سرنکوٹ// 2014 میں آئے تباہ کن سیلاب کو تین برس بیت گئے ہیں مگر اب تک بحالی کاکام مکمل نہیں ہواہے ۔ مکمل تودور کی بات کئی کام ایسے بھی ہیں جن کو شروع ہی نہیں کیاگیا۔ پوٹھہ بیلہ کا پل بھی اسی سیلاب میں بہہ گیاتھا جس کی حالت آج یہ ہے کہ یہاں ایک رسہ باقی رہ گیاہے جس سے لوگ جان پر کھیل کر عبور و مرور کرتے ہیں ۔محکمہ کی طرف سے کوئی کام نہ ہونے کے بعد لوگوں نے یہ عارضی رسہ دریا کے بیچوں بیچ لگایاگیاہے اور وہ اسی کے سہارے آر پار جاتے ہیں۔ وارڈ نمبر 6 کے لوگوں کیلئے یہ پل انتہائی اہمیت کا حامل تھا جس کے پلر ابھی تک موجود ہیں۔وارڈ کے لوگوں نے حکام سے مانگ کی ہے کہ اس پل پر تعمیری کام شروع کرکے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایاجائے اور انہیں عبور و مرور کیلئے آسان راستہ فراہم کیاجائے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ پرانے پل کی جگہ کو خالی چھوڑ کر اب یہ پل دھڑا سموٹ میں لگانے کا منصوبہ بنایاجارہاہے جو وہ کبھی نہیں ہونے دیںگے کیونکہ اس سے پوٹھہ بیلہ اور سنئی کی لوگوں کی مشکلات بڑھ جائیںگی ۔انہوںنے کہاکہ اگر ایسا ہواتو وہ سڑکوں پر احتجاج کرنے سے گریز نہیں کریںگے ۔ذرائع کاکہناہے کہ ڈپٹی کمشنر پونچھ کی طرف سے اس پل کے حوالے سے ایک کمیشن مقرر کیاگیاہے جو ایک دو روز میں موقعہ پر جاکر حالات کا جائزہ لے گا۔حال ہی میں ڈپٹی کمشنر پونچھ اور ایس ڈی ایم سر نکوٹ نے اس پل اور راستے کا دورہ کیا تھا ۔پل نہ ہونے کی وجہ سے روزانہ مشکلات کاسامنا کرنے والے محمد زبیر،بشارت حسین ،محمد ارشاد ،اورنگزیب ،ماسٹر امتیاز شیخ اورمحمد بشیر وغیرہ نے بتایاکہ پل کی تعمیر ان کیلئے بہت ہی اہمیت کی حامل ہے اور وہ کسی بھی صورت میں یہ بات برداشت نہیں کریںگے کہ اس کو اصل جگہ کے بجائے کہیں دوسری جگہ تعمیر کیاجائے ۔