جموں // حکیم محمد یاسین نے اس بات کا اندشتہ ظاہر کیا ہے کہ پنچایتی چنائو کرانے سے وادی کے حالات کہیں پھر سے خراب نہ ہو جائیں اس لئے پہلے ان انتخابات سے قبل وادی میں امن وقانون کی صورتحال کو بہتر بنایا جانا چاہئے ۔محکمہ دیہی ترقی اور قانون وانصاف کے مطالبات زر پر بولتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ حکومت پنچایتی چنائو کرانا چاہتی ہے اور میں اس کے خلاف نہیں ہوں تاہم اس بات کا اندیشہ نہیں رہنا چاہئے کہ یہ انتخابات وادی میں تشدد اور خون خرابہ کا ایک او ر باعث بنے ۔انہوں نے کہا کہ مشکل سے وادی میں حالات امن کی طرف لوٹ رہے ہیں اس لئے اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ کہیں حالات پھر سے خراب نہ ہو جائیں ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک برس سے سرکار ایک پارلیمانی نشست پر ضمنی چنائو نہیں کر اسکی تو ایسے حالات میں پنچایتی چنائو کیسے ممکن ہیں ۔انہوں نے محکمہ دیہی ترقیات میں کنبہ پروری خویش پروری اور رشوت خوری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ صرف منظور نظر افراد کو ہی رقومات فراہم کئے جاتے ہیں جبکہ عام دیہی ورکر وں کی کروڑوں کی واجب الا دا بقایا جات واگذار نہیں کئے جاتے ہیں۔اس سلسلے میں انہوں نے منریگا اور آئی اے وائی کے تحت ہوئے کاموں کا حوالہ دیا اور کہا کہ گذشتہ دو برسوں سے اُن کے اسمبلی حلقہ میں بقایا جات واگذار نہیں کئے گے ہیں ۔