دروپدی مرمو
شری جگن ناتھ کی شان میں پڑھے جانے والے بہت سے بھجن اور مناجات بچپن ہی سے میرے حافظے میں محفوظ ہیں۔ اسکول اور کالج میں پڑھائی کے دوران مہا پربھو جگن ناتھ کے بھجن گا کر مجھے دلی خوشی ملتی تھی۔ میں خود کو مہا پربھو کے بہت قریب محسوس کرتی تھی۔ اگرچہ آج کل میں وہ بھجن نہیں گاتی، لیکن میں روزانہ مہا پربھو کو یاد کرتی ہوں اور ان کے بھجن گنگناتی ہوں۔ میں ہمیشہ اپنے پاس مہا پربھو کی موجودگی کا احساس کرتی ہوں اور وہ مشکل وقت میں میرا سہارا بنتے ہیں۔ آج بھی میں بھکت کوی مدھوسودن راؤ کا لکھا ہوا وہ گیت گنگناتی ہوں جس کا مفہوم ہے: ’مہا پربھو دن رات میرے ساتھ ہیں؛ ان کی اسی یاد کے ساتھ میں ہمیشہ پورے دل سے ان کی پوجا کرتی رہوں گی‘۔
جب میں اس عمر کو پہنچی جہاں میں دنیاوی باتوں کو کچھ حد تک سمجھ سکتی تھی، تو مجھے مہا پربھو جگن ناتھ کی عظمت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ گھر پر اکثر مہا پربھو جگن ناتھ کے بارے میں گفتگو ہوا کرتی تھی۔ ہمارے گاؤں میں بھی اکثر ایسی باتیں ہوتی تھیں۔ جب میں گاؤں کے اسکول میں پڑھتی تھی، تو بھکت سالبیگ کا تحریر کردہ بھجن ’آہے نیلا شَیلا‘ باقاعدگی سے پڑھی جاتی تھی۔ ہمارے استاد ہمیں مہا پربھو جگن ناتھ کے بارے میں بہت کچھ بتایا کرتے تھے یعنی یہ کہ پوری میں ایک بہت بڑا مندر ہے اور کوئی دوسرا مندر اس جتنا شاندار نہیں ہے۔ مندر میں مہا پربھو شری جگن ناتھ کی پوجا ان کی بہن سبھدرا اور بڑے بھائی بلبھدر کے ساتھ کی جاتی ہے۔ مہا پربھو جگن ناتھ کا رنگ سانولا اور آنکھیں گول ہیں۔ سبھدرا کی رنگت پیلی ہے اور بلبھدر چاندنی کے پھول کی طرح سفید ہیں۔ ایک بار جب آپ ان مورتیوں کو دیکھ لیتے ہیں، تو انہیں کبھی نہیں بھول سکتے۔ ہمارے استاد یہ بھی کہا کرتے تھے کہ جگن ناتھ ’مہا پربھو‘ ہیں، ان کا پرساد’مہا پرساد‘ ہے، ان کا مندر ’بڑا دیولا‘ یعنی بڑا مندر ہے، ان کا راستہ ’بڑا ڈانڈا‘ یعنی عظیم شاہراہ ہے اور ان کا سمندر ’مہوددھی‘ یعنی عظیم سمندر ہے۔ پرشوتم شیتر، پوری میرے آبائی گاؤں، ضلع میور بھنج کے اوپر بیڈا سے بہت دور تھا۔ مجھے پوری جانے کا موقع کیسے ملتا؟ جیسے جیسے میں بڑی ہوئی، میں بھوبنیشور چلی گئی اور وہاں یونٹ-2 گرلز ہائی اسکول میں بطور طالبہ داخلہ لے لیا۔ میں وہاں ہاسٹل میں رہنے لگی۔ تب مجھے پوری، بھوبنیشور اور کونارک جانے کا موقع ملا۔ مہا پربھو جگن ناتھ کے اپنے پہلے دیدار کی یاد آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔ کتنا متاثر کن مندر تھا اور کتنی عظیم مورتیاں تھیں! کیا انہیں کبھی بھلایا جا سکتا ہے؟
کیا کوئی مہا پربھو جگن ناتھ کی رتھ یاترا کو بھول سکتا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ شری شیتر میں سال کے بارہ مہینوں میں تیرہ تہوار منائے جاتے ہیں۔ لیکن رتھ یاترا کی شان و شوکت سب سے منفرد ہے۔ عقیدت مند مہا پربھو کے دیدار کے لیے سال بھر مندر میں ہجوم لگائے رکھتے ہیں۔ لیکن سال میں ایک بار، مہا پربھو خود مندر سے باہر تشریف لاتے ہیں اور اپنے عقیدت مندوں کو درشن دینے کے لیے وشال پتھ (وسیع شاہراہ )سے ہوتے ہوئے گنڈیچا مندر کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ تین شاندار رتھوں پر سوار ہو کر، تینوں مورتیاں چکر راج سدرشن کے ہمراہ گنڈیچا مندر جاتی ہیں۔ وہ وہاں سات دن قیام کرتی ہیں اور پھر واپس لوٹتی ہیں۔ مہا پربھو کا یہ عظیم تہوار بے مثال ہے۔
میں بچپن ہی سے مہا پربھو جگن ناتھ کی عقیدت مند رہی ہوں وہ ہمیشہ میرے سب سے محترم معبود رہے ہیں۔ وہ میری زندگی کے نشیب و فراز کی نگرانی کرتے ہیں۔ وہ میری خوشیوں اور غموں کا چشمہ ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سی سختیاں جھیلی ہیں اور مہا پربھو نے ہمیشہ مجھے ان تمام مصیبتوں سے باہر نکالا ہے۔ آخر کار، میں ان ہی کی بیٹی ہوں۔
جب صدرِ جمہوریہ ہند کے عہدے کے لیے میری نامزدگی کا اعلان ہوا، تو میں نے انتہائی عقیدت کے ساتھ مہا پربھو کا نام یاد کیا۔ میں نے مہا پربھو سے دعا کی، ’آپ مجھے اتنی بلند یوں پر لے جا رہے ہیں، میں آپ سے التجا کرتی ہوں کہ ہر قدم پر میری رہنمائی فرمائیں اور ہمیشہ میرے ساتھ رہیں‘۔ انہوں نے میری دعا سن لی۔ وہ ہمیشہ میری دعاؤں کا جواب دیتے ہیں۔ جب مجھے صدر کے عہدے کی امیدوار کے طور پر دہلی میں قیام کرنا تھا، تو اسی دوران رتھ یاترا کا تہوار منایا جانے والا تھا۔ اس لیے میرے لیے پوری جانا ممکن نہیں تھا۔ رتھ یاترا کے دن صبح سویرے، میں حوض خاص، دہلی میں واقع شری جگن ناتھ مندر گئی اور مہا پربھو کے درشن کیے۔ میرا دل خوشی سے بھر گیا۔ انہوں نے مجھ پر اپنی برکتوں کا مینہ برسایا۔ مکمل اعتماد کے ساتھ، میں نے اپنا نامزدگی کا پرچہ داخل کیا۔ میں نے انتہائی جوش و خروش کے ساتھ انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ 25 جولائی 2022 کو صدر کے طور پر حلف لینے کے لیے پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال جاتے ہوئے بھی میں مہا پربھو جگن ناتھ سے دعا کر رہی تھی۔ ان کی رحمت سے تقریب بہت اچھے طریقے سے انجام پائی۔ صدر کی حیثیت سے اپنے افتتاحی خطاب کے وقت مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ بالکل میرے پاس ہی موجود ہوں۔
تاہم، میرا دل مہا پربھو کے دیدار کے لیے پوری جانے کو تڑپ رہا تھا۔ دن گزرتے گئے، لیکن میں پوری نہ جا سکی۔ میرے دل میں خیال آیا؛ جب تک وہ خود اجازت نہ دیں، کوئی ان کے درشن کیسے کر سکتا ہے! میں نے خاموشی سے ان سے دعا کی، ’مہا پربھو! اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو مجھے معاف کر دیں، لیکن براہِ کرم مجھے پوری بلا لیں اور اپنے دیدار سے نوازیں‘۔ وہ ’بھاؤ‘ یعنی جذبوں کے مہا پربھو ہیں۔ وہ میرے جذبات کو کیسے نہ سمجھتے؟ جلد ہی، پوری کے ایک دورے کا پروگرام طے پا گیا۔ وہ تاریخ 10 نومبر 2022 تھی۔ پوری پہنچنے کے بعد، گاڑیوں کا قافلہ شری مندر کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی یہ قافلہ پوری کی عظیم شاہراہ ’بڑا ڈانڈا‘ پر پہنچا، ایک غیر معمولی احساس مجھ پر طاری ہو گیا۔ یہ بڑا ڈانڈا شری جگن ناتھ کا ہے۔ کیا یہاں کسی پروٹوکول کی ضرورت ہے؟ پوری تمام تیرتھ استھلوں کے راجہ یعنی ’شیتر راج‘ کے طور پر مشہور ہے۔ مہا پربھو خداؤں کے خدا ہیں۔ مزید کچھ سوچے بغیر، میں نے اپنی گاڑی رکوا دی۔ جب میری گاڑی رکی، تو میرے پیچھے آنے والی تمام گاڑیاں بھی رک گئیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی سمجھ پاتا کہ کیا ہو رہا ہے، میں نے بڑا ڈانڈا پر ننگے پاؤں چلنا شروع کر دیا۔ شری مندر وہاں سے تقریباً دو کلومیٹر دور تھا۔ مندر کے ’نیل چکر‘ اور اس کے شیکھر پر لہرا رہے مقدس ’پتت پاون دھوج‘پر اپنی نظریں جمائے، میں آگے بڑھتی رہی۔
جیسے جیسے میں آگے بڑھ رہی تھی، میں سڑک کے دونوں کناروں پر جمع بچوں، عورتوں، جوانوں اور بزرگوں کو بھی نمسکار کرتی جا رہی تھی۔ میرا دھیان پوری طرح مہا پربھو پر تھا۔ جس لمحے میں مندر کے مرکزی دروازے ’سنگھ دوار‘ کے پاس پہنچی، مجھ سے رہا نہ گیا۔ اس وقت تک میں خود کو بالکل بھول چکی تھی۔ میں نے اس مقدس سڑک ’بڑا ڈانڈا‘ کی دھول میں لیٹ کر (دنڈوت پرنام کر کے) مہا پربھو کے حضور اپنا عاجزانہ پرنام پیش کیا۔ پھر میں مندر کے اندر داخل ہوئی۔ ’گربھ گرہ‘میں پہنچ کر جب میں نے چاروں مورتیوں کے درشن کیے، تو میں ایک روحانی اور غیبی مسرت سے سرشار ہو گئی۔ مہا پربھو کائنات کے رکھوالے ہیں۔ وہ ان لوگوں کے نجات دہندہ ہیں جنہیں سب نے چھوڑ دیا ہو۔ وہ پوری دنیا کے لوگوں کے دکھوں کو دور کرنے کے لیے ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گول آنکھوں کے پپوٹے کبھی نہیں جھپکتے۔ ان کے نزدیک اونچ نیچ کا کوئی فرق نہیں ہے۔ ان کی نظر میں سب برابر ہیں اور سب کی برابری ہی ان کا بنیادی منتر ہے۔ ان کی شفقت و مہربانی سے فیضیاب ہو کر، میں نے خود کو معاشرے کے ہر طبقے کی خدمت کے لیے وقف کر دیا ہے۔ گول آنکھوں والے مہا پربھو جگن ناتھ کی طرف دیکھتے ہوئے، میں نے عقیدت سے ہاتھ جوڑے اور دعا کی، ’اے مہاباہو! لوگوں کی خدمت کے لیے میرے اس جذبۂ ایثار کو آپ کی برکتیں ہمیشہ برقرار رکھیں! اے کرپانیدھی! ہمارے ملک اور پوری دنیا کو اپنی حفظ و امان میں رکھیے‘۔ یہ کہتے ہی میں خود کو بھکتی بھاؤ یعنی عقیدت اور محبت کے جذبوں میں ڈوبا ہوا پاتی ہوں۔
(مضمون نگارملک کی صدر ہیں ،بشکریہ پی آئی بی)