زراعت
سہیل بشیر کار
کشمیر میں شاید ہی کوئی ہوگا جو ٹماٹر سے واقف نہ ہو،حتیٰ کہ بچوں کو بچپن سے ‘ٹی’ فار ٹماٹو یا ‘ٹ‘ سے ٹماٹر پڑھایا جاتا ہے۔ٹماٹر ایسی سبزی ہے جو ہر گھر میں پکایا جاتا ہے۔کثرت استعمال کی وجہ سے ضرورت ہے کہ اس سبزی کو بڑے پیمانے پر اگایا جائے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹماٹر کے آغاز اور عروج کی کہانی ۔۔۔ٹماٹر اطالوی کھانوں کی علامت ہے۔میکسیکو کے کھانے اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتے اور اس کی بغیر برگر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ٹماٹر کی دریافت سب سے پہلے پیرو میں ہوئی تھی۔ آج ٹماٹر کی عالمی سطح پر مقبولیت اور مقامی کھانوں میں اس کا لازمی استعمال ایک نا قابل تردید حقیقت ہے۔ لیکن دنیا کے اس سفر میں ٹماٹر نے بہت سے نام بدلے ہیں۔یہ بات حتمی طور پر کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ ٹماٹر پیرو سے میکسیکو کب اور کیسے پہنچا۔ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہسپانوی فاتح ہرنان کورٹز نے ٹماٹر کو 1520 ءمیں سپین میں متعارف کرایا۔ سپین سے ٹماٹر اٹلی اور پھر فرانس پہنچا۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹماٹر کی اولین اقسام پیلے رنگ کی تھیں کیونکہ اطالوی اسے سنہرا کہتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انگریزی میں مستعمل نام اس کے اصل نام ’ٹومیٹل‘ کے قریب ترین ہے۔جنوبی یورپ میں ٹماٹر کی قبولیت کے باوجود شمالی یورپ کے لوگ شروع میں ٹماٹر کے استعمال سے گریزاں تھے۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ ٹماٹر بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے جس سے زہریلے پودوں ’نائٹ شیڈ‘ اور ’مینڈریک‘ کا تعلق ہے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید ٹماٹر بھی انہی کی طرح نقصان دہ ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ٹماٹر یورپ میں کھایا جا رہا تھا، انگریز سمجھتے تھے کہ ٹماٹر کا ذائقہ اور خوشبو ناخوشگوار ہے۔لیکن ٹماٹر نے موت اور ذائقہ کے بارے میں ان خدشات پر جلد ہی قابو پا لیا اور اٹھارویں صدی کے درمیان تک ٹماٹر کی ترکیبیں برطانیہ کے باورچی خانوں کی زینت بن چکی تھیں۔دریں اثناء ٹماٹر استعمال کے ساتھ شمالی امریکہ پہنچا لیکن وہاں اسے سجاوٹ کے لئے کام آنے والی خصوصیات کی بناء پر اگایا گیا۔ 1820 ءتک ٹماٹر امریکہ میں بھی مقبولیت کی سند حاصل کر چکا تھا۔ اٹھارویں صدی کے آخر تک ٹماٹر کی کھپت میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔ جوزف کیمپل اور ان کے سوپ کی بدولت 1920 ءسے ٹماٹر کی پیداوار میں اضافہ ہونے لگا۔
ٹماٹر جہاں انتہائی مزیدار سبزی ہے وہیں اس کے بہت سارے طبی فائدے ہیں۔ٹماٹر میں وٹامن اے، وٹامن سی، فائبر، فولیٹ اور کیلشیم جیسے کئی غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ جو صحت کے لیے فائدہ مند تصور کیے جاتے ہیں۔ ٹماٹر میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ جو ذیابیطس، کینسر جیسے کئی بیماریوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ایک حالیہ دریافت کے مطابق ٹماٹر میں ’لائیکوپین‘ نامی مرکب پایا جاتا ہے جو کینسر سے بچاؤ میں مددگار ہوتا ہےٹماٹر میں وٹامن اور منرلز کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے جس میں وٹامن اے، سی، آئرن اور نمکیات کی بھرپور مقدار سرفہرست ہے، اسی لیے اس کے استعمال سے صحت پر بے شمار طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ٹماٹر جِلدی امراض مثلاً کیل، مہاسوں ، دانوں، ایکنی اور جھائیوں کے لیے نہایت مفید ہے۔اس کے استعمال سے رنگت بھی تیزی سے صاف ہوتی ہے۔ٹماٹر میں لائیکوپین اور بیٹا کیروٹین وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو کہ دل اور فالج کے دورے سے بچاتا ہے اور اس کے خطرات کم کرتا ہے۔
کشمیر میں ٹماٹر کا بیج لگانے کا وقت 15 مارچ سے شروع ہوتا ہے۔15 مئی تک ہم ٹماٹر کا بیج ڈال سکتے ہیں،بیج لگانے کے 30 سے 35 دن بعد پنیری کو ٹرانسپلانٹ کرنا چاہیے،اچھی فصل کے لیے raised bed میں بیج ڈالیے، ایک کنال زمین کے لیے 25 سے 30 گرام بیج کافی ہوتا ہے،بیج ہمیشہ اچھی کمپنی کا لگائے۔ عام طور پر phuja، Syngenta, Upl کے HYBRID seeds بہت اچھے ہوتے ہیں۔آج کل مارکیٹ میں ایسے بیج ملتے ہیں جن سے ایک ٹماٹر پیڑ ٹماٹر کے چالیس کلو تک پیداوار دے سکتا ہے، لہٰذا اچھے بیج کا انتخاب سب سے اہم ہے۔اگر آپ نے ابھی تک بیج نہیں ڈالا ہے تو محکمہ زراعت کی کسی نرسری سے اچھی پنیری آپ کو مل جائے گی ۔تیارشدہ نرسری کی منتقلی سے ۲ دن پہلے نرسری میں پانی دینا بند کر دیں تاکہ پودے سخت جان ہو جائیں اور پھر منتقلی سے تقریباً 2یا3گھنٹے پہلے پانی لگائیں تاکہ پودوں کو اُکھاڑنا آسان ہو سکے۔پنیری لگانے سے پہلے زمین کو تین بار جوتیے،ایک کنال زمین میں 15 سے 20 کوئنٹل گھریلو کھاد ڈالیے، ساتھ ہی ورمی کمپوسٹ کا بھی خوب استعمال کیجئے۔اگر آپ کیمیکل کھاد لگانا چاہتے ہیں تو ایک کنال زمین میں 9 کلو یوریا، 10 کلو ڈی اے پی، اور 5 کلو ایم او پی ڈالیے. پنیری لگانے سے پہلے ڈی اے پی، اور ایم او پی اور یوریا آدھا مٹی کے ساتھ ملائے۔ایک جگہ 2 سے 3 ٹماٹر ایک ساتھ لگائیں،ٹماٹر ہمیشہ لین میں لگانے چاہیے ،اس سے staking کرنے میں آسانی ہوتی ہے، قطار سے قطار 60cm جبکہ پودے سے پودے میں 45cm کا فاصلہ ضرور رکھیے۔ٹماٹر میں اکثر بیماریاں soil born ہوتی ہے ،لہٰذا ٹماٹر میں staking ضرور کیجئے۔اس سے ٹماٹر خراب نہیں ہوتے۔وہ برانچ جو زمین سے لگنے لگے ان کو کاٹیے، ہر پندرہ دن بعد ٹماٹروں میں گوڈائی کیجئے اور سینچائی irrigation ہر 7 روز بعد کیجئے۔ٹماٹر کے آس پاس گھاس اگنے نہیں دیجئے۔آجکل مارکیٹ میں cherry Tomato بھی ملتے ہیں،ان کا ذائقہ عمدہ ہوتا ہے۔سلاد میں اس کا استعمال کیجئے پکانے میں بھی یہ بہت ہی لذید ہوتے ہیں، ان کو بھی اُگائیں۔جب ٹماٹر تیار ہوں ان کی picking کیجئے ،چونکہ ٹماٹر کی شلف لائف زیادہ نہیں ہوتی، لہٰذا اس کی puri بناے اور یہ puri آپ سال بھر استعمال کر سکتے ہیں۔
(بارہمولہ ،رابطہ۔ 9906653927)
����������������