے سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ لوگوں کے سوچنے کے انداز کو بھی متاثر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد بھی بہت سے معاشرے مکمل طور پر اس اثر سے نکل نہیں سکے، بلکہ مختلف صورتوں میں وہی اثرات باقی رہے۔ اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے تو استعماریت (neo-colonialism) کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے، جہاں براہ راست قبضے کے بجائے معاشی، فکری اور ثقافتی ذرائع کے ذریعے اثر قائم رکھا جاتا ہے۔ اسی تسلسل میں عالمگیریت (globalization) کے تصور کو بھی اسی زاویے سے دیکھا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک عالمی ربط اور تعاون کا نظام معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا اس کے ذریعے واقعی تمام معاشروں کو یکساں مواقع مل رہے ہیں، یا ایک خاص طرز فکر اور نظام کو عالمی سطح پر غالب کیا جا رہا ہے۔ اس تجزیے میں یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ طاقت کے مراکز تبدیل ہونے کے باوجود ان کا اثر اب بھی برقرار ہے، صرف اس کی شکل بدل گئی ہے۔ اس طرح استعمار سے لے کر عالمگیریت تک کے عمل کو ایک تسلسل کے طور پر دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تبدیلی کے باوجود بعض بنیادی رجحانات اب بھی اپنی جگہ قائم ہیں۔
ان کی ایک اور اہم جہت اسلامی سیاسی فکر ہے، جس کا اظہار Political Development: An Islamic Perspective میں ہوتا ہے۔ اس کتاب میں وہ سیاسی ترقی کے مغربی تصورات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ اسلامی معاشروں میں سیاسی نظام کی تشکیل کن اصولوں پر ہونی چاہیے۔ یہاں بھی ان کا انداز تقابلی ہے، جہاں وہ مغربی ماڈلز کو بیان کرنے کے بعد اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ایک متبادل زاویہ پیش کرتی ہیں۔ اسی طرح خواتین اور معاشرت کے موضوع پر ان کی متعدد کتابیں ایک دوسرے سے مربوط انداز میں سامنے آتی ہیں۔ Muslim Women at the Crossroads میں انہوں نے مسلم معاشرے میں عورت کو در پیش فکری اور سماجی مسائل کا تجزیہ کیا ہے، جہاں ایک طرف مغربی اثرات ہیں اور دوسری طرف داخلی کمزوریاں۔ اس میں وہ یمینزم کے مختلف رجحانات کا جائزہ لیتے Women in Feminism and Politics: New Directions Towards Islamisation کے بعد ہوئے اس بات پر غور کرتی ہیں کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس بحث کو کس طرح نئی سمت دی جا سکتی ہے۔ اسی تسلسل میں Women is Empowerment and Islam ایک نسبتاً منظم فریم ورک پیش کرتی ہے، جہاں empowerment کے تصور کو اسلامی اقدار کے ساتھ جوڑنے کی)cf.IIUM Journal articles on Islamic empowerment framework( کوشش کی گئی ہے۔ان کے کام کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے افکار کو مختلف زاویوں سے تحقیقی مقالات کے ذریعے بھی پیش کرتی رہیں۔ ان کے مقالات میں اقوام متحدہ کے صنفی پروگراموں پر تنقید، عالمگیریت کے اثرات اور جدید فکری مباحث میں اسلامی نقطۂ نظر کی وضاحت جیسے موضوعات شامل ہیں ۔ ان مقالات میں ان کا انداز زیادہ براہ راست اور تجزیاتی ہوتا ہے، جہاں وہ کسی مخصوص مسئلے کو لے کر اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ پیش کرتی ہیں۔ اگر ان کی تمام علمی کام کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی فکر کا مرکزی محور اسلامی بنیادوں پر معاصر مسائل کی تفہیم ہے ۔
ڈاکٹر زینت کوثر صاحبہ کی علمی خدمات کو مختلف سطحوں پر سراہا بھی گیا۔ تحقیقی اور تدریسی میدان میں ان کی مستقل محنت کے نتیجے میں انہیں انٹر نیشنل سے نوازا گیا، اسی )Quality Research Award )2002 اور Excellent Researcher Award کی طرف سے )IIUM( اسلامک یونیورسٹی ملیشیا طرح 2006 میں انہیں Outstanding Author Certificate بھی دیا گیا، جو ان کی تصنیفی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ انہیں Marquis Who’s Who in the World میں بھی شامل کیا گیا، جہاں مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کا اندراج کیا جاتا ہے۔
زندگی کے آخری ایام تک علمی کام سے وابستگی اس بات کی علامت ہے کہ ان کے نزدیک علم ایک جاری عمل تھا۔ مختلف موضوعات پر ان کی تحریری سرگرمی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ اپنے فکری دائرے کو مسلسل وسعت دینے کی کوشش میں رہیں۔ امت کے مسائل، بالخصوص مسئلہ فلسطین جیسے موضوعات کے حوالے سے ان کی فکری حساسیت بھی ان کے علمی شعور کا حصہ رہی، جو ان کی گفتگو اور علمی رجحانات میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے علمی کام کو ایک مجموعی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت مزید نمایاں ہو جاتی ہے، تاکہ ان کی تحریروں اور افکار سے استفادہ کیا جا سکے اور معاصر مباحث میں ان کے پیش کردہ نکات کو سمجھا جا سکے۔ یہی طرز مطالعہ آئندہ علمی کام کے لیے بھی ایک متوازن بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ انکے انتقال سے قبل ان کی زندگی میں ہی ان کی علمی خدمات پر تحقیق کی گئی ، جسے انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی آف ملیشیا کے شعبہ قرآن و سنت کی ایک طالبہ مدیحشہزادی نے مقالہ کی صورت میں پیش کر کے ۲۰۲۴ میں PHD کی ڈگری حاصل کی ۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی علمی کاوشوں کو قبول فرمائے اور انہیں اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔
(گریجویث انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملیشیا)