جمیل انصاری
ڈاکٹر رافعیہ کی کتاب ’’کتابوں سے جھانکتے الفاظ‘‘ جموں میں منعقدہ ادبی مرکز کمراز کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر منظرِ عام پر آگئی۔ اس ادبی کانفرنس میں جہاں اہلِ قلم اور دانشوروں کی شرکت نے تقریب کو وقار بخشا، وہیں اس کتاب کی رونمائی نے محفل کو ایک سنجیدہ فکری جہت عطا کی۔ خوش قسمتی سے مجھے بھی اس کتاب کی ایک کاپی دستیاب ہوئی، جسے میں اپنے ساتھ سرینگر لے آیا۔ واپسی پر جب اطمینان کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا تو محسوس ہوا کہ یہ محض مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ فکر و تحقیق کی ایک بامعنی کاوش ہے، جو قاری کو ادب کے مختلف زاویوں پر سنجیدہ غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔
اردو ادب کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اس کی بقا اور فروغ ہمیشہ اُن اہلِ قلم کی بدولت ممکن ہوا ہے جنہوں نے سنجیدگی، مطالعہ اور تحقیق کو اپنا شعار بنایا۔ عصرِ حاضر میں ڈاکٹر رافعیہ محی الدین کا نام بھی اُن قلم کاروں میں شامل ہوتا جا رہا ہے جو تخلیقی اور تحقیقی ادب کے میدان میں خاموش مگر مؤثر انداز میں اپنی شناخت قائم کر رہی ہیں۔ڈاکٹر رافعیہ محی الدین کی ادبی زندگی کا آغاز محض تخلیقی جوش تک محدود نہیں بلکہ اس کی بنیاد باقاعدہ علمی و تحقیقی شعور پر استوار ہے۔ انہوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں کشمیری پنڈتوں کے کردار پر مقالہ پیش کر کے نہ صرف ایک اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث موضوع کو اجاگر کیا بلکہ یہ ثابت کیا کہ ان کا مطالعہ وسیع اور نظر گہری ہے۔ اسی تحقیقی کاوش کے تسلسل میں انہوں نے جموں و کشمیر کی خواتین قلم کاروں کی اردو خدمات پر تحقیق کر کے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی، جو ان کی سنجیدہ علمی وابستگی کا مظہر ہے۔
زیرِ نظر کتاب، جس میں ان کے مختلف مضامین اور تبصرے شامل ہیں، دراصل مقالہ نگاری اور تنقید نگاری کا حسین امتزاج ہے۔ ان مضامین میں جہاں فیض احمد فیض جیسی عظیم شخصیات کی ادبی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے، وہیں معاصر ادبا و شعرا کی تخلیقات پر بھی بصیرت افروز تبصرے پیش کئے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر رافعیہ کا مطالعہ صرف کلاسیکی ادب تک محدود نہیں بلکہ وہ جدید رجحانات اور نئے تخلیقی میلانات سے بھی پوری طرح باخبر ہیں۔ان کی تحریروں کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ موضوع کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ شخصیات پر لکھتے ہوئے محض مدح سرائی پر اکتفا نہیں کرتیں بلکہ ان کی ادبی خدمات، فکری جہات اور اسلوبی خصوصیات کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہیں۔ اسی طرح کتابوں پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ متن کے باطن تک رسائی حاصل کرنے کی سعی کرتی ہیں، جو ایک سنجیدہ نقاد کی پہچان ہے۔ڈاکٹر رافعیہ کی زبان جدید اردو کی نمائندہ زبان ہے۔ ان کے اسلوب میں سلاست بھی ہے اور وقار بھی۔ وہ غیر ضروری طوالت اور تکرار سے گریز کرتی ہیں اور اپنی بات کو واضح اور مربوط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تاہم، جیسا کہ ہر سنجیدہ قلم کار کے لئے ضروری ہے، مضامین کی ترتیب و تدوین اور مزید نظرِ ثانی سے ان کی تحریروں کو مزید نکھارا جا سکتا ہے۔ یہی ادبی ارتقا کا فطری عمل ہے۔ان کے مضامین کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اردو زبان سے وابستگی کو محض جذباتی مسئلہ نہیں بناتیں بلکہ اسے علمی اور فکری بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ وہ اس امر پر زور دیتی ہیں کہ اردو ادب کی بقا کے لئے کلاسیکی متون کا مطالعہ، عالمی ادب سے آگاہی اور تنقیدی شعور کی پرورش ناگزیر ہے۔ یہ رویہ ایک ذمہ دار ادیب کا رویہ ہے جو زبان و ادب کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبی ورثہ سمجھتا ہے۔ڈاکٹر رافعیہ محی الدین کی ادبی کاوشیں اس بات کی متقاضی ہیں کہ انہیں سنجیدگی سے پڑھا جائے اور ان پر مکالمہ کیا جائے۔ اردو ادب کو ایسے ہی اہلِ قلم کی ضرورت ہے جو تحقیق، تنقید اور تخلیق کے درمیان ایک متوازن رشتہ قائم کر سکیں۔ اگر وہ اسی استقامت، مطالعے کی وسعت اور فکری گہرائی کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں تو بعید نہیں کہ اردو ادب میں ایک منفرد اور معتبر نام کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کر لیں۔
آج جب اردو زبان مختلف سطحوں پر چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں ڈاکٹر رافعیہ محی الدین جیسے سنجیدہ اور باصلاحیت قلم کار امید کی کرن ہیں۔ ان کی تحریریں نہ صرف ادبی سرمائے میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی تحقیق اور مطالعے کی طرف راغب کرتی ہیں۔ یہی کسی بھی ادیب کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔رافعیہ کی تازہ تصنیف ’’کتابوں سے جھانکتے الفاظ‘‘ محض مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری سفرنامہ ہے، جس میں قاری کو مختلف ادبی جہات سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ یہ کتاب اس بات کی غماز ہے کہ مصنفہ ادب کو جامد روایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک مظہر کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ان کے نزدیک ادب کا اصل حسن اس کی فکری وسعت اور تنقیدی شعور میں پوشیدہ ہے اور یہی عنصر اس کتاب کو عام تنقیدی مجموعوں سے ممتاز بناتا ہے۔کتاب کے مضامین میں تنوع کے باوجود فکری ربط نمایاں ہے۔ کہیں کلاسیکی روایت پر گفتگو ہے تو کہیں معاصر رجحانات کا جائزہ، کہیں شخصیات کے ادبی نقوش ابھارے گئے ہیں تو کہیں نظریاتی مباحث کو سادہ مگر مدلل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس ہم آہنگی سے واضح ہوتا ہے کہ مصنفہ محض معلومات فراہم نہیں کرتیں بلکہ ایک مربوط فکری بیانیہ تشکیل دیتی ہیں۔ڈاکٹر رافعیہ کا اسلوب نہایت شستہ، رواں اور بامعنی ہے۔ وہ پیچیدہ نظری مباحث کو بھی سہل اور قابلِ فہم پیرائے میں بیان کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی تحریر میں استدلال کی مضبوطی اور نتائج کی منطقی پیش کش نمایاں ہے، جو ان کے تحقیقی مزاج کا پتہ دیتی ہے۔ وہ کسی بھی موضوع کو جذباتی انداز میں نہیں بلکہ علمی دیانت کے ساتھ برتتی ہیں، جس سے ان کی تنقید میں سنجیدگی اور وقار پیدا ہوتا ہے۔یہ کتاب قاری کو محض مطالعے تک محدود نہیں رکھتی بلکہ اسے غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ مصنفہ سوال اٹھاتی ہیں، زاویہ نظر فراہم کرتی ہیں اور قاری کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ خود بھی ادبی متن کے باطن میں جھانک سکے۔ یوں یہ تصنیف یک طرفہ بیانیہ نہیں بلکہ مکالماتی فضا پیدا کرتی ہے، جو جدید تنقیدی رویّوں کی ایک اہم خصوصیت ہے۔مذکورہ کتاب میں اردو تحقیق و تنقید کی روایت سے گہرا رشتہ محسوس ہوتا ہے۔ مصنفہ نے جہاں روایت کا احترام کیا ہے وہیں جدید فکری مباحث کو بھی جگہ دی ہے۔ یہ امتزاج اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ادب کو ماضی اور حال کے درمیان ایک پُل کی حیثیت سے دیکھتی ہیں۔ ان کی نگارشات میں علمی پختگی کے ساتھ ساتھ فکری تازگی بھی موجود ہے۔طلبہ، اساتذہ اور سنجیدہ قارئین کے لئے یہ کتاب ایک راہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ تحقیق و تنقید کے میدان میں قدم رکھنے والوں کے لئے یہ اسلوب، حوالہ بندی اور فکری ترتیب کا ایک قابلِ تقلید نمونہ پیش کرتی ہے۔ مصنفہ نے جس سلیقے سے مختلف موضوعات کو یکجا کیا ہے، وہ ان کی منظم فکر اور ادبی بصیرت کا ثبوت ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ’’کتابوں سے جھانکتے الفاظ‘‘ دراصل فکر و تحقیق کی آمیزش کا نام ہے۔ یہ کتاب اردو ادب کے سنجیدہ قاری کو نہ صرف علمی مواد فراہم کرتی ہے بلکہ اسے فکری بالیدگی کی طرف بھی مائل کرتی ہے۔ ڈاکٹر رافعیہ محی الدین کی یہ کاوش اردو تنقیدی ادب میں ایک اہم اضافہ ہے، جو آنے والے دنوں میں تحقیق و تنقید کے حلقوں میں ضرور زیرِ بحث رہے گی۔
���