ڈاکٹر ریاض احمد
برفانی تودے زمین کے ماحولیاتی نظام کا ایک نہایت اہم حصہ ہیں۔ یہ نہ صرف اربوں انسانوں کو میٹھا پانی فراہم کرتے ہیں بلکہ زمین کے درجۂ حرارت کو بھی متوازن رکھتے ہیں۔ تاہم تیز رفتار موسمیاتی تبدیلی نے گلیشیئر پگھلنے کے عمل کو بے حد تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ماحولیاتی نظام، پانی کی فراہمی اور سمندری سطحوں پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اسی بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر اقوامِ متحدہ نے سال 2025 کو برفانی ذخائر کے تحفظ کا بین الاقوامی سال قرار دیا ہے، تاکہ آگاہی میں اضافہ ہو اور گلیشیئرز کے تحفظ کے لیے موثر عالمی پالیسیوں کو فروغ دیا جا سکے۔سائنسی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں گلیشیئرز تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ سال 2024 کی ’’اسٹیٹ آف دی کرایوسفیئر‘‘ رپورٹ نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو برف کے ذخائر کی یہ کمی نہ صرف ماحول بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کرے گی۔سوئٹزرلینڈ میں 2022 سے 2023 کے درمیان گلیشیئرز کا 10 فیصد حجم ختم ہو گیا، جو تاریخ کے بدترین زوال میں سے ایک ہے۔ اسی طرح 2021–2022 کے دوران سوئس گلیشیئرز کا تقریباً 6 فیصد حصہ پگھل گیا، اور ماہرین کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ رفتار مزید بڑھ سکتی ہے۔
گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے پانی کے چکر پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ دنیا کے کئی خطوں—خصوصاً ہمالیہ اور اینڈیز کے پہاڑی سلسلوںمیں دریاؤں اور پانی کے ذخیروں کا بڑا حصہ گلیشیئر پگھلنے پر منحصر ہے۔ اگر یہ عمل جاری رہا تو لاکھوں افراد پانی کی قلت، زرعی نقصانات اور پن بجلی کی پیداوار میں کمی جیسے مسائل سے دوچار ہو جائیں گے۔
بھارت کے علاقے لداخ میں NATURICE نامی تحقیقی منصوبے نے ایک کیس اسٹڈی میں بتایا کہ مقامی آبادی نے ’’آئس اسٹوپاز‘‘ یعنی برف کے مصنوعی برج بنانا شروع کر دیے ہیں۔ یہ برج سردیوں میں پانی جمع کرتے ہیں جو گرمیوں میں کھیتی باڑی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح کے مقامی حل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گلیشیئر پر انحصار کرنے والے خطوں میں پانی کی سلامتی کے لیے عالمی سطح پر فوری اقدامات ضروری ہیں۔
دنیا کے بڑے حصے میں پینے کا پانی، زراعت اور پن بجلی گلیشیئر سے بہنے والے پانی پر منحصر ہے۔ جیسے جیسے گلیشیئر سکڑ رہے ہیں، پانی کے بہاؤ کا نظام غیر مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔
کہیں سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور کہیں خشک سالی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لداخ میں بنائے جانے والے آئس اسٹوپاز نہ صرف مقامی آبادی کی ذہانت کا مظہر ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے سامنے پہاڑی خطے کتنے حساس ہیں۔عالمی کوششیں اور برفانی تودوں کے تحفظ کے اقدامات۔دنیا بھر میں گلیشیئرز کے تحفظ کے لیے مختلف حکمتِ عملیاں اپنائی جا رہی ہیں۔2025 کو برفانی ذخائر کے تحفظ کا بین الاقوامی سال قرار دینا اور ورلڈ ڈے فار گلیشیئرز کا آغاز اس سمت میں اہم قدم ہیں۔ اس سے دنیا بھر میں آگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ بات اجاگر ہو رہی ہے کہ گلیشیئرز زمین کا قدرتی ورثہ ہیں۔ورلڈ گلیشیئر مانیٹرنگ سروس جیسے تحقیقی اداروں نے ڈیٹا اکٹھا کرنے اور گلیشیئرز کی حرکیات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس کے علاوہ الپس، اینڈیز اور ہمالیہ کے خطوں میں سرحد پار تعاون کے معاہدے بھی تشکیل دیے گئے ہیں تاکہ پانی کے منصفانہ استعمال اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے انتظامات کو بہتر بنایا جا سکے۔کچھ خطوں میں تکنیکی تجربات، جیسے مصنوعی گلیشیئرز بنانا یا برفانی ڈھلوانوں پر حفاظتی کور چڑھانا، بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ پگھلنے کی رفتار کم کی جا سکے۔عالمی موسمیاتی معاہدوں، جیسے پیرس معاہدہ، نے بھی گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کے ذریعے گلیشیئرز کے تحفظ میں بالواسطہ کردار ادا کیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں ETH زیورخ اور WSL جیسے اداروں کے زیرِ نگرانی گلیشیئر مانیٹرنگ سسٹمز نے نہایت دقیق معلومات فراہم کی ہیں جن کی بنیاد پر مؤثر موسمیاتی پالیسیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔پیرُو میں Glaciares+ منصوبے نے کسانوں کی مدد کے لیے نئے آبپاشی نظام اور گلیشیئر جھیلوں سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے ابتدائی وارننگ سسٹم متعارف کرائے ہیں۔بھارت کے لداخ میں 2014 سے اب تک 50 سے زائد فعال آئس اسٹوپاز بنائے جا چکے ہیں، جن سے گرمیوں میں ہزاروں افراد کو پانی مل رہا ہے۔یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ مقامی سطح کی جدت اور عالمی سائنسی تعاون مل کر حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
جیسے جیسے دنیا 2025 کو ایک نئے سنگ میل کے طور پر دیکھ رہی ہے، یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ گلیشیئر کا تحفظ اب عالمی ترجیح بننا چاہیے۔ ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ موسمیاتی پالیسیوں کو مضبوط کریں،سائنسی مانیٹرنگ میں سرمایہ کاری کریں،پہاڑی علاقوں کی کمزور آبادیوں کی مدد کریں،موافقتی پروگراموں کو وسعت دیں،گرمی بڑھانے والے اخراج میں کمی لائیں،دنیا کے گلیشیئرز کا مستقبل آج کیے گئے فیصلوں پر منحصر ہے۔گلیشیئر کا تحفظ اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کی بقا کا معاملہ بن چکا ہے۔ برف کے بڑے ذخائر کے تیز زوال سے پانی کی قلت، ماحولیاتی عدم توازن اور سمندری سطح میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے۔دنیا بھر کی حکومتوں، سائنس دانوں اور کمیونٹیز کو مل کر ایسے مستقل حل تلاش کرنا ہوں گے جن میں کاربن اخراج میں کمی، گلیشیئر مانیٹرنگ میں بہتری اور تحفظ کے عملی اقدامات شامل ہوں۔فوری اور مشترکہ کارروائی کے بغیر نہ ہم گلیشیئرز کو بچا سکیں گے، نہ ان اربوں انسانوں کا مستقبل محفوظ رہ سکے گا جو ان پر انحصار کرتے ہیں۔
[email protected]