کنگن/ /پرائمری ہیلتھ سنٹر گنڈ میں طبی سہولیات کے فقدان سے مریضوں کو دیگر سرکاری ہسپتالو ں یا پرائیویٹ کلنکوں کا رخ کرناپڑرہاہے۔ ہسپتال میں موجود آپریشن تھیٹر میں لاکھوں روپے کی مشینری بیکار پڑی ہے اور حکام کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ پرائمری ہیلتھ سنٹر گنڈ میں طبی اور نیم طبی عملے کی کمی کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ذرائع سے کشمیر عظمیٰ کو معلوم ہوا ہے کہ سات سال قبل پرائمری ہیلتھ سنٹر میں حکومت نے اگر چہ آپریشن تھیٹر کے لئے لاکھوں روپے کی لاگت سے مشینری دستیاب رکھی ہے تاکہ لوگوں کو بہترطبی سہولیات میسر ہوسکے لیکن ہسپتال کے تھیٹر میں اگر چہ مشینری دستیاب رکھی گئی ہے تاہم مشینری کو چلانے کے لئے سات سال تک بھی عملے کو تعینات نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اب یہ مشینری بیکار پڑی ہوئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس کے لئے ہسپتال میں ایک سرجن کو تعینات کیاجاتا ہے لیکن آج تک اس بارے میں محکمہ صحت کے حکام نے کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ ہسپتال میں بجلی کی آنکھ مچولی کے نتیجے میں جہاں مریضوں کو ایکسرے ،ای سی جی، اور دیگر ٹیسٹ کرانے میں یاتو گھنٹوں تک بجلی کا انتظار کرنا پڑ تا ہے یا پھر انہیں دوسرے ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے ۔ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ ہسپتال کی دیوار بندی کرنے کے بارے میں اگر چہ کئی بار محکمہ کے افسران کو بتایا گیا لیکن ابھی تک ہسپتا ل کی دیوار بندی کا کام ہاتھ میں نہیں لیا گیا ۔پرائمری ہیلتھ سنٹر کلن کی عمارت سات سالوں میں بھی مکمل نہ ہونے کے باعث مقامی آبادی کے لوگوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ عمارت کو مکمل کرنے کے لئے حکومت نے سال2015 تک کا وقت مقرر کیا تھا لیکن سات سال کے عرصے تک بھی عمارت کو مکمل نہیںکی گئی ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پرائمری ہیلتھ سنٹر کلن میں لیڈی ڈاکٹر ، ایکسرے ٹکنیشن اور دو سٹاف نرسز کی اسامیاں بھی خالی پڑی ہوئی ہیں جس کو ابھی تک پُر نہیں کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ہسپتال میں آنے والی حاملہ خواتین کو کافی دقتوں کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ پرائمری ہیلتھ سنٹر گنہ ون میں بھی گذشتہ کئی برسوں سے لیڈی ڈاکٹر کی کرسی خالی پڑی ہوئی ہے اور اس علاقے میں بھی حاملہ خواتین کو دوسرے ہسپتالوں کا روخ کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے ۔