جموں//ٹیچرس جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بینر تلے اساتذہ کی سلسلہ وار بھوک ہڑتال 25ویں روز بھی جاری رہی ۔ہڑتالی اساتذہ نے پریس کلب کے باہر اپنا احتجاج جاری رکھا ۔اس موقعہ پر مقررین نے ریاستی حکومت کو سرو شکھشا ابھیان کے تحت لگائے گئے اساتذہ کی طرف سوتیلا سلوک روا رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ساتویں پے کمیشن سے محروم رکھنے کیلئے انتظامیہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ معماران قوم کو اس طرح ہڑتال کے لئے مجبور کرنا حکومت کی انتہائی بے حسی کی غماز ہے ۔ انہوں نے گورنر سے ذاتی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ملازمین کی طرز پر اساتذہ کو ساتویں پے کمیشن کی ادائیگی کے لئے پچھلے چار ماہ سے مسلسل جد و جہد کی جارہی ہے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر حکام اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں اور نتیجہ کے طور پر انہیں بھوک ہڑتال پر بیٹھنا پڑا ہے ۔یہ اساتذہ جہاں ساتویں پے کمیشن کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں وہیں مرکزی اعانت والی اسکیم سروس شکھشا ابھیان SSAکے تحت تعینات اساتذہ کی تنخواہیں مرکزی بجٹ سے ڈی لنک کر کے انہیں ریاستی بجٹ سے منسلک کرنے کے خواہاں ہیں۔ اساتذہ کی دلیل ہے کہ جہاں انہیں دیگر ریاستی ملازمین کی طرز پر تمام تر مراعات دی جا رہی ہیں، پانچواں اور چھٹا پے کمیشن بھی نافذ کر دیا گیا ہے تو ساتویں پے کمیشن کے اطلاق میں کیا اڑچن ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ ابھی حال ہی میں رہبر تعلیم فورم کے بینر تلے آر ای ٹی پانچ روزہ دھرنا پر تھے تو ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نامی تنظیم کے نمائندے پچھلے 24دنوں سے سلسلہ وار بھوک ہڑتال پر ہیں۔